Daily Mashriq


متبادل ذرائع توانائی کا استعمال آخر کب کریں گے؟

متبادل ذرائع توانائی کا استعمال آخر کب کریں گے؟

گرمی کی آمد آمد ہے ۔ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح خیبر پختون خوا میں بجلی لوٖ ڈ شیڈنگ میں بے تحا شا اضا فہ ہوا۔مگر افسوس کی بات ہے کہ ہم نے اس کا حل نہیں ڈھونڈا ہم آج تک توانائی کے متبادل ذرائع استعمال نہیں کرسکے ۔ توانائی کے ان متبادل ذرائع میں پانی سے بجلی، شمسی توانائی، ہوا سے بجلی اور اسکے علاوہ دیگر اور ذرائع ہیں۔ متبادل ذرائع توانائی کے استعمال کر نے والے جو ٹاپ 10 ممالک ہیں اُن میں سویڈن، کو سٹا ریکا، نکاراگوا، سکاٹ لینڈ ، جرمنی ، یو رو گوئے، ڈنمارک ، چین مراکش امریکہ اور کینیا شامل ہیں۔ اگر ہم اسکے ریٹس پر غور کرلیں تو وہ بھی کم ہیں۔ مثلاً ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی فی کلوواٹ فی گھنٹہ قیمت 0.044ڈالر ، شمسی سیلوں اور پینلز سے فی کلو واٹ فی گھنٹہ بجلی بجلی پیدا کرنے کی قیمت 0.058ڈالر،سولر تھرمل سے فی کلوواٹ فی گھنٹہ بجلی پیدا کرنے کی قیمت 0.0184 ڈالر ہے۔ جبکہ پانی سے بجلی پیدا کرنے کی فی کلوواٹ فی گھنٹہ قیمت 0.064ڈالر جبکہ بائیو ماس سے فی گھنٹہ فی کلوواٹ قیمت 0.098 ڈالر ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ دنیا میں زیادہ تر ممالک اور بالخصوص ہما را پڑوسی ملک بھارت متبادل ذرائع توانائی پر زور دے رہے ہیں۔دنیا میں جو ٹاپ 10 ممالک ہوا سے بجلی بناتے ہیں اُن میں چین سر فہرست ہیں۔ چین ہوا سے ایک لاکھ16۱ ہزار میگا واٹ بجلی پیداکرتا ہے۔ جو جون جولائی میں پاکستانی ضروریات سے پانچ گنا زیادہ ہے ۔ دوسرے نمبر پر امریکہ 66 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے جو پاکستانی ضروریات سے 4 گنا زیادہ ہے۔ جرمنی 44 ہزار میگا واٹ سپین 24 ہزار میگا واٹ، بر طانیہ 13 ہزار میگا واٹ اورکینیڈا 10 ہزار میگا واٹ بجلی ہوا سے پیدا کرتا ہے ۔ اسی طرح 10 ممالک ایسے ہیں جو اپنی ضروریات کی زیادہ بجلی شمسی توانائی سے پیدا کرتے ہیں۔ ان میں جرمنی 30 فی صد، چین 29 فی صد، جاپان 24 فی صد ، اٹلی 19 فی صد، امریکہ 18 فی صد ، فرانس 5.7 فی صد، سپین 5.4 فی صد آسٹریلیا 4.1 فی صد اور بھارت 3.2 فی صد بجلی پیدا کرتا ہے۔ پاکستان میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ایک لاکھ میگا واٹ، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلا حیت 50ہزار میگا واٹ اور بائیو ماس سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہزاروں میگا واٹ ہے۔ جبکہ ایک مربع کلومیٹر پر ایک کلوواٹ توانائی پڑتی ہے اور ہم ہزاروں میگا واٹ بجلی شمسی توانائی سے بنا سکتے ہیں۔ اگر ہم مندرجہ بالا تفصیل پر نظر ڈالیں تو اس میں پانی، ہوا ، شمسی اور جیو تھرمل بجلی پیدا کرنے کے ایسے ذرائع ہیں جن سے کم سے کم کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو تی ہے اور اسطرح کم سے کم ماحول خراب ہوتا ہے۔اگر ہم شمسی توانائی اور شمسی سیلوں پر غور کریں تو یہ انتہائی کا ر آمد اور سستے ہیں ۔ ان سے نہ صرف بجلی کے بلوں میں کمی آسکتی ہے بلکہ اس سے بجلی کا استعمال بھی کم سے کم ہوتا ہے ۔ اگر ہم غور کریں تو توانائی کے جو متبادل ذرائع ہیں وہ بُہت کم مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں ۔ اس میں کوئلے سے ایک کلو واٹ فی گھنٹہ میں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ نکلتی ہے وہ اوسط 823 گرام ، بائیو ماس سے 743 گرام فی کلوواٹ فی گھنٹہ، قدرتی گیس سے اوسط 516 گرام ، شمسی سولر پینلوں سے فی کلوواٹ فی گھنٹہ 87 گرام،جیو تھر مل سے سے فی گھنٹہ فی کلوواٹ 41 گرام، پانی سے بجلی پیدا کرنے سے کم ازکم ایک گرام اور زیادہ سے زیادہ 1500 گرام، ہوا سے توانائی پیدا کرنے سے 31گرام اور جو ہری توانائی سے 52 گرام فی کلو واٹ فی گھنٹہ ہے۔ ما ہرین ما حولیات کہتے ہیں کہ گزشتہ 50 سال میں زمین کا اوسط درجہ حرارت ایک درجہ سینٹی گریڈ بڑھ گیا ہے۔ اُنہوں نے مزید پیشن گوئی کی ہے کہ اگر زمین کا درجہ حرارت 3.6 ڈ گری سنٹی گریڈ تک مزید بڑھ گیا تو اس سے پہاڑوں پرگلیشیئر یعنی برف کے بڑے بڑے تو دے پگھل جائیں گے جن سے سمندروں کی سطح 100 میٹر تک مزید بلند ہو جائے گی اور اس طرح وہ علاقے جو سمندروں کے قریب ہیں اُن میں طغیانی آجائے گی۔ سال 2015 میں دنیا کے 200 ممالک نے پیرس میں ایک معا ہدے پر دستخط کئے ہیںجن کا ہدف یہ ہوگا کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں درجہ حرارت 2 درجہ سنٹی گریڈ اضافے سے نیچے رکھیں گے یعنی ابھی جو درجہ حرارت ہے اُس کو مزید 2 درجہ سنٹی گریڈ سے زیادہ بڑھنے نہیں دیں گے۔سائنس دان کہتے ہیں کہ جوں جوں درجہ حرارت مزید بڑھتا جاتا ہے اُس سے نُقصانات ہوتے رہتے ہیں ۔ امریکہ کے ایک ادارے جو پہاڑوں پر برف سے متعلق اعداد و شمار اکٹھا کرتے ہیں ، کہتے ہیں کہ پو ری دنیا میں سال 1945 سے لیکر سال 2004 تک گلیشیئرکے سامنے والے حصے 7 میل کے حساب سے ختم ہوئے جبکہ ان بر فانی تو دوں یعنی گلیشیئر کی موٹائی3000 فٹ کے حساب سے کم ہوئی اور اگر یہی صورت حال بر قرار رہی تو گلیشیئر جو کہ زمین پر پانی کا ایک بُہت بڑا ذریعہ ہے جلدی ختم ہوجائیں گے اور انسان دنیا میں پانی کے لئے لڑیں گے۔ حد سے زیادہ کا ربن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس جو انسانوں کے لئے ایک زہریلی گیس ہے جب زمین پرزیادہ ہوجاتی ہے تو اس سے پہاڑوں پرگلیشیئر جلدی پگھل جاتے ہیں جو مو سمی تغیر کا سبب بنتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس مو سمی تغیر سے کیسے نمٹا جائے تواس کا حل یہ ہے کہ درخت لگائے جائیں اور توانائی کے روایتی ذرائع کے بجائے توانائی کے متبادل ذرائع استعمال کئے جائیں۔

متعلقہ خبریں