Daily Mashriq


دوہندوبہنوں کا جبری نکاح؟

دوہندوبہنوں کا جبری نکاح؟

سندھ سے تعلق رکھنے والی دو بہنوں کے اغواء کی کہانی ، بعد ازاں جنوبی پنجاب میں ان کا قبول اسلام اور مسلمان لڑکوں سے نکاح کی ویڈیوز سامنے آچکی ہیں ،ہندوخاندان کی طرف سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہندولڑکیوں کو اغواکیا گیا ،جبری طور پر اسلام قبول کرایا گیا اور اس کے بعد ان کم عمر لڑکیوں کا مسلمان لڑکوں سے نکاح کیا گیا۔جبکہ لڑکیوں کی طرف سے سامنے آنیوالی ویڈیو سے پتہ چل رہا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور اسلام قبول کرنے بعد نکاح کیا ہے۔ لڑکیوں نے حکومت سے تحفظ فراہم کرنے کی بھی اپیل کی ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے اس مسئلہ کا نوٹس لے لیا ہے امید کی جانی چاہئے بہت جلد حقائق سامنے آجائیں گے ۔اس معاملے کی تحقیقات میں جتنی تاخیر ہو گی اتنی کنفیوژن بڑھے گی کیونکہ سوشل میڈیا پر یہ معاملہ آنے کی وجہ سے سرحد پار بھی ڈسکس ہو رہا ہے۔بھارتی میڈیا اس واقعہ کو جواز بنا کر پاکستان کے بارے یہ پروپیگنڈا پھیلا رہا ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔حالانکہ بھارت سمیت ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی ایک ایسا معاشرہ ہے کہ اگر کسی شہری کے ساتھ کوئی زیادتی ہوتی ہے قطع نظر اس بات کے کہ وہ شہری مسلم ہے غیر مسلم ،سب سے پہلے اس زیادتی کے خلاف آواز پاکستان کے شہری ہی اٹھاتے ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں اس طرح کے واقعات آئے روز ہوتے ہیں اور مسلمانوں پراقلیتوں کے حقوق کی پامالی کا الزام لگتا ہے سرکارکی طرف سے اس کا کوئی ٹھوس حل نہیں نکالا جا سکا ہے ، حکومت کی طرف سے یہ سہولت ہونے کی صورت میں اس طرح کے واقعات میں کمی آسکتی ہے کہ جو بھی غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہونا چاہے تو وہ حکومت سے رجوع کرے ،حکومت معاملہ کی مکمل چھان بین کر کے اسلام قبول کرنے والے نومسلموں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک سر ٹیفکیٹ بھی جاری کر ے ۔

ایک کام جو ہر پاکستانی شہری کو کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ اسلام میں اقلیتوں کو دیئے گئے حقوق کا مکمل مطالعہ کریں کیونکہ ہم بھارتی پروپیگنڈے کا اسی صورت جواب دے سکتے ہیں جب ہمیں اقلیتوں سے متعلق حقوق کا علم ہوگا ۔اسلام ان تمام حقوق میں،جو کسی مذہبی فریضہ اور عبادت سے متعلق نہ ہوں بلکہ ان کا تعلق ریاست کے نظم و ضبط اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے ہو غیرمسلم اقلیتوں اور مسلمانوں کے درمیان عدل و انصاف اور مساوات قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔جان کے تحفظ میں ایک مسلم اور غیرمسلم دونوں برابر ہیں دونوں کی جان کا یکساں تحفظ و احترام کیا جائے گا۔ اسلامی ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی غیرمسلم رعایا کی جان کا تحفظ کرے اور انہیں ظلم و زیادتی سے محفوظ رکھے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:جو کسی معاہدے کو قتل کرے گا وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا، جب کہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے بھی محسوس ہوتی ہے۔ (بخاری )حضرت عمرؓنے اپنی آخری وصیت میں فرمایا:’’میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد و ذمہ کی وصیت کرتا ہوں کہ ذمیوں کے عہد کو وفا کیا جائے، ان کی حفاظت و دفاع میں جنگ کی جائے، اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بار نہ ڈالا جائے۔‘‘

اسلامی ریاست مسلمانوں کی طرح ذمیوں کے مال وجائیداد کا تحفظ کرے گی، انہیں حق ملکیت سے بے دخل کرے گی نہ ان کی زمینوں اور جائیدادوں پر زبردستی قبضہ، حتیٰ کہ اگر وہ جزیہ نہ دیں، تو اس کے عوض بھی ان کی املاک کو نیلام وغیرہ نہیں کرے گی۔ حضرت علیؓ نے اپنے ایک عامل کو لکھا:’’خراج میں ان کا گدھا، ان کی گائے اور ان کے کپڑے ہرگز نہ بیچنا۔‘‘ذمیوں کو مسلمانوں کی طرح خرید و فروخت، صنعت و حرفت اور دوسرے تمام ذرائع معاش کے حقوق حاصل ہوں گے، اس کے علاوہ، وہ شراب اور خنزیر کی خریدوفروخت بھی کرسکتے ہیں۔ نیز انہیں اپنی املاک میں مالکانہ تصرف کرنے کا حق ہوگا، وہ اپنی ملکیت وصیت و ہبہ وغیرہ کے ذریعہ دوسروں کو منتقل بھی کرسکتے ہیں۔ ان کی جائیدادانہیں کے ورثاء میں تقسیم ہوگی۔

مسلمانوں کی طرح ذمیوں کی عزت وآبرو اور عصمت و عفت کا تحفظ کیاجائے گا، اسلامی ریاست کے کسی شہری کی توہین و تذلیل نہیں کی جائے گی۔ ایک ذمی کی عزت پر حملہ کرنا، اس کی غیبت کرنا، اس کی ذاتی و شخصی زندگی کا تجسس، اس کے راز کو افشا کرنا ،اسے مارنا، پیٹنا اور گالی دینا ایسے ہی ناجائز اور حرام ہے، جس طرح ایک مسلمان کے حق میں۔ فوج داری اور دیوانی قانون ومقدمات مسلم اور ذمی دونوں کے لیے یکساں اور مساوی ہیں، جو تعزیرات اور سزائیں مسلمانوں کے لیے ہیں، وہی غیرمسلموں کے لیے بھی ہیں۔ چوری، زنا اور تہمتِ زنا میں دونوں کو ایک ہی سزا دی جائے گی، ان کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ قصاص، دیت اور ضمان میں بھی دونوں برابر ہیں۔ذمیوں کو اعتقادات و عبادات اور مذہبی مراسم وشعائر میں مکمل آزادی حاصل ہوگی۔اسلامی ریاست ذمیوں کے پرسنل لاء میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی، بلکہ انہیں ان کے مذہب و اعتقاد پر چھوڑ دے گی وہ جس طرح چاہیں اپنے دین و مذہب پر عمل کریں۔ اگر کوئی اسلامی ریاست اقلیتوں کو مذکورہ بالا حقوق نہیں دے رہی تو اسے اپنے طرزعمل پرغور کرنا چاہئے ۔

متعلقہ خبریں