Daily Mashriq

مجوزہ ہائوسنگ سکیموں میں پلاٹوں کی قیمت مناسب رکھی جائے

مجوزہ ہائوسنگ سکیموں میں پلاٹوں کی قیمت مناسب رکھی جائے

خیبر پختونخوا میں سی پیک سٹی اور پشاور ماڈل ٹائون کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے سے شہری سہولیات اور معیا ر رہائش میں اضافہ ضرور ہوگا لیکن شہریوں کو ان ہائوسنگ سکیمز میں پلاٹ کس بھائو پڑیں گے اس کا حکومت کی طرف سے کوئی عندیہ نہیں دیا گیا ہے ظاہر ہے پلاٹوں کی قیمتوں کا تعین حتمی مراحل ہی پر ہوگا لیکن صوبائی حکومت ان سکیموں پر پہلے سے کچھ خرچ کئے بغیر پچاس ارب روپے منافع کا جو اندازہ لگائے بیٹھی ہے اس سے اس امر کا اظہار ہو تا ہے کہ حکومت ان منصوبوں کو خالصتاً تجارتی بنیادوں پر اور بھاری نفع کمانے کی غرض سے اجراء کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ حکومت کیلئے حصول منافع کی مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن حکومت کوئی تجارتی ادارہ یا بلڈ ر نہیں بلکہ حکومت کا بنیا دی مقصد شہریوں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے ۔ عوام کے مسائل حل کرنے اور ان کی مشکلات پر توجہ حکومت کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں ان رہائشی سکیموں میں حکومت اپنا منافع جتنا کم رکھے گی اس کا پلاٹوں کی قیمتوں پر اثر پڑے گا حکومت اگر شہر یوں کو مناسب ریٹ پر رہائشی پلاٹوں کی فراہمی یقینی بنا نا چاہتی ہے تو اسے اپنا منافع کم رکھنا ہوگا موزوں تو یہ ہوگا کہ حکومت رہائشی پلاٹوں پر منافع کی شرح واجبی رکھے اور ان منصوبوں میں جو کمر شل پلاٹس اور مقامات ہوں ان پر معقول منافع کی شرح رکھے ۔ ریگی للمہ کی صورت میں پلاٹوں کا جو قبرستان حکومتی اداروں کا منہ چڑارہا ہے اور بار بار پھونک مارنے کے باوجود اس مرد ے میں جس طرح جان نہیں پڑ رہی ہے اس سے عوام کاجو اعتماد متنرلز ل ہوا ہے تو قع کی جانی چاہیئے کہ اس طرح کی صورتحال ان مجوزہ شہروں کو بسانے میں نظر نہیں آئے گی ۔ ایف ڈبلیو او ایک با اعتماد ادارہ ضرور ہے لیکن حکومت اس سے معاہدے میں بھی اس امر کو یقینی بنائے کہ صرف کام ہی بروقت مکمل نہ ہو بلکہ ادارہ عوام سے کئے گئے حکومتی وعدوں کی تکمیل پر بھی پورا اترنے کی سعی کرے ۔ ایف ڈبلیو او کے ساتھ ریٹ اور دیگر شرائط طے کرتے ہوئے عوامی مفادات کو مقدم رکھا جائے اور طے شدہ معاہدے پر عمل در آمد یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنا یا جائے اور ایسا کوئی سقم نہ چھوڑاجائے کہ موجودہ حکومت کی رخصتی کے بعد آئندہ کی حکومت طویلے کی بلا بند ر کے سروالی صورتحال سے دوچار ہو جائے ۔
یکساں نصاب کا خواب
خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم نے نجی اور سر کاری سکولوں کے نصاب کو یکساں کرنے کا عندیہ دے کر طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کی امید تو دلا دی ہے لیکن ایسا کرنا سرا سر نا ممکن ہے الا یہ کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اتفاق رائے سے ایسی قانون سازی کریں تاکہ ملک میں ایک ہی نصاب ہی منظور شدہ ہو گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مقصد کیلئے قومی سطح پر نصاب کی تیاری کی بھی ضرورت ہوگی ہماری حکومتیں قومی سطح کی سوچ رکھنے اور اس پر عملدر آمد کی زحمیت کم ہی کرتی ہیں البتہ صوبائی وزیر تعلیم کی طرح کبھی کبھار دعوے اور وعدے ضرور کئے جاتے ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ایسا کاہے کو ممکن ہوگا ۔ اس وقت غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب نہیں پڑھا یا جاتا ہر سکول کی اپنی ترجیحات اور نصاب ہوتا ہے ہر سکول کا معیار بھی الگ الگ ہوتا ہے صرف سرکاری سکولوں میں ایک ہی نصاب پڑ ھا یا جاتا ہے ۔ نصاب کی یکسانیت اور یکساں مواقع تعلیم اور معیار تعلیم کو دو ر حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا کھلی آنکھوں خواب دیکھنے کے مترادف ہی ہوگا ۔ معلوم نہیں ہمارے حکمران اس طرح کے دعوے کرتے کیوں ہیں جن پر یقین کرنا مشکل ہے ۔ نجی تعلیمی اداروں اور سرکاری سکولوں میں یکساں نصاب رائج کرنے کیلئے سرکاری سکولوں کو اس معیار پر لانا ہوگا کہ سرکاری سکولوں میں جدید نصاب کو پڑھانے والے اساتذہ میسر ہوں ۔ اگر سفارش اور رشوت کی بجائے اساتذہ کا میرٹ کی بنیادوں پر تقرری ہو بھی تب بھی پرانی کھیپ کی موجو دگی میں نئے اور جدید نصاب رائج کرنا مشکل ہوگا ۔ اس کے باوجود توقع کی جانی چاہیئے کہ صوبائی حکومت اس مد میں پیشرفت کرے گی ۔

اداریہ