Daily Mashriq


بلاول، بیانیہ اور نظریہ

بلاول، بیانیہ اور نظریہ

بلاول بھٹو زرداری شدید غصے اور اشتعال میں ہیں۔ وہ مسلسل گرج بر س رہے ہیں کہ حکومت کالعدم تنظیموں کے خلاف مصنوعی کارروائیاں کر رہی ہے ۔وہ کالعدم تنظیموں کے مالی معاملات پر جے آئی ٹی قائم کرنے کی بات کر رہے ہیں ۔بلاول نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ایک ٹویٹ میں ساری بات سموتے ہوئے کہا کہ بھاڑ میں جائے تمہارا بیانیہ میرا نظریہ تو نہیں بدل سکتا تمہارا بیانیہ بدلتا رہتا ہے ۔بلاول ایک قومی سیاسی جماعت کے اُبھرتے ہوئے راہنما ہیں۔وہ جس سیاسی جماعت کے سربراہ بننے جا رہے ہیں وہ ملک کے تلخ وشیریں ماضی کا حصہ ہے ۔ملک میں کئی بار حکومت کر چکی ہے ۔یہ کسی ایک واقعے کے ردعمل میں اُبھرنے والی تنظیم نہیں کہ جسے ابھی اپنی مقبولیت اور مقاصد کے حصول کے لئے جلائو گھیرائو اور سخت سے سخت لب ولہجے کی ضرورت ہے ۔ اگر بلاول بھٹو زرداری کا نظریہ واقعی یہی ہے جس کا وہ کئی دن سے اظہا رکررہے ہیں تو پھر یہ موجودہ دنیا میں تیزی سے پٹتا ہوا نظریہ اور ناکام ہوتی ہوئی پالیسی کا حصہ ہے۔ بلاول بھٹو ان دنوں شدید غصے اور اشتعال میں ہیں ۔ وجہ اس کی جعلی اکاونٹس کی تحقیقات اور باز پرس ہے ۔ مفاہمتی سیاست کے بادشاہ سمجھے جانے والے آصف زداری اب بھی یہ سمجھتے تھے کہ کسی نہ کسی مرحلے پر اسٹیبلشمنٹ کی ضرورتیں اور حکومت کی عددی مجبوریاں کوئی معجزہ اور کرشمہ دکھادیں گی اور ان کی مفاہمتی سیاست کا جادو یوں چل جائے گا کہ ماضی کی باتیں افسانے قرار پائیں گی اور یوں ہمیشہ کی طرح سارے سیاسی فریق ایک بار پھرکسی کہانی کے انجام کی طرح ’’ ہنسی خوشی رہنے لگیں گے ‘‘۔اس بار یہ سب امیدیں اور اندازے غلط ثابت ہو رہے ہیں ۔قانون اپنا راستہ بناتا جا رہا ہے اور بلاول بھٹو کراکری کی دکان میں سانڈ کے انداز میں اپنے ’’نظریات ‘‘ کا پرچار کر رہے ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ بلاول جس نظریے کے پرچارک بن رہے ہیں وہ موجود ہے اور آج سے نہیں عرصہ دراز سے اپنا وجود رکھتا ہے ۔وہ نظریہ یہ ہے کہ پاکستان دنیا اور اس خطے میں دہشت گردی کا مرکز ہے ۔اس کی فوج اور ریاستی ادارے دنیا بھر کے دہشت گردوںکے سرپرست ہیں۔امریکہ ،بھارت افغانستان اور اسرائیل اس نظریے کے پروموٹر ہیں ۔ امریکہ پاکستان میں کائونٹر ملٹنسی سے چشم پوشی کرے ،بھارت پاکستان میں سبوتاژ کی کارروائیوں کے لئے باقاعدہ نیٹ ورکس تشکیل دے اور اسرائیل اسے کارخیر سمجھ کر اپنے مادی اور افرادی وسائل فراہم کرے تو وہ دہشت گرد نہیں مگر دہشت گردی کے ہر نغمے کی تان پاکستان پر توڑنا لازمی ہے۔اسی کی دہائی میں جہاد کا جو کام افغانستان میںشروع ہوا امریکہ کی سرپرستی اور سرمائے کا اس میں گہرا دخل تھا ۔جہاد کے پورے عرصے اور طالبان کے ظہور اور اس کے بہت عرصہ بعد تک امریکہ اور پاکستان شانہ بشانہ چلتے رہے ۔مقاصد اور سمتیں اس وقت جدا ہوئیں جب نائن الیون کے بعد امریکہ کو دنیا کے نقشے کی تشکیل نو کا نشہ چڑھ گیا۔اس کے بعد امریکہ اور پاکستان کے مقاصد بدلتے چلے گئے۔طالبان کے ظہور میں عالمی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی نہ ہوتی تو بے نظیر بھٹو کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر طالبان کو’’ اپنے بچے‘‘ نہ کہتے۔طالبان کی تخلیق کے وقت پشتون علاقوں میں گلبدین حکمت یار کے اثر رسوخ کو ختم کرنا امریکہ اور پاکستان کی مشترکہ ضرورت تھا ۔یوں امریکہ اور پاکستان نے جہادی نظریات کو مضبوط کرنے کے لئے جو کچھ کیا مشترکہ طور پر کیا۔فرق صر یہ تھا کہ دونوں کی ضرورتیں اور مقاصد مختلف تھے ۔دونوں کے لئے اچھے اور برے طالبان کے تصورات تبدیل ہوگئے۔ امریکہ صرف ان طالبان کے خلاف مارا ماری چاہتا تھا جو اس کے مفاد کے لئے خطرہ تھے اور ظاہر ہے پاکستان کو اپنے مفاد کی فکر تھی ۔جس حکمت یار کو برسوں امریکہ دہشت گرد قرار دیتا رہا ایک دن اپنا نظریہ اور بیانیہ بدلتے ہوئے اسے تمام پابندیوں سے آزاد کردیا اور وہ کابل میں ایک آن بان اور شان سے داخل ہوئے۔ جن طالبان کی حمایت پر پاکستان کو سترہ برس تک امریکہ مطعون کرتا رہا آج امریکی نمائندے انہی کے ساتھ ’’دم پخت‘‘ کی ضیافتیں قطر میںاُڑا رہے ہیں۔یہ جو جدید دہشت گردی کا کھیل ہے بلاول اس کو اتنی سنجیدگی سے اپنے اوپر طاری نہ کریں ہو نہ ہو کسی دن زلمے خلیل زاد کی طرح ملا ملٹری الائنس کی اصطلاح کے تخلیق کار انکل حسین حقانی کوآئی ایس پی آر میں سموسے اور قیمے بھری کچوریاں تناول فرماتے ہوئے دیکھیںگے۔ بلاول نے جن تین وزرا پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام عائد کیا ان میں ایک شیخ رشید ہیں جو1990میں اپنے فارم ہائوس ’’فریڈم ہائوس‘‘ میں یاسین ملک اور اشفاق مجید وانی کی قیادت میں کشمیری نوجوانوں کو پناہ دئیے ہوئے تھے ۔اسی کو بلاول نے ٹریننگ کیمپ کہا ہے ۔ بلاول کسی وقتی مجبوری اور غصے میں کچھ بھی کہہ سکتے ہیں مگر تاریخ میں مدفون بیانیہ اور نظریہ یوں بھی ہے کہ1990میں ہی یاسین ملک کے دست راست جب کچھ عرصہ بعد سری نگر سے واپس اسلام آباد آئے تو انہوں نے پیپلزپارٹی کی اس دور کی چیئرپرسن بیگم نصرت بھٹو سے خصوصی ملاقات کی اوران سے حکومتی پالیسیوں کا شکوہ کیا ۔بیگم نصرت بھٹو تو اس ملاقات کی تصدیق کے لئے موجود نہیں مگر لبریشن فرنٹ کے کئی لیڈر اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔اسی طرح جس اجلاس میں جنرل ضیاء الحق کی وفات کے بعد کشمیریوں کی مسلح تحریک آزادی کی حمایت جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا اس کی صدارت بطور چیف ایگزیکٹو آف پاکستان بے نظیر بھٹو شہید نے کی تھی ۔اس اجلاس کے ایک رکن سردار عبدالقیوم خان نے یہ بات ایک خصوصی انٹرویو میں مجھے بتائی تھی ۔میں نے اس کی تفصیل اسی دور میں 1991میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’’کشمیر بیلٹ سے بلٹ تک‘‘ میں رقم کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ بلاول کالعدم جماعتوں سے وابستہ اس داستان کا کیا کریں گے جو تاریخ میں بولتی اور دھاڑ تی ہے ؟۔

متعلقہ خبریں