Daily Mashriq


بارہواں کھلاڑی

بارہواں کھلاڑی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ ٔ خلیج کے طویل المیعاد مقاصد کا اندازہ تو شاید ہر گزرتے دن کے ساتھ ہوتا چلا جائے مگر اس دورے کے قلیل المیعاد مقاصد میں سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت کے ایک ایسے معاہدے پر آمادہ کرنا تھا جس کے نتیجے میں اقتصادی بدحالی کی طرف لڑھکتے ہوئے امریکہ میں ہزاروں نئی نوکریاں اور روزگار کے نئے امکانات اور جہان پیدا ہوں گے۔اس کے بدلے میں سعودی عرب کو ایران کے مقابلے میں احساس تحفظ حاصل ہوگیا۔ وہ خطرہ جسے پیدا کرنے اور بڑھاوا دینے میں امریکہ چند برس قبل پیش پیش تھا ،یہ وہ وقت تھا جب امریکہ کا جی سنی اسلام سے اُچاٹ ہو گیا تھا اور وہ سردجنگ کے آخری معرکے کے اس ساتھی کا ہاتھ چھڑا کر شیعہ اسلام سے دوستی کرناچاہتا تھا ۔تب ڈپلومیسی کی کچھ ایسی کھچڑی پک گئی جس کے نتیجے میں عراق میں صدام اقتدار کا خاتمہ ہوگیا اور ایک نئی انتظامیہ قائم ہوئی اور اس کے زیر اثر نیا ماحول پیدا ہوگیا۔عراق میں پکنے والی اسی کھچڑی کو جب شام میں استعمال میں لانے کامرحلہ آن پہنچا تو تعاون کی اس دیگ سے شک کا کچھ ایسا بال برآمد ہوا کہ ایک دوسرے کو بغداد میں راہیں دینے والے ایک دوسرے کے لئے کامیابی کے خاموش امکانات پیدا کرنے والے باہم اُلجھ پڑے اوریوں مدار بدلتے چلے گئے ۔کل کے معتوب تیزی سے محبوب بنتے چلے گئے۔ اب عالم یہ ہے کہ امریکہ ایران کے پیچھے لٹھ لے کر پڑتا نظر آرہا ہے۔ستم بالائے ستم تو یہ کہ عرب ،اسلامک امریکن سمٹ کے نام پر ہونے والی کانفرنس میں پچپن ملکوں کے مندوب اور سربراہان شریک تھے ان میں دنیا کی واحدمسلمان ایٹمی طاقت پاکستان کے نمائندہ اور وزیر اعظم میاں نوازشریف بھی شامل تھے ۔میاں نوازشریف بیجنگ سے اسلام آباد پہنچے تو سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا دعوت نامہ منتظر تھا اور وہ دوسرے روز سعودی عرب چل دئیے ۔واقفان حال نے بتایا کہ وہ راستے میں اپنی تقریر کے نوٹس تیار کرتے اور ریہرسل کرتے رہے ۔جب کانفرنس شروع ہوئی تو بہت سے ملکوں کے مندوبین کو خطاب کا موقع ملا مگر مسلمان دنیا کی واحد ایٹمی طاقت اور دنیا کی بہترین فوج کے حامل ملک کے سربراہ کے لئے وقت کی کمی ہوگئی اور انہیں خطاب کی دعوت نہیں دی گئی جبکہ ٹرمپ نے ان سے فقط مصافحہ کیا اور ہاتھ ملاتے ہوئے ایک جملہ کہا جس کا ترجمہ اردو اخبارات نے یہ کیا کہ ''آپ سے مل کر خوشی ہوئی''اگر یہ انگریزی کے جملے ''نائس ٹو میٹ یو''کا ترجمہ ہے تو پھر اس میں کوئی گرم جوشی اور معنویت اور گہرائی ہر گز نہیں یہ ہاتھ ملاتے ہوئے بولا جانے والا روایتی جملہ ہے ۔بھلے سے چہرے ناگواری ہی کیوں نہ ٹپک رہی ہو مگر مغربی ثقافت میں یہ جملہ دہرانا معمول ہے۔اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے پورے سفر میں بظاہر تو ایران کو تنہا کر کے اشارے دئیے عملاََ پاکستان کو تنہا کرکے رکھ دیا۔ اُلٹا یہ کہ پاکستان کو چڑانے کی خاطر بھارت کی مظلومیت کا ذکر بھی کر ڈالا۔اسلام آباد کے منصوبہ سازوں کو ان حالات کو پڑھنا چاہئے تھا ۔بات تو سچ ہے کہ اگر میاںنواز شریف کو بارہویں کھلاڑی کے طور پر اس کانفرنس میں شریک کرنا تھا تو پھر وہاں نہ جانا ہی بہتر تھا ۔یوں لگتا ہے کہ امریکہ کی بالکل یہ خواہش نہ ہوتی کہ پاکستان اس کانفرنس میں شریک ہو کیونکہ امریکہ کی جنوبی ایشیا کو جانے والی ہر راہ اب بھارت سے ہو کر گزرتی ہے۔امریکہ جنوبی ایشیا کے معاملات کو بھارت کی عینک سے دیکھ رہا ہے ۔سعودی عرب نے اس کے باوجود پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی منجمد برف کو پگھلانے کی کوشش کی کیونکہ سعودی عرب کو پاکستان کے ساتھ چلنے اور ساتھ لے کر چلنے کی عادت سی ہو گئی ہے اور وہ اس بات کا شاید ہی تصور کرسکتے ہیں کہ کسی سفر میں پاکستان ان کا ساتھی اور ہم رکاب نہ ہو۔اگر واقعی سعودی عرب نے پاکستان اور امریکہ کو قریب لانے کی ایک سعی کی تھی تو یہ بری طرح ناکام ہو گئی۔اب دونوں کے مدار ہی نہیں دوستی کے محور ہی بدل چکے ہیں ۔اب خطے میں بھارت امریکہ کا سٹریٹجک شراکت دار ہے اور پاکستان اس کے ساتھ حالت جنگ میں ہے ۔اب امریکہ اپنے بعد بھارت کو افغانستان کا پولیس مین بنارہا ہے اور پاکستان اپنے قریب میں بھارت کی اس برہنہ موجودگی سے الرجک اور بیزار ہے۔ نظریات اور معاملات کی اس خلیج کو سعودی عرب پاٹ سکتا ہے نہ کوئی اور معجزہ ان حالات کو بدل سکتا ہے ۔یہ دنیا اور علاقائی معاملات پر امریکہ اور پاکستان میں پیدا ہونے والے موقف اور نظریات کا وہ تضاد ہے جو اب تادیر جاری رہے گا ۔چند دن قبل بیجنگ میں ون بیلٹ ون روڈ کے نام سے جو عالمی سرگرمی ہوئی بھارت نے اس کا اعلانیہ بائیکاٹ کیا امریکہ نے اس پر ناک بھوں چڑھائے رکھی ۔کچھ یہی معاملہ ماسکو میں افغانستان کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس کا بھی تھا ۔پاکستان ان دونوں سرگرمیوں میں پرجوش انداز سے شریک تھا ۔اس تضاد کو مصنوعی طریقوں سے چھپانا ممکن نہیں رہا ۔اب پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو اس تضاد کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کرکے آگے بڑھنا ہوگا اور ایسی کسی محفل میں جانے سے پہلے سو بار سوچنا ہوگا جہاں قومی عزت نفس مجروح ہونے کا شائبہ ہو۔اب امریکہ کے ساتھ تعلقات کی یہ یک طرفہ کیفیت ختم ہوجانی چاہئے مگر ریاض کانفرنس کے دوران اور اس کے بعدبھی ہمارا حال تو وحشت کلکتوی کے شعر کے مصداق رہا 

وحشت اس بُت نے تغافل جب کیا اپنا شعار

کام خاموشی سے میں نے بھی لیا فریاد کا

متعلقہ خبریں