Daily Mashriq

انسایت کے ماتھے کا جھومر

انسایت کے ماتھے کا جھومر

ولیم شیکسپیئر نے کہا تھا دنیا ایک سٹیج ہے یہاں ہر شخص آتا ہے اور اپنے حصے کا کردار ادا کرکے رخصت ہوجاتا ہے دنیا ایک ایسا باغ ہے جس میں ہررنگ کا پھول موجود ہے طرح طرح کے پھل ہیں کسی کا ذائقہ شیریں تو کوئی تلخ یہی وہ بوقلمونی ہے جس کی وجہ سے دنیا کی خوبصورتیاں ہیں۔ یہاں ہر طرح کا انسان موجود ہے ایسے بھی ہیں جن سے مل کر انسان مایوس ہو کر رہ جاتا ہے۔ انسانیت سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور ایسے بھی ہیں جن کو دیکھ کر اللہ کی یاد آجاتی ہے انسانیت پر اعتماد بڑھ جاتا ہے اور انسان بے اختیار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دم قدم سے کاروبار دنیا چل رہا ہے ! انسان کسی بھی شعبے میں حیران کن کارنامے سرانجام دے سکتا ہے بس کچھ کر گزرنے کا شوق ہونا چاہیے، خلوص ہو، پیار ہو، بنی نوع انسان کی محبت دل میں موجیں مار رہی ہو! یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو انسانیت کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔ انسانیت جن پر ناز کرتی ہے تمہید طویل ہوتی چلی جارہی ہے بس ذکر کرنا تھا ایک استاد کا مگر یہ ذہن میں رہے کہ یہ کوئی عام استاد نہیں ہیں یہ حیران کن جذبے کے مالک ہیں ہم نے حیران کن صلاحیت نہیں کہا بلکہ جذبے کی بات کی ہے صلاحیت کی اپنی افادیت ہے قابلیت کا کوئی مول نہیں ہوتا لیکن یہ ہم سب کا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ کتنے ہی قابل اور باصلاحیت لوگ اپنے شعبے پر بوجھ ہوتے ہیں۔آج بات کرنی ہے کینیا کے دیہی علاقوں میں سائنس کی تعلیم دینے والے ایک سکول ٹیچر پیٹر تاپیچائی کی ! انہیں 25 مارچ کودنیا کے بہترین سکول ٹیچر کا انعام دیا گیاہے دبئی میں ایک تقریب کے دوران کینیا کے نواحی علاقوں کے پسماندہ گھرانوں میں علم کی شمع روشن کرنے والے 36سالہ سکول ٹیچر نے یہ انعام اپنی انتھک محنت ، خلوص، محبت اور بے لوث خدمت کے جذبے کی وجہ سے حاصل کیا ہے ۔ ورکلے فائونڈیشن کے تحت منعقدہ تقریب میں گلوبل ٹیچر پرائز 2019 کی انعامی رقم ایک ملین ڈالرز رکھی گئی تھی انعامی ٹرافی دبئی کے ولی عہد حمدان بن محمد نے پیش کی !انعامی رقم حاصل کرنے والے استاد پیٹر تا پیچائی نے انعام کی رقم کو طلبہ کی فلاح و بہبود میں استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے! پیٹر تاپیچائی نہ صرف ایک ماہر استاد ہیں بلکہ وہ اپنی تنخواہ کا 80فی صد غریب طلبہ کی تعلیم پر صرف کردیتے ہیںاپنی اس خدمت کے باعث انہیں صرف کینیا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پیٹر کینیا کے بچوں کا مستقبل سائنس میں دیکھتے ہیں جن کے لیے وہ دن رات کام کررہے ہیںواضح رہے کہ پیٹر تاپیچائی کینیا کے پسماندہ گائوں پوانی کے کیریکو سیکنڈری سکول میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں جہاں طالب علم یونیفارم اور کتابیں خریدنے سے قاصر ہیں!اس ساری کہانی کو پڑھ کر چند باتیں سامنے آتی ہیں جو ہم سب کے لیے قابل تقلید ہیں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم جہاں بھی ہوں کسی بھی حیثیت میں ہوں اپنے لوگوں کی اپنے ملک کی خدمت کرسکتے ہیں ۔ پیٹر تاپیچائی ایک دیہاتی سکول میں سائنس کا ٹیچر ہے سکول بھی ایسا جہاں غریب بچے پڑھتے ہیںیہ اپنی تنخواہ کا 80فی صد ان طالب علموں پر خرچ کردیتا ہے یقینا یہ بہت بڑی بات ہے!اس استاد کا جذبہ قابل قدر ہے اس نے اس بات کو جان لیا کہ کینیا کا مستقبل یہ طالب علم ہیں اور ان کے لیے سائنس کا علم ضروری ہے مسائل بہت زیادہ ہیں غربت کا دوردورہ ہے بس ان کی مدد کرنی ہے تاکہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے !یہ جذبہ قابل ستائش ہے اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس ٹیچر نے زندگی میں ایک مقصد کو پالیا ہے اس نے اپنی زندگی اپنے شاگردوں کے لیے وقف کردی ہے انعام کی رقم جو ایک ملین ڈالرز بنتی ہے وہ بھی اس نے طالب علموں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کا اعلان کردیا ہے یہی لوگ مادر وطن کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں !پیٹر تاپیچائی نے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے کہا کہ وہ سائنسی علوم کو نہ صرف کینیا بلکہ پورے افریقہ کے طالب علموں کے لئے ضروری سمجھتے ہیںورکے فائونڈیشن کے اس انعام کیلئے 179ممالک سے 10ہزار اساتذہ کرام کے نام بھیجے گئے تھے لیکن پیٹر تاپیچائی کا کام ہی مہا کاج رہا!اتنے کانٹے کے مقابلے میں انہوں نے یہ ایوارڈ حاصل کرکے کینیا کی عزت میں اضافہ کیااور دنیا کو ایک بہت بڑا پیغام بھی دیا کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں اگر جذبے صادق ہوں یقین کامل ہو اپنی ذات پر اعتماد ہو اپنے ملک و قوم کیلئے کچھ کرگزرنے کا جذبہ موجود ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہے !۔