Daily Mashriq


ہمارا قومی مزاج

ہمارا قومی مزاج

کل ایک مہربان اپنے ڈیپریشن کا احوال سنانے لگے ان کی باتیں سن کر ہم بھی پریشان ہو گئے جن حالات کا تذکرہ وہ کر رہے تھے ان میں ڈیپریشن کا شکار ہوجانا تو معمول کی بات لگتی ہے کسی مرد دانا کا قول ہے کہ خوشی دو غموں کے درمیانی وقفے کا نام ہے اسی طرح ہر دانش ورنے خوشیوں کے حصول کا کوئی نہ کوئی طریقہ سکھانے کی اپنی سی کوشش کی ہے مارک ٹوئین کہتا ہے ۔ اچھے دوست، اچھی کتابیں اور سویا ہوا شعور ہی اصل زندگی ہے اچھی صحت اور کمزور حافظہ بھی انسان کو خوشیاں دینے میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔کمزور حافظے کی مدد سے انسان زندگی کی تلخیاں بہت جلد فراموش کر دیتا ہے اور اچھی صحت اسے بیماریوں کے دکھ سے اپنی پناہ میں رکھتی ہے۔ ورنہ لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیںجنہیں دنیا کی ہر نعمت حاصل ہے لیکن وہ اچھی صحت سے محروم ہونے کی وجہ سے موت کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں ۔ دوسری طرف دیکھیے تو کیسے کیسے تندرست و توانا جوان بے روزگاری کی وجہ سے مارے مارے پھرتے ہیں۔ درخواستیں دے دے کر ان کا کباڑا نکل چکا ہے ۔ اتنے انٹرویو دے چکے ہیں کہ جن کا شمار بھی ممکن نہیں ہے لیکن ہنوز ملازمت کالے گلاب کی طرح نا یا ب ہے۔ ان سے ملاقات ہو تو بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں ان کی بات درست ہے اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ آج کل ملازمت کا حصول بچوں کا کھیل نہیں ہے اس کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں کچھ ایسے مقامات بھی آتے جن کو خوف فساد خلق کی وجہ سے ہم لکھنا بھی چاہیں تو نہیں لکھ سکتے یہاں بڑے بڑے جغادریوں کے پر جلتے ہیں۔ چند دن پہلے ہم نے ایک رسالے میں ایک مضمون پڑھا جس میں کامیابی حاصل کرنے کے اسرارو رموز بتائے گئے تھے۔ مضمون نگار لکھتا ہے کہ سوچنے کے لیے کچھ وقت ضرور نکالیے یورپ میں بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کومہینے میں ایک آدھ دن صرف اس لیے دیتی ہیں کہ وہ اپنے لیے کوئی ایسا پراجیکٹ چنیں اس پر کام کریں اور سوچیں کہ وہ کمپنی کی ترقی کے لیے کس طرح سود مند ہو سکتا ہے۔ہم یہ کہتے ہیں کہ بھائی بڑے لوگوں کی بڑی باتیں اگر آپ اپنے ادارے کے لیے کچھ نہیں سوچ سکتے تو اپنی ذات کے لیے تو سوچنے کا اہتمام کیا جاسکتا ہے بہت سے چھوٹے چھوٹے نقا ئص تھوڑی سی سوچ بچار کے بعد دور کیے جاسکتے ہیں۔دوسرا طریقہ یہ تھا کہ کام کو کھیل سمجھ لیں اس طرح آپ کی دلچسپی بڑھ جائے گی اور آپ تھوڑی دیر میں زیادہ اور بہتر کام کرنے کے قابل ہو جائیں گے ہمیں طریقہ نمبر دو پڑھ کر بڑے زور کی ہنسی آئی۔ ارے بھائی جو طریقہ آپ بڑے فخر سے ہمیں بتا رہے ہیں اس پر تو ہم سالہا سال سے عمل پیرا ہیں ہمارے ہاں تو کام کو کھیل ہی سمجھا جاتا ہے اگر ہم لوگ اپنے کام سنجیدگی سے کرنا شروع کردیں تو بیمار پڑ جائیں یہی تو ہماری کامیابی کا راز ہے۔آپ کسی بہت ہی اہم کام کے لیے کسی دفتر تشریف لے جائیے تو پہلے تو آپ کو بابو صاحب اپنی سیٹ پر نہیں ملیں گے اور اگر خوش قسمتی سے مل بھی گئے تو پھر فائل صاحب سے واپس نہیں آئی ہوگی۔ وہ آپ سے مسکراتے ہوئے کہیں گے جناب فائل آجائے تو پھر کچھ کرتے ہیں ۔اب ایک نظر صاحب کے دفتر پر بھی ڈال لیجیے صاحب کے پاس فائلوں کا ڈھیر میز پر پڑا ہے وہ کسی کے ساتھ سرکاری فون پر ایک طویل گفتگو میں مصروف ہیں۔ وہ کام کو کھیل ہی تو سمجھتے ہیں ورنہ ان کی میز پر ایک فائل بھی نہ ہوتی ۔تھوڑی دیر کے لیے واپڈا کی طرف چلتے ہیں آپ کا بل آیا تو آپ استعمال شدہ یونٹ کی تعداد دیکھ کر کانپ اٹھے جب آپ نے اپنے میٹر پر موجود ریڈنگ دیکھی تو سینکڑوں یونٹس کا فرق نکلا۔ آپ کو بڑا غصہ بھی آیا اور افسوس بھی ہوا کہ جب بجلی کے یونٹ کی ایک قیمت مقرر ہے اور میں اس قیمت کے مطابق بل جمع بھی کر واتا ہوں تو پھر میرے بل میں اضافی یونٹس کیوں ڈالے جاتے ہیں۔ یہ ظلم ہے اندھیر نگری اور چوپٹ راج والی بات ہے ۔فالتو یونٹس کا ایک بہت بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ ان کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔آپ اپنے بل کے ساتھ واپڈا کے دفتر پہنچ جاتے ہیں ایس ڈی او صاحب سے ملتے ہیں وہ آپ سے معذرت کرتے ہوئے آپ کو متعلقہ کلرک کے پاس بھجوا دیتا ہے۔ واپڈا میں بل کی درستی کا کوئی رواج نہیں بس آپ سے کہہ دیا جائے گا کہ یہ بل دو تین قسطوں میں جمع کروا دینا۔ایک انسان کا معاشی قتل کیا جارہا ہے اور واپڈا والے اسے کھیل سمجھ رہے ہیں! سفید پوش آدمی کی جان عذاب میں ہے اگر بجلی کا بل جمع ہونے سے رہ جائے تو اگلے بل کے ساتھ بجلی کاٹنے کا نوٹس آجاتا ہے۔

آپ کھانے کے ساتھ ادھار کرسکتے ہیں لیکن بجلی کے بل کا ادھار نہیں کیا جاسکتا!اب ایسے حالات میں ڈیپریشن تو ہونا ہے۔ ارے بھائی کام کو تو چھوڑو ہمارے ہاں دودھ میں پانی ملانا کھیل ہے۔ جعلی دوائیوں کا کاروبار کرنا کھیل ہے۔ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کھیل،رشوت لینا کھیل، تجاوزات کھیل، اقربا پروری کھیل، سفارش کھیل، ذخیرہ اندوزی کھیل اور جو سچ مچ کے کھیل ہیںوہاں ہم نے پیسہ بنانا شروع کردیا ہے یا پھر سفارش اور اقربا پروری کے ہاتھوں بہترین اور با صلاحیت کھلاڑیوں کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے اور اپنے منظور نظر کھلاڑیوں کوقومی ٹیم کا حصہ بنادیا جاتا ہے۔ کبھی سکواش، ہاکی ،باکسنگ ،کرکٹ اور دوسرے بہت سے کھیلوں میں پاکستان کی اپنی شناخت ہوا کرتی تھی لیکن آج کی صورتحال دیکھ کر دکھ ہوتا ہے ۔یوں کہیے جو سنجیدہ کام ہیں ہم نے انہیں کھیل سمجھ رکھا ہے! اس قسم کی حرکتیں تو اب ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے ۔

متعلقہ خبریں