افغانستان‘ ایک عجیب ملک!

افغانستان‘ ایک عجیب ملک!

جدید دنیا یعنی اٹھارہویں صدی سے لے کر آج تک شاید ہی دنیا میں کوئی دوسرا ملک افغانستان جیسا ہو۔سکندر اعظم کے ساتھ افغانوں کی مڈھ بھیڑ چھوڑیں کہ وہ اب قدیم تاریخ کا حصہ ہے۔ برطانیہ کے ساتھ تین جنگیں‘ پھر روس جیسے سپر پاور کے ساتھ سینگ اڑانا اور اب گزشتہ ڈیڑھ عشرے بلکہ 18برس سے امریکہ جیسے سپر پاور کو ایسے الجھایا ہے کہ امریکہ افغانستان میں فتح حاصل کرنہیں سکتا اور شکست کا داغ لینے کے لئے تیار نہیں کیونکہ اس سے سپر پاور کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگے گا۔ افغانستان کے جغرافیے ‘ محل وقوع‘ ریگزاروں‘ برف پوش سر بفلک پہاڑوں اور سب سے بڑھ کر اپنی نوعیت اور ساخت و فطرت کی حامل افغان قوم جس کی اپنی سائیکی اور فلاسفی ہے نے اسے ایک معمہ‘ گنجلک اور بہت سارے اچھے اچھوںکو سمجھ نہ آنے والا ملک بنا دیا ہے۔برطانیہ کسی زمانے میں اس پر قبضہ کرنے کا اس لئے خواہش مند تھا کہ وہ روسی انقلاب کو (سوشلزم اور اس کے اثرات) کو دریا آموں کے پار ہی محدود رکھنا چاہ رہا تھا۔ اور یہ کشمکش ڈیورنڈ لائن معاہدہ کے ساتھ اس طرح ختم ہوئی کہ روس اور برطانوی ہند کے درمیان افغانستان بفر زون بن گیا۔ لیکن روس برابر اس کوشش میں لگا رہا کہ کسی نہ کسی طرح افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھائے اور پھر 1970ء کے عشرے تک افغان نوجوانوں میں نور محمد ترکئی‘ حفیظ اللہ آمین اور ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب اللہ کی صورت میں روس کو ایسے نوجوان آخر کار میسر ہی آئے جن کی مدد سے سرخ انقلاب برپا کرنے کے لئے روسی افواج نے دریائے آموں کو پار کرکے کابل میں ڈیرے ڈال دئیے۔ افغانستان میں برطانیہ اور روس کو شدید ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اور ان دونوں کے خلاف مزاحمت کے پیچھے مذہبی قوت یعنی علماء کرام اور افغانی عوام کی سادہ طریقے اور بغیر فلسفیانہ موشگافیوں کے اسلام پسندی کی طاقت تھی۔ عام آدمی برطانوی فرنگی کو کافر سمجھتا تھا اور اسی تناظر میں لیتا تھا جس میں علماء راسخین نے قرآن و سنت کے مطابق سمجھا تھا۔ روس کو تو دہریت‘ کمیونزم اور سوشلزم کے سبب ’’ سرخ کافر‘‘ تسلیم کیا جاتا تھا۔ برطانیہ کے خلاف افغانی مزاحمت میں علمائے ہند اور ان کے زیر اثر مسلمان عوام بھی افغان مجاہدین کے پشتیبان تھے کیونکہ وہ بھی ہندوستان پر برطانوی استعمار کے خلاف اور جدوجہد آزادی کے لئے کوشاں تھے۔ اس لئے وہ افغانوں کی ممکنہ مدد کے ساتھ ساتھ ان کے لئے دعا گو بھی تھے۔ تحریک ریشمی رومال اور تحریک ہجرت کے پیچھے یہی آزادی کی خواہش ہی کار فرما تھی ار اس زمانے میں یہ شعر زبان زد عام تھا
اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستان کا ہر پیر و جوان بے تاب ہو جائے
امریکہ کی عارضی خوش قسمتی یہ رہی کہ 9/11 کا واقعہ ہوا اور اس کی آڑ میں دہشت گردی عام ہوئی۔ مسلمان اقوام اور ملل اس پورے قصے اور اس کے ما بعد نتائج کا ادراک نہ کرسکے۔ درمیان کے برسوں میں مسلمانوں کے دشمنوں نے بہت بڑا کھیل یہ کھیلا کہ ہمارے اپنے ہی لوگوں کو ہمارے عوام اور افواج کے درمیان مورچوں میں اور خود کش حملوں کے لئے تیار کروا کر لا بٹھایا۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی چھتری کے نیچے افغانستان پر گویا قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی۔ وہ دن اور آج کا دن‘ افغانستان اور پاکستان کا جو جانی اور مالی نقصان ہوا اور ہو رہا ہے وہ شاید اس سے پہلے کبھی اس خطے کی تاریخ میں نہیں ہوا تھا۔ المیہ اور لمحہ فکریہ ملاحظہ کیجئے کہ وہ پاکستان اور افغانستان جو کبھی برطانوی اور روسی استعمار کے خلاف شیر و شکر تھے آج ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں اور اس میں یار لوگوں نے بڑی غلط فہمیاں پھیلائی ہیں۔
لیکن اس وقت ایک نئی اور عجیب صورتحال آن پڑی ہے‘ اوبامہ دور کے بعد لوگوں کا خیال تھا کہ ٹرمپ ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘ کے نعرہ کے تحت افغانستان سے امریکی افواج نکال کر اربوں ڈالر کے سالانہ اخراجات کی بچت کریں گے لیکن اس نے تو مزید افواج بھیج دیں۔ در اصل ٹرمپ افغانستان کی جنگ میں فتح کے حصول کے لئے بہت بے تاب و بے قرار ہیں۔ لیکن وہ اس عجیب ملک و قوم کی تاریخ‘ جغرافیہ اور نفسیات سے پوری طرح واقف نہیں بلکہ اپنے پیشرو اوبامہ کی طرح اصل اور زمینی صورتحال کو سمجھنے میں مشکلات کے شکار ہیں لیکن اس کا اظہار بھی کھلے عام نہیں کر رہے۔ وسط ایشیا کا یہ عجیب ملک بیرونی حملہ آور تو کیا اپنے کسی ایسے ویسے کو نہیں مانتا۔ یہی وجہ ہے کہ کرزئی اور اشرف غنی کابل تک محدود تھے اور ہیں۔ اس عجیب ملک کے عوام کی مزاحمت جاری ہے اور انہوں نے ہمیشہ اپنی تاریخ خون سے رقم کی ہے۔ امریکہ میں وزیر خارجہ اور سی آئی اے کے ہیڈ کی تبدیلیاں بے چینی کا اظہار ہے۔ اس میں شک نہیں کہ امریکہ کو افغانستان میں واضح عسکری برتری حاصل ہے لیکن افغانستان میں طالبان کو جو تزویراتی برتری حاصل ہے وہ اس جنگ کو مزید طول دے سکتی ہے اور شاید یہی وہ بات ہے جو طالبان چاہتے ہیں حالانکہ وہ بھی تھکے ہوئے ہیں اور جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن کیسے؟ طالبان افغانستان کی ٹھوس زمینی حقیقت ہے کوئی مانے یا نہ مانے ‘ اور طالبان کو افغانستان میں کردار دینے اور جنگ ختم کرنے اور امریکہ کو با عزت واپسی کے لئے چین‘ پاکستان اور روس کے ساتھ اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ صرف بھارت سے کام نہیں چلے گا ورنہ یہ ملک عجیب سے عجیب تر ہوتا چلا جائے گا اللہ اس خطے میں امن لے آئے۔ آمین۔

اداریہ