Daily Mashriq


دودھ کی نہر پر ویز کے کام آئی ہے

دودھ کی نہر پر ویز کے کام آئی ہے

اپنے ہی بھانڈا پھوڑتے ہیں ،یعنی گھر کے بیدی ہی لنکا ڈھاتے ہیں ، اور یہ لنکا دراصل سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے یوں ڈھائی گئی ہے کہ تحریک انصاف کے اپنے اراکین صوبائی اسمبلی کو ووٹ کے لئے بھاری رقوم ادا کرنے کے مبینہ ثبوت منظر عام پر لانے میں خود تحریک ہی کے اراکین خیبرپختونخوا اسمبلی نے اہم کردار ادا کیا ہے ، پارٹی کے ایم پی ایز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سینیٹ میں پارٹی امیدوار وں کو ووٹ ڈالنے کیلئے جورقوم دی گئی تھیں اب وہ ان سے واپس مانگی جارہی ہیں تاہم رقم واپس مانگنے میں مبینہ ملوث پارٹی کے نومنتخب سینیٹر نے ایسے کسی اقدام سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دراصل ایم پی ایز سے رابطہ کرکے اگلے الیکشن میں پارٹی ٹکٹس کے معاملے پر بات کی ہے ، اس صورتحال پر ہمیں وہ لطیفہ یاد آگیا جس میںڈاکو ایک رقاصہ کو اپنے اڈے پر بلوا کر اس کے مجرے سے خوب لطف اندوز ہوتے ہوئے نوٹوں کی بوریاں اس پر نچھاور کر لیتے ہیں ، اور رات بھر ناچ گانے سے حظ اٹھانے کے بعد صبح رقاصہ اور اس کے ساتھی سازندوں کو بڑے احترام سے رخصت کردیتے ہیں ،وہ لوگ دولت سے بھرے ہوئے تھیلے اپنی گاڑیوں میں رکھ کر خوش خوش وہاں سے چل پڑتے ہیں ۔ اچانک ایک پہاڑ کی اوٹ سے کچھ لٹیرے نکل آتے ہیں اور انہیں روک کر لوٹ مار شروع کر دیتے ہیں ۔ ایک لٹیرے کے چہرے سے نقاب سرک جاتا ہے تو لٹنے والے سازندے اور رقاصہ یہ دیکھ کر حیران ہو جاتی ہے کہ یہ تو وہی ڈاکو ہیں جن کو لبھانے کیلئے وہ ساری رات محفل طرب برپا رکھے ہوئے تھے ، رقاصہ معصومیت سے سوال کرتی ہے ، حضور یہ رقم تو آپ لوگوں نے ہی دی تھی تو پھر یہ لوٹ مار کیوں ؟ ڈاکوئوں کا سردار جواب دیتا ہے ، تم لوگوں نے ہمیں ناچ گا کر خوش کیا تو ہم نے اس کا معاوضہ ادا کردیا ، یہ ہمارا فرض تھا ، مگر یہ جو ہم لوٹ مار کر رہے ہیں تو یہ ہماری مجبوری ہے کہ ہم تو لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کر کے ہی زندہ رہتے ہیں ۔ ایسے موقعوں پر اکثر ایک پاکستانی فلم سرفروش بھی یاد آجاتی ہے جو ہمارے لڑکپن کے دور میں آئی تھی ، اس میں صبیحہ خانم شہزادی ہو تی ہے جبکہ شاہی محل میں چوری کرنے سنتوش کمار (اصل نام موسیٰ ) آتا ہے۔ وہ شاہی سپاہیوں سے بچتے بچتے شہزادی کے کمرے میں پناہ لیتا ہے ، شہزادی اس کے حسن سے متاثر ہو کر سپاہیوں سے جھوٹ بولتی ہے کہ یہاں کوئی چور نہیں آیا ، سپاہی واپس جاتے ہیں تو اتنے میں فجر کی اذان ہوتی ہے ، ڈاکو وہیں نیت باندھ کر نماز ادا کرتا ہے نماز کے اختتام پر شہزادی ڈاکو سے پوچھتی ہے ، یہ کیا ، چوری بھی اور نماز بھی ، وہ جواب دیتا ہے کہ چوری میرا پیشہ اور نماز فرض ہے ، یہ کہہ کر وہ کھڑکی سے چھلانگ لگا کر سیدھے اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر جا بیٹھتا ہے شہزادی کے دل پر کیو یڈ کے تیر چلا کر چلا جاتا ہے یعنی بقول مرزا داغ دہلوی

فتنہ پرداز ، دغا باز ، فسوںگر ، عیار

ہائے افسوس دل آیا بھی تو کس پر آیا

ویسے اس ساری صورتحال کو اس کنجوس باپ کے نقطئہ نظر سے بھی دیکھا جا سکتا ہے ، جس نے اپنے بچوں کے سامنے یہ شرط رکھی کہ اگر وہ رات کے کھانے کا تقاضا نہیں کریں گے تو انعام کے طور پر ہر ایک کو ایک ایک روپیہ (تب روپے کی قدر بہت تھی ) دیا جائے گا ۔ بچوں نے روپوں کی لالچ میں کھانا نہ کھانے کی حامی بھرلی ، باپ نے حسب وعدہ سب بچوں کو ایک ایک روپیہ تھما دیا ، اور وہ بے چارے بھوکے ہی سوگئے ، صبح اٹھ کر باپ نے بچوں کو پھر کہا ، جس جس نے ناشتہ کرنا ہے وہ ایک ایک روپیہ دے ورنہ ناشتہ نہیںملے گا ، بچے حیرت سے باپ کی شکل تکنے لگے مگر رات کے فاقے کے بعد صبح ناشتہ کیسے نہ کرتے سو مجبوراً باپ کے دیئے ہوئے روپے واپس کر دیئے۔ اب اس معاملے میں بھی یہی کہا جارہا ہے کہ ایم پی ایز کو فون اس لئے نہیں کئے گئے تھے کہ ان سے رقم کا تقاضہ مقصود تھا بلکہ دراصل ان کے ساتھ آنے والے الیکشن کے ضمن میں ٹکٹو ں کی تقسیم پر گفتگو کر نی تھی ۔ سبحان اللہ ، کیا استدلال ہے ، حالانکہ خبردینے والے صحافی کے مطابق جب موصوف سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پارٹی ٹکٹس جاری کرنے کے مجاز ہیں ؟ تو موصوف نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ تاہم نومنتخب سینیٹر کے اس استدلال کو دیکھ کر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ آگ لینے کو آئے پیمبری مل جائے ، بلکہ اسے پشتو کی ایک ضرب المثل کے مطابق یوں بھی واضح کیا جا سکتا ہے کہ ’’اور لہ راغلے ، دکو ر مالک شوے ‘‘ بات وہی مصرعے والی ہے یعنی آگ تاپنے آئے کہ سردی سے گلو خلاصی ہو ، اور خود ہی گھر کے مالک بن بیٹھے ، بات تو سمجھ میں آنے والی ہے کہ کیا آپ ٹکٹوں کے اجراء پر قادر ہیں ؟ حالانکہ یہ کام تو ہر جماعت کے اندر ایک کمیٹی کرتی ہے جو اسی مقصد کیلئے مقرر کی جاتی ہے ، تاہم اس ’’دعوے ‘‘ کو بھی ایک اور رکن عبیداللہ مایار نے طشت ازبام کردیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں کالز کر کے وہ رقوم واپس مانگی جارہی ہیں اور ساتھ میں دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں کہ پیسے واپس نہ کرنے پر آئندہ عام انتخابات میں ان ایم پی ایز کو پارٹی ٹکٹ سے محروم ہونا پڑے گا ۔ اس سارے قضیئے کا انجام کیا ہوتا ہے یہ تو ہم نہیں جانتے تاہم وہ جو ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہونے والوں کے خلاف پارٹی کی سطح پر اقدام کی بات کی گئی تھی وہ وعدہ کیا ہوا اور جب رقوم لینے اور دینے والے خود بول پڑے ہیں تواس پر کیا سومو ٹو نوٹس نہیں بنتا کہ یہ تو ہے ہی جرم ؟ بقول عامر مرحوم

پھر وہی ہم ہیں وہی تیشئہ رسوائی ہے

دودھ کی نہر تو پرویز کے کام آئی ہے

متعلقہ خبریں