Daily Mashriq


پی ایس ایل میچز کا مثبت پیغام

پی ایس ایل میچز کا مثبت پیغام

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی بحالی، امن کا قیام اور کھیلوں کا فروغ حکومتی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ہمیشہ ملک کو اندھیروں سے نکال کر روشنیوں سے ہمکنار کیا۔کراچی میں پی ایس ایل کے فائنل کا انعقاد اس شہر بے مثال کے عالمی تشخص میں تبدیلی لائے گا۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے امن اور خوشیوں کی بحالی میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے ویژن،صوبائی حکومت کے تعاون،پاکستان کی مسلح افواج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں کا اہم کردار شامل ہے۔ پاکستان مسلم لیگ(ن)کی رہنما مریم نواز نے کراچی میں پی ایس ایل کے فائنل کے انعقاد پر کہا کہ کراچی میں جہاں ہڑتال ہوتی تھی اب انٹرنیشنل کرکٹ لوٹ آئی ہے، آصف زرداری کی حکومت بھی یہ کام نہ کرسکی۔دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے مریم نواز کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے حالات بگاڑنے میں آپ کے ابا حضور کا بھی ہاتھ تھا ، سوات آپریشن سے متعلق نواز شریف کا بیانیہ ریکارڈ پر ہے۔کراچی میں پی ایس ایل کے اختتامی میچ کے کامیاب انعقاد پر وزیر اعظم پاکستان کا بیان تو متوازن اور برحق ہے لیکن سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنی ٹویٹ کے ایک حصے میں پی پی پی پر تنقید کرکے یکجہتی اور خوشی کے ایک موقع کو آلودہ کرنے کی کوشش کی ہے جو مناسب نہ تھا جبکہ جوابی بیان میں مزید الزام سیاسی طور پر آنا فطری امر تھا۔ ہمارے تئیں سیاستدانوں کے پاس روزانہ درجنوں مواقع اور ذرائع با آسانی میسر ہوتے ہیں اس قسم کے موقع کا کریڈٹ لینے کی حد تک تو گنجائش ہے لیکن دوسروں پر انگشت نمائی مناسب طرز عمل نہیں۔ کراچی جن حالات سے گزر چکا وہ فراموش کرنے کا حامل معاملہ نہیں پوری قوم ایک عذاب سے گزر چکی ہے ہزاروں افراد کی جانیں ضائع ہوئیں ‘ کاروبار متاثر ہوئے اورمجموعی قومی معیشت متاثر ہوئی۔ اس ضمن میں اس حد تک کریڈٹ بہر حال موجودہ حکومت کے حصے میں ضرور آتا ہے کہ سنجیدہ مساعی کے ذریعے کراچی میں امن قائم ہوا اور پاکستان سے گئی کرکٹ کی رونقیں لوٹنے لگی ہیں لیکن یہ صرف مرکزی حکومت کا کارنامہ نہیں کہ اس کا سارا کریڈٹ سیاسی عناصر کو ملے۔ کراچی میں امن کی بحالی کے لئے دی گئی پولیس کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ رینجرز اور پاک فوج کے ساتھ ساتھ حساس اداروں کی قربانیاں اور کاوشیں کوئی پوشیدہ امور نہیں۔ جس کراچی میں الطاف حسین کے ایک اشارے پر لاشیں گرتی تھیں اور پورا کراچی بند ہوتا تھا باغیانہ الفاظ کا استعمال معمول تھا جب وفاقی وزیر داخلہ نے اب کوئی کراچی بند کرکے دکھائے کا کھلے عام چیلنج دیا تو اس چیلنج کا چہرہ بلا شبہ وہی تھے مگر اس کی معاونت وزارت داخلہ کی ذیلی تمام طاقتوں کے ساتھ ساتھ وزارت دفاع بھی کراچی میں رونقیں لوٹانے اور چیلنج کو کامیاب بنانے میں پوری طرح شریک تھی۔ اسی طرح سندھ حکومت اور خاص طور پر سندھ پولیس اور رینجرز کا کردار اہمیت کاحامل تھا یہاں پر بہر حال اس امر کا کریڈٹ مرکزی حکومت کو ضرور جاتا ہے کہ وفاقی حکومت نے ایک ایسا سخت سیاسی و انتظامی قدم اٹھایا کہ ملکی اداروں کو اپنا کام کرنے کا پورا پورا موقع ملا۔ صرف کراچی ہی میں نہیں قبائلی علاقہ جات کی تطہیر کے لئے بھی جب پاک فوج پوری طرح حرکت میں آئی اس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاستدانوں کو کم از کم اب اتنا برد بار ضرور ہونا چاہئے کہ وہ خوشی و یکجہتی کے مواقع کو نہ تو متنازعہ بنائیں اور نہ ہی یکطرفہ کریڈٹ لینے کی کوشش کی جائے۔ جہاں تک کراچی میں پی ایس ایل کے فائنل کے کامیاب اور پر امن انعقاد کا تعلق ہے یقینا اس کا مثبت اثر ہوگا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال دو سیمی فائنل اور فائنل میچز کا کامیاب اور پر امن انعقاد بہت بڑی کامیابی ہے جس سے پاکستان کے داخلی حالات کے مستحکم ہونے اور پاکستان میں امن کی مکمل بحالی کا دنیا کو پیغام ملا۔ ماضی قریب میں وطن عزیز میں امن و امان کی خراب صورتحال کوئی پوشیدہ امر نہ تھا اور نہ ہی دنیا کا پاکستان کے حالات اور امن و امان کی صورتحال بارے تشویش کی کوئی ڈھکی چھپی بات رہی ہے ۔ گزشتہ سال لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل سے جو مثبت تاثر قائم ہوا تھا اس سال تین اہم میچوں کے انعقاد سے اس مثبت تاثر کا پختہ ہونا فطری امر ہے جس کے بعد پاکستان کی سیاحت کے منتظر سیاحوں کو پاکستان کی سیاحت کے لئے آنے کا حوصلہ ملے گا اور وہ پر اعتماد طریقے سے پاکستان آنے کا فیصلہ کرسکیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ پاکستان میں سرمایہ کاری کے منتظر کاروباری افراد کو اب پاکستان میں سرمایہ کاری پر خطر نہیں منافع بخش اور پر کشش محسوس ہوگا۔ سیاحت کے فروغ اور معاشی و کاروباری سرگرمیوں میں تیزی تیسرے پی ایس ایل کا وطن عزیز کو تحفہ ہوگا۔ روشنیوں کے شہر کراچی کی روشنیوں کا پھر سے جگمگا جانا ملک بھر اور بیرون ملک کراچی کی طرف متوجہ ہونے اور پاکستان کے حالات میں استحکام آنے کاعملی پیام ہیں جو سیاستدانوں اور حکمرانوں سے بھی اس امر کا متقاضی ہے کہ وہ کراچی کی صورتحال کو مزید بہتر اور پر اعتماد بنانے میں کردار ادا کریں نہ کہ اس پرمسرت موقع کو بھی گندی سیاست کی نذرکیا جائے۔

متعلقہ خبریں