Daily Mashriq


آئی ایم ایف سے رجوع

آئی ایم ایف سے رجوع

وزیر خزانہ اسد عمرنے عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)سے معاہدے کوجلد حتمی شکل دینے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پاکستان کا موقف تبدیل نہیں ہوا تاہم آئی ایم ایف نے اپنے موقف پر نظرثانی کی ہے جس سے آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان خلا کم ہوچکا ہے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مرحلہ وار اضافہ کرناپڑے گا لیکن اس مد میں دی جانے والی سبسڈی یک دم ختم نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ایکسچینج ریٹ کنٹرول نہیں کریں گے کیونکہ ایکسچینج ریٹ اقتصادی اعشاریے طے کریں گے۔دریں اثناء آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا) نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں خدمات انجام دینے والی سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے مالی سال 2019 کے لیے یکم جولائی سے 144 فیصد اضافے کی تجویز پیش کرتے ہوئے 723روپے اضافے کے ساتھ قیمت ایک ہزار 224 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی تجویز دی ہے۔ ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ سوئی ناردرن گیس کمپنی نے 19مارچ کو نظرثانی شدہ درخواست دائر کی جس میں اپنے قدرتی گیس کے کاروبار میں 722.51روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کی درخواست کی گئی جو یکم جولائی 2019 سے نافذ العمل ہو گی۔اگر یہ اضافہ کیا جاتا ہے تو گیس کی موجودہ فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت 501.17 سے بڑھ کر ایک ہزار 229 روپے تک پہنچ جائے گی۔دوسری جانب سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ نے موجودہ قیمت 591.67 فی یونٹ میں 106.54روپے اضافے کا مطالبہ کیا ہے جس سے فی یونٹ قیمت 698.21 ہو جائے گی۔وزیرخزانہ اسد عمر کی اس بات سے اتفاق ممکن نہیں کہ پاکستان نے نہیں بلکہ آئی ایم ایف نے اپنے موقف پر نظر ثانی کی ہے کبھی مانگنے والے بھی شرائط طے کرتے دیکھے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں آئی ایم ایف ہمیں قرض دینے نہیں آیا تھا ہم ان کے پاس گئے تھے۔ آئی ایم ایف نے جو شرائط پیش کی تھیں اس میں ممکن ہے تھوڑی بہت نرمی آئی ہو اس حد تک کہ آئی ایم ایف کو ہم سی پیک کی تفصیلات دینے کے پابند نہ ہوں گے۔گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اور بے تحاشہ اضافہ ٹیکس اصلاحات اور دیگر کئی مشکل فیصلوں کو آئی ایم ایف شرائط پوری کرنے سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے وگرنہ کسی بھی سیاسی حکومت کیلئے سب سے مشکل فیصلہ ملک میں مہنگائی لانے کے اقدامات نہیں ہوتے ۔ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور روپے کی قیمت میں کمی اور مزید کمی بھی آئی ایم ایف ہی کی مرضی اور ہماری مجبوریاں ہیں۔ سبسڈی کا خاتمہ بھی آئی ایم ایف ہی کے دبائوپر ہورہا ہے ۔ ان سارے اقدامات کے موجودہ صورتحال سے نکلنے او ردوررس نتائج کے حامل ہونے کے سوال سے قطع نظر سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ حکومت عوام کو معاشی مشکلات اور موجودہ حالات سے نکلنے کی باریکیوں سے آگاہی دلانے اور شعور اجا گر کرنے کی طرف بالکل بھی متوجہ نہیں۔ ابتداء میں تو وزیر خزانہ پر برہمی اور ان کے ہوم ورک نہ ہونے کا عندیہ خود تحریک انصاف کے حلقوں میں سامنے آیا۔ وزیراعظم عمران خان اب بھی ملکوں ملکوں جا کر ملک کو معاشی صورتحال سے نکالنے کی تگ ودو میں ہیں۔ یہ ساری صورتحال کوئی پوشیدہ نہیں بین حقیقت ہے۔ اس کی ذمہ داری کس پر عاید ہوتی ہے یہ سیاسی سوال ہے اور معاشی معاملات سیاست سے نہیں معاشی اقدامات سے حل ہوتے ہیں جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ جہاں تک حکومتی اقدامات کا سوال ہے ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت اس وقت تک اداروں کو خسارے سے نکالنے اور اخراجات میں کمی لانے کے اپنے ہی منشور پر عملدرآمد میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔آغاز حکومت میں جن نمائشی اقدامات کو مسائل کا حل فرض کیا گیا اب حقیقت کھل چکی ہے ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک کے معاشی مسائل بغیر کڑواگھونٹ پیئے ممکن نہیں۔ حکومت نے بساط بھر دوست ممالک سے قرضے حاصل کر کے آئی ایم ایف سے قرض لینے کی مدت کو بڑھا یا لیکن بالآخر آئی ایم ایف سے رجوع اور حصول قرض کی نوبت آنا ہی تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس صورتحال سے نکلنے کا واحد قدم کو اپنے آپ کو سخت اور مشکل حالات سے تیار کرنے ہی میں مضم ہے جس میں مہنگائی کے مزید سے مزید بڑھنے روپے کی قدر میں بہت زیادہ کمی اور ہر قسم کی مراعات کا خاتمہ جیسے اقدامات شامل ہیں جس کے اختیار کئے بناء اس نسل کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ موجودہ نسل اگر قربانی دے گی سخت حالات کا مقابلہ کر ے گی اور حکومتیں اپنی روش بدلیں گی اور قوم مل کر اس گرداب سے نکلنے کی جدوجہد کرے گی تو اس گرداب سے نکلنے کی امید ہے بصورت دیگر خدانخواستہ حالات سخت سے سخت اور مزید سخت ہونے کا ہی خدشہ ہے ۔

متعلقہ خبریں