Daily Mashriq


این اے ون چترال ہونے پر بلاجواز کے اعتراضات

این اے ون چترال ہونے پر بلاجواز کے اعتراضات

حلقہ بندیوں کی نئی ترتیب کے مطابق پشاور کی بجائے چترال کو حلقہ نمبر ون ملنے پر پشاور کی تاریخی شناخت مسخ ہونے کا واویلا کرنے والوں کی سوچ پر ماتم کرنے کی ضرورت ہے۔ پشاور کی تاریخی حیثیت قومی اسمبلی کی حلقہ بندی سے عبارت نہیں اور نہ ہی حلقہ بندیوں کا آغاز یہاں سے نہ ہونے پر اس کی مرکزیت اور شناخت کو کوئی خطرہ درپیش ہے۔ پشاور صوبائی دارالحکومت ہے جہاں مرکز کا نمائندہ بھی بیٹھتا ہے اور صوبے کے چیف ایگزیکٹو کا دفتر بھی یہیں واقع ہے۔ مستزاد کور کمانڈر پشاور بھی یہیں بیٹھتا ہے۔ چیف سیکرٹری بھی پشاور ہی میں ہوتے ہیں تمام اہم وفاقی و صوبائی دفاتر اسی شہر میں موجود ہیں۔ حلقہ بندی کی ترتیب میں محض نمبربدلنے سے نہ تو پشاور کے مسائل میں اضافہ ہوگا اور نہ ہی اس کی تاریخی و قدیم حیثیت اور مرکزیت میں کوئی فرق آئے گا۔ اگرچہ پشاور اور چترال کا تقابل تفریق اور تعصب پر مبنی ذہنیت کی عکاسی ہوگی لیکن معترضین کے اعتراضات کے جواب میں اگر یہ دلیل دی جائے کہ دنیا بھر میں حلقہ بندیاں شمال سے شروع کرنے کا رواج ہے جبکہ چترال بام پاکستان کا درجہ رکھتا ہے اور ملک کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع ہے اور اس قدر بڑا ضلع ہے کہ اس کا تقابل رقبے کے لحاظ سے ہزارہ ڈویژن سے کیاجاسکتا ہے ۔ اور بھی کئی توجیہات پیش کی جاسکتی ہیں جس کی ضرورت نہیں۔ پشاور صوبائی دارالحکومت ہے اور چترال اس صوبے کا ضلع ہے۔ این اے ون چترال ہو یا پشاور دونوں ہی پاک وطن کاحصہ ہیں دونوں علاقوں کے عوام محب وطن پاکستانی اور رواداری کی مثال ہیں اس طرح کے اعتراضات کرنے والوں کی مخصوص ذہنیت سے تضادات اور کدورت تو پیدا ہوسکتی ہے اور خواہ مخواہ کی فضول بحث چھڑ سکتی ہے جس سے گریز کی ضرورت ہے۔ معترضین کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ ان کے اعتراضات اور تحفظات کے اظہار سے نہ تو حلقہ نمبر دوبارہ تبدیل ہوسکتا ہے اور نہ ہی ان کے اعتراض کی کوئی قانونی اور آئینی حیثیت ہے کہ مجاز فورم سے رجوع کیا جاسکے۔ پاکستان کا ہر حلقہ قومی حلقہ ہے اور جو شخص جہاں سے الیکشن لڑنا چاہے قانون کے مطابق ان کو اس کی مکمل آزادی ہے۔ چترال سے محترمہ نصرت بھٹو مرحومہ جیسی شخصیات انتخاب لڑ چکی ہیں اور سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف بھی اس حلقے سے کاغذات نامزدگی جمع کرا چکے ہیں اور اب بھی وہ چترال ہی سے بشرط اہلیت الیکشن لڑنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ماضی میں جو لوگ این اے ون سے الیکشن لڑ چکے ہیں انہوں نے حلقے کے عوام کے لئے کیا کیا اور قبضہ مافیا کی کتنی سرپرستی کی اس سے پشاور کے لوگ بخوبی واقف ہیں۔ بہتر ہوگا کہ نان ایشوز کی بجائے ایشوز کی سیاست کی جائے اور لوگوں میں خلیج بڑھانے کی بجائے اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔ عوام کی نمائندگی حلقہ نمبروں سے نہیں ہوتی حلقہ نمبر جو بھی ہوں عوام کی خدمت مقدم ہونی چاہئے۔

بی آر ٹی‘ بار بار اور بے ڈھنگ تبدیلی

ریپڈ بس منصوبے کے لئے ٹریک اور سٹیشنز کی تعمیر کے منصوبے میں بار بار تبدیلی سے اس کے غیر ملکی کنٹریکٹرز ہی نہیں اکتا گئے ہیں بلکہ نا قص اور غلط منصوبہ بندی کے باعث شہر کا حلیہ بگڑ کر رہ گیا ہے اور مزید بگاڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ پشاور کے تاریخی جناح پارک اور ملک سعد فلائی اوور کے ایک حصے کی مسماری کی قربانی سے اگر یہ منصوبہ مکمل ہوتا ہے تو اس کی بھینٹ بھی برداشت ہے مگر یہاں آگے آگے ہوتا ہے کیا والی صورتحال لگتی ہے اور بعید نہیں کہ آئندہ کے اقدامات پر شہر کا کاروباری طبقہ سراپا احتجاج بن جائے۔ فی الوقت نشان زدہ مقامات اور عمارتوں کو توڑنے اور ہٹانے کا کام شروع نہیں کیا گیا ہے لیکن اس کا امکان بعید نہیں جس کے لئے کاروباری طبقے کو خاص طور پر عمارتوں کے مالکان کو بالعموم تیار رہنا چاہئے۔ سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ ریپڈ بس منصوبے میں کبھی پل بنانے کا منصوبہ شامل کردیا جاتا ہے اور اس کے لئے سڑک کی توڑ پھوڑ بھی ہوچکی ہوتی ہے کہ اچانک منصوبے میں تبدیلی کردی جاتی ہے۔ جناح پارک اورملک سعد پل کے ایک حصے کی مسماری بھی منصوبے کے ڈیزائن میں دوسری بلکہ تیسری تبدیلی ہے۔ اس طرح کی بار بار کی تبدیلیوں سے جہاں تعمیراتی کام میں تاخیر اور لاگت میں اضافہ ہوتا ہے وہاں شہری کی بڑھتی مشکلات کے باعث بیزار آچکے ہیں۔ صوبائی حکومت اور اس کے منصوبہ سازوں کے حق میں بہتر یہی تھا کہ وہ سوچ سمجھ کر اور منصوبے کا تفصیلی جائزہ لے کرکام شروع کرتے یا پھر ایک آدھ مرتبہ ناگزیر تبدیلی کرتے بار بار کی تبدیلیوں سے منصوبے کا حلیہ ہی نہیں بگڑا بلکہ شہر کا حلیہ بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے جس سے گریز کیا جانا چاہئے۔توقع کی جانی چاہئے کہ بی آر ٹی منصوبے میں مزید تجربات سے گریز کیا جائے گا اور اس کی بروقت تکمیل کا وعدہ ایفا ہوگا۔

متعلقہ خبریں