Daily Mashriq

تھری جی کی بحالی کوئی قابل ذکر کارنامہ تو نہیں

تھری جی کی بحالی کوئی قابل ذکر کارنامہ تو نہیں

قبائلی علاقہ جات کو قومی دھارے میں لانے کے حوالے سے ایک اور وعدہ پورا کرنے اور باجوڑ کی تحصیل خار میں تھری جی سروس کے آغازسے متعلق اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ یہاں پہلی مرتبہ تھری جی سروس کاآغاز نہیں ہوا بلکہ 2017ء سے معطل سروس کی بحالی ہوئی ہے۔ اس ضمن میںعمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں جنہیں فاٹا کے نام سے جانا جاتا تھا، کو قومی دھارے میں لانے کے لئے ایک اور وعدہ پورا کرلیا ہے۔باجوڑ میں تھری جی سروس کا آغازیا بحالی جو بھی ہو ایسا کارنامہ نہیں جو وزیراعظم کیلئے قابل ذکر اور باعث اطمینان ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی علاقہ جات کے عوام کا مسئلہ تھری جی اور فور جی نہیں اور نہ ہی یہ کسی پسماندہ علاقے کے عوام کا مسئلہ ہے اس طرح کے علاقوں کے عوام کا مسئلہ کا روبار،روزگار ،صحت اور تعلیم کی سہولتوں میںاضافہ ہے ۔ انٹر نیٹ اور موبائل نیٹ ورک بیک وقت مثبت بھی ہے اور منفی بھی اور اس کے ہر دواثرات سے انکار ممکن نہیں۔ بہتر ہوگا کہ اس قسم کے معمولی اور سطحی اقدامات کا اس سطح پر تذکرہ کرنے کے بجائے قبائلی اضلاع کے عوام کے بنیادی مسائل کا تذکرہ کیا جائے اور ان کے حل پر توجہ دی جائے۔

نوتھیہ جدید کے عوام موت کے چنگل میں

یونین کونسل نوتھیہ جدید کی ڈیڑھ لاکھ آبادی پر مشتمل حلقے میں اسی فیصد افراد کے ہیپاٹائٹس بی اور سی کا شکارہونے کا انکشاف تشویشناک اور قابل فوری توجہ امر ہے جس کی وجہ اس جدید دور میں بھی یونین کونسل نوتھیہ جدید کے لوگوں کی صاف پانی سے محرومی آلودہ اورگندا پانی پینا اور ہر گھر میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی بھرماربتایا جاتا ہے۔ایک بزرگ کا کہنا تھا کہ یہاں کے پانی میں پولیو وائرس ہے اس کے باوجود اگرپائپ نہیں بدلے جاسکے تو یہ متعلقہ حکام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔یونین کونسل نوتھیہ جدید کی ڈیڑھ لاکھ آبادی کیلئے کوئی سرکاری سکول موجود نہیں، 2004میں بننے والا لڑکوں کا واحد سرکاری سکول بھی سیاست کی نذہوگیا۔ سکول مکمل ہے لیکن کلاسوںکاآغازنہیں کیاجارہا۔ دو تھانو ںکی حدود میں موجود یونین کونسل نوتھیہ جدید جرائم کی بھی آماجگاہ ہے۔ آئس ، چرس اوردیگر نشہ آور اشیاء کی سرعام فروخت پرپولیس خاموش تماشائی ہے اور علاقے میں جرائم پیشہ افراد کا راج ہے۔ اس کی پولیس بھی گویا معترف ہے جس کی بناء پر پولیس کا کوئی نمائندہ پروگرام میں شرکت کی ہمت نہ کرپایا۔کافی عرصہ سے صوبائی دارالحکومت اور مضافاتی علاقوں میں مشرق ٹی وی فورم میں گونا گوں قسم کے مسائل کی نشاندہی ہوئی ہے لیکن نوتھیہ جدید کے جس قسم کے مسائل سامنے آئے ہیں خاص طور پر آلودہ پانی کے استعمال پر ہیپا ٹائٹس اور پولیو کے وائرس کی موجودگی جیسے سنگین مسائل سے تو دل دہل جاتا ہے کہ وہاں کے عوام کس قسم کے ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں اور حکومت کے ان مسائل سے واقف ہونے کے باوجود سرکاری محکمے کس قدر ارتکاب غفلت کررہے ہیں ۔یہ مسائل اس قدر سنگین اور فوری توجہ طلب ہیں کہ حکام کو مزید کوئی تاخیر کئے بغیر علاقے میں صاف پانی کی فراہمی اور بیماریوں کے علاج معالجے اور علاقے سے ہیپا ٹائٹس وپولیو کے وائرس کے خاتمے کیلئے کام کرنا چاہیئے۔

نظر ثانی کا متقاضی معاملہ

صوبے کو درپیش مالی بحران کے پیش نظرخیبر پختونخواحکومت کا محکمہ صحت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے بجٹ میں مزید تخفیف کے فیصلے سے صوبے کے ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات میں مزید کمی ادویات کی فراہمی کی بندش فطری امر ہوگا جس کی پہلے سے گنجائش نہ تھی، اب صورتحال میں ابتری آئے گی۔ مذکورہ فنڈز میں سے بھی16سو ملین روپے ای پی آئی اور 6سوملین کینسر کے مفت علاج پر خرچ کئے جائینگے۔ صحت کے شعبے کے ایک سو سے زائدجاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے تقریباً 2ارب 90کروڑ روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویزکواحمقانہ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ مذکورہ تناسب سے تجویز کردہ بجٹ 20سالوں میں سب سے کم ترقیاتی بجٹ ہوگا۔ اس امر کا اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے کہ بیس سال قبل روپے کی قدر میںاستحکام کے باوجود جو رقم صحت کے شعبے کو ملتی تھی اب روپیہ کی قیمت میں انتہائی کمی کے باوجود اکیس سال قبل کے بجٹ کے مساوی رقم مختص ہوگی جسے اگر صحت کے شعبے میں حکومت کی جانب سے سرے سے رقم خرچ نہ کرنا قرار دیاجائے تو غلط نہ ہوگا۔ صوبائی حکومت تعلیم اور صحت کے شعبے کو اگر خاطرخواہ رقم نہیں دے سکتی تو کم از کم کٹوتی تو نہ کرے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ اس مسئلے کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا اور جگ ہنسائی کا سبب بننے والے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں