Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حجاج بن یوسف کے ظلم و ستم کی داستانیں بہت مشہور ہیں۔ لیکن یہ واقعہ اس سے کچھ مختلف ہے۔ وہ ایک مرتبہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔ اس نے طواف کے دوران ایک نا بینا شخص کو دیکھا جو بلند آواز سے دعا کر رہا تھا کہ ’’خدایا مجھے آنکھیں دے‘ خدایا مجھے آنکھیں دے۔‘‘
حجاج نے اس کی دعا سنی تو اس سے پوچھا تو کب سے یہ دعا کر رہا ہے؟ اور سن لے‘ میں حجاج بن یوسف ہوں۔ میرے چار چکر طواف کے رہتے ہیں۔ اگر چار چکر سے پہلے تیری بینائی نہ لوٹی تو تیرا سر قلم کردوں گا۔
یہ شخص حجاج بن یوسف کے ظلم و ستم سے واقف تھا۔ جانتا تھا کہ اس کے لئے کسی کا سر اتار دینا یا جان لے لینا کوئی مشکل کام نہ تھا۔ وہ جس کو دھمکی دیتا ہے اسے پورا بھی کرتا ہے۔ اب اس شخص کے جان کے لالے پڑ گئے۔ ابھی تک تو وہ آنکھوں ہی سے محروم تھا۔ اب تو زندگی دائو پر لگ گئی۔ اب تو اس نے رو رو کر آہ و زاری اور دل کی گہرائی سے دعا مانگنی شروع کی۔ پہلے تو صرف الفاظ ہی تھے۔ اب الفاظ کے ساتھ قلب و روح کی توانائیاں بھی شامل ہوگئیں۔
’’الٰہی! مجھے آنکھیں دے دے ورنہ یہ شخص میری جان لے لے گا۔‘‘
دل سے نکلی ہوئی دعا قبول ہو کر رہتی ہے۔ بالآخر حق تعالیٰ نے اس کی دعا سن لی اور اس کی بینائی واپس آگئی۔
حجاج بن یوسف نے طواف کے بعد آکر دیکھا کہ اس کی بینائی لوٹ آئی ہے تو بولا’’ جیسے تو پہلے غفلت سے دعا مانگ رہا تھا۔ اگر اس طرح سال بھر بھی دعا مانگتا رہتا تو قبول نہ ہوتی۔ موت کے ڈر سے اضطراب کے ساتھ تو نے دعا مانگی تو فوراً قبول ہوگئی۔‘‘
اس واقعے سے حجاج بن یوسف کا دعا کی قبولیت پر ایمان کی پختگی بھی ظاہر ہے۔ اور نا بینا شخص کے ساتھ ہمدردی کا تاثر بھی ابھرتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حجاج بن یوسف کی شخصیت عجیب متضاد اعمال و جذبات کامجموعہ تھی۔ ایک طرف تو اس پر ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ کعبہ کو توپوں کے ذریعے منہدم کرنے جیسے واقعات اس کے نامہ اعمال کا حصہ ہیں۔ دوسری طرف ایک عورت کی پکار پر اگر وہ اپنے بھتیجے 17 سالہ جرنیل محمد بن قاسم کو نہ بھیجتا تو بر صغیر میں کوئی مسلمان نہ ہوتا۔ اگر وہ دوسرے جرنیل موسیٰ بن نصیر کو اندلس نہ بھیجتا تو اندلس میں نوسو سالہ اسلام کی حکومت قائم نہ ہوتی۔ اگر وہ قتیہ بن مسلم کو ترکستان روانہ نہ کرتا تو روس اور ترکستان کے علاقوں میں اسلام داخل نہ ہوتا۔دعا کی قبولیت کے لئے ضروری ہے کہ وہ دل کے اخلاص اور پورے یقین کے ساتھ مانگی جائے ۔ کیونکہ ہم دعا اس ہستی سے مانگتے ہیں جو ہر چیز پر قادر ہے جس کے لیے کوئی بات پوری کرنا کوئی مشکل نہیں صرف ایک امر کرتا ہے ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے ۔ اسی لئے اکثر دعائیں قبولیت کے درجہ حاصل نہیںکرتیں کہ اس میں ہماری غفلت شامل ہوتی ہے زبان سے مانگتے ہیں اور دل میں شک وہ اندیشہ ہوتا ہے کہ یہ ملے گی یا نہیں ۔ (حکایات و واقعات ص 186)

متعلقہ خبریں