Daily Mashriq


خصوصی افراد ،کتوں کی نرسری اور غیر منظور شدہ کالج

خصوصی افراد ،کتوں کی نرسری اور غیر منظور شدہ کالج

بعض ایسے برقی پیغامات ملتے ہیں جنہیں پڑھ کر دل پسیج جاتا ہے تو ساتھ ہی اس بات کا بھی شدت سے احساس ہونے لگتا ہے کہ ہمارا معاشرہ اور خاص طور پرہماری حکومت اور بالخصوص سوشل ویلفیئر کا برائے نام محکمہ خصوصی افراد کے ساتھ جو سلوک روا رکھ رہا ہے عدنان عمرزئی چارسدہ کے الفاظ میں اس محکمے ہی کو سرے سے تالہ لگا دینا چاہیئے۔ چارسدہ کے خصوصی افراد کو تیس سال سے وظیفہ کی ادائیگی نہیں ہوسکی ہے اور مقامی دفتر کے اہلکاروں کا رویہ بھی خصوصی افراد کے ساتھ مناسب نہیں عدنان عمرزئی نے درست کہا ہے کہ دفتر والوں کو تنخواہ مل جاتی ہے مگر ان کا وظیفہ بند ہے اگر خصوصی افراد کیلئے ہی سرکار کے پاس کچھ نہیں تو اس دفتر کی کیا ضرورت ہے؟ اس سوال کا جواب شاید ہی کسی کے پاس ہو ۔جھوٹ موٹ کی توجیہہ تو ہو سکتی ہے لیکن جھوٹ عریاں سچ کا جواب کبھی نہیں ہوا کرتا۔وزیراعلیٰ اور وزیر سماجی بہبود توجہ دیں۔مسعود خان چارسدہ سے علاقے میں آوارہ خارش زدہ اور پاگل کتوں کی گائوں میں بھر مار پر سخت نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز کتے نے دو بچوں کو کاٹا توتحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے پشاور کے تدریسی ہسپتال چھان مار ے مگر کہیں بھی اینٹی ریبز ویکسین دستیاب نہ تھی۔ بازار سے آٹھ ہزار روپے کی ایک ویکسین ملتی ہے ،صحت کارڈ کی سہولت بھی تھی مگر علاج کی سہولت پھر بھی نہ ملی۔مسعود خان کی شکایت پر مجھے عزیز بھائی کی طنزیہ کال یاد آئی ان کو بھی کتوں کے باعث ہی مشکل کا سامنا ہے مگر دوسری طرح کی۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ سٹی ریلوے سٹیشن کے قریب آبادی میں لوگوں نے کتے پال کر اور پلے فروخت کرنے کا کاروبار شروع کیا ہے جو دن بھر ریلوے کی پٹٹری پر لا کر سارا دن ان کے ساتھ گزارتے ہیںکتوں کے بھونکنے کا مقابلہ اور مالکان کا شور شرابا دن بھر جاری رہتا ہے۔ ساتھ دفتر میں کام کرنے والوں کی زندگی اجیرن ہے ۔ سیکورٹی کیلئے کتے پالنا میری بھی مجبور ی ہے مگر میں ان کا پورا خیال رکھتی ہوں اور گھر کی چاردیواری ہی میں رکھتی ہوں۔ کوئی یورپی ملک ہوتا تو بغیر لائسنس اور اجازت نامہ کے کتے پالنے اور کتوں کی نرسری کھولنے کی گنجائش نہ تھی۔ مزید کسی سے کیا کہوں سوائے اس کے کہ حکومت کو صوبے کے ہسپتالوں میں کتے کے کاٹے کی ویکسین مہیا کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیئے اور کتا مار مہم شروع کر کے لوگوں کو کتوں سے محفوظ کرنے کا انتظام کیا جائے۔ جن لوگوں نے پٹٹری پر کتوں کافارم کھول رکھا ہے ان کی ممانعت کیلئے قریبی سٹیشن ماسٹر کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیئے۔ ڈاکٹر آف وٹرنری میڈیسن کے طالب علموں نے کالج آف وٹرنری سائنس ولی خان یونیورسٹی کی پاکستان وٹرنری اینڈ میڈیکل کونسل سے الحاق نہ ہونے پر طالب علموں کو ڈگری ملنے اور اس کی قانونی حیثیت اورا یم فل وغیرہ میں داخلے سے محروم رہنے کا اندیشہ ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ اتائی صرف سڑکوں اور گلیوں ہی میں نہیں ہمارے جامعات بھی اتائی بنانے کے کارخانے ہیں اتائی صرف غیر مستند ڈاکٹر ہی نہیں ہوتے ہر وہ پیشہ یا تعلیم جس کی سند مستند نہ ہواتائی ہی کے زمرے میں آتے ہیں ۔ الخیر یونیورسٹی آزاد جموں وکشمیر نے کتنے اتائی پیدا کئے اور ان میں سے بعض کے ملکی سطح پر کارنامے کوئی راز کی بات نہیں۔ یہ میں نہیں عدالتی ریکارڈ کہہ رہا ہے ۔ تعلیم کو تجارت تو بنادیا گیا طلبہ سے بھاری فیسیں لی جارہی ہیں مگر عالم یہ ہے کہ متعلقہ ادارے کی منظوری سے قبل ہی دکان کھول لیتے ہیں اور جب طالب علم سال دوسال چار سال چھ سال بعد فارغ التحصیل ہوجاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کا ادارہ ہی منظور شدہ اور مستند نہ تھا۔ کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں؟۔سرکاری محکموں میں کام دیر تک لٹکانے اور سائلین کو بار بار زحمت دینے کا کلچرابھی تک تبدیل نہ ہوسکا۔ ضلع چترال کے گائوں شاہ نگار دروشی سے محمد علی خان نے اپنا مسئلہ بھیجا ہے کہ دو یونین کونسلوں کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت آبیاشی اور آبنوشی کے لئے نکالی گئی 6فٹ چوڑی16کلو میٹر طویل شیشی دروش نامی نہر سے محکمہ ایریگیشن نے ایک ضمنی نہر دوسرے دیہات کے لئے نکالی ہے مگر اسی کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ادا نہیں کررہا۔جس سے ہمارے گائوں کی نہر کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے متعدد بار دروش کے AACکے نوٹس میں یہ مسئلہ لایا گیا مگر وہ ہر بار صرف وعدہ پر ٹرخا دیتے ہیں۔ہم دو یونین کونسلوں کے دیہات کے لوگ اپنے خرچہ سے اسی نہر کی صفائی اور دیکھ بھال کرتے ہیں مگر محکمہ ایریگیشن کی ضمنی نہر جگہ سے ٹوٹ چکی ہے اس سے ہماری نہر کو نقصان پہنچ رہاہے ۔ حالانکہ محکمہ کے پاس مرمت کے لئے فنڈ موجود ہے مگر پھر بھی وہ کسی وجہ سے اس کو استعمال میں نہیں لا رہے۔ لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ ہمارے اس مسئلہ کو اپنے کالم میں اٹھائیں کیونکہ یہاں جب تک بات اوپر تک نہ جائے سرکاری عمال کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ یہ بھی ہمارے ہاں ایک المیہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ان کی مدد کریں ان کی محنت کو بھی ضائع کر رہے ہیں۔خیبر پختونخواپولیس کے کمال نام کے اہلکار نے پولیس کی تنخواہ،مراعات چھٹیوں،راشن اور دیگر مسائل کارونا رویا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے نہ تو علاج کاکوئی معقول بندوبست موجود ہے اور نہ ہی ضرورت اور آرام کیلئے چھٹی ملتی ہے۔ خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہ پنجاب اور اسلام آباد پولیس سے بہت کم ہے راشن کیلئے ماہوار چھ سو اکیاسی روپے بنتے ہیں جو روز کے حساب سے بائیس روپے بنتا ہے ۔22روپے میں وہ کیا کھائیں،واقعی بائیس روپے میں تو دو روٹیاں ہی تندور سے مل سکتی ہیں جو ایک جو ان کیلئے بمشکل ہی کافی ہوسکتی ہیں۔ سالن چٹنی چائے اور دیگر لوازمات پولیس ٹھیلے والوں اور ہوٹل والوں سے ہی پوری کرے گی اور پوری کرتی دکھائی بھی دیتی ہے۔ خیر بہرحال یہ رشوت وبدعنوانی کا جو از نہیں بن سکتا۔ پولیس کو حلال کی جو تنخواہ ملتی ہے اس پر گزارہ بمشکل سہی ممکن ہے۔ ایسے کتنے لوگ ہیں جن کی دیہاڑی کبھی لگتی ہے کبھی نہیں جی تو وہ بھی رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی مثالی پولیس اور پولیس اصلاحات کا ڈھنڈورہ پیٹنے والوں کو ایک پولیس اہلکار کی یہ فریاد سن لینی چاہیئے اور زیادہ نہ سہی کم سہی ان کی تنخواہیں بڑھائی جائیں۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں