اور پھر بیان اپنا

اور پھر بیان اپنا

سعادت حسن منٹو میری نظر میں اردو کا سب سے بڑا افسانہ نگار ہے کیوں ؟ اب وجہ کیا بتائو ں ۔ پسند کا کوئی مول نہیں ہوتا ، البتہ اس کی ایک نفسیاتی وجہ ضرور ہے ، وہ صرف خان اور حسن کے فرق سے ہمارے ابا کے ہم نام تھے ۔ دوسری وجہ اسکی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ منٹو کی تحریر وں میں جو حقیقت پسندی صاف گوئی اور اپنے گردو پیش کے حالات کی جس بے رحمی سے وہ نشتر زنی کرتے تھے اس میں بھی مجھے اپنے ابا کی منافقت سے پاک شخصیت کا پر تو نظر آتا ہے ۔ کیاآپ نے اردو کے کسی دوسرے قلمکار کو اپنے بارے میں اس قدر صاف گوئی سے اظہار خیال کرتے دیکھا ہے ۔ کہتے ہیں بائیس کتابوں کا مصنف ہونے کے باوجود بھی میرے پاس رہنے کا اپنا کوئی مکان نہیں۔ آپ یہ سن کر حیرت میں غرق ہو جائینگے کہ میرے لئے سواری کے لئے کوئی پیکار ڈ نہیں ، ڈوج، سیکنڈ ہینڈ موٹر کار بھی نہیں ، مجھے کہیں جانا ہو تو سائیکل کرائے پر لیتا ہوں اخبار میں اگر میرا کوئی مضمون چھپ جائے اور سات روپے فی کالم کے حساب سے مجھے بیس پچیس روپے مل جائیں تو میں تانگے پر بیٹھتا ہوں ۔ منٹو کی ساری تصنیفات میری ذاتی لائبریری میں موجود ہیں ان کی شخصیت اور فن پر کوئی بھی کتاب نظر آتی ہے نئی یا پرانی اُسے ضرورحاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ قدرت اللہ شہاب ہماری دوسری پسند ہیں شہاب نامہ ان کی شاہکار خو د نوشت ہے ۔ اس پر بعض لوگ طرح طرح کے اعتراضات بھی اٹھا تے ہیں۔ میں اُن پر کوئی توجہ نہیں دیتا وہ مجھے بہت ہی مصنوعی لگتے ہیں ۔ شہاب کی دیگر کتابیں ، ماں اور یا خدا کے علاوہ ان کے مضامین کے مجموعے اور انٹر ویوز ، میں نے حاصل کر رکھے ہیں ۔ یہاں تک کہ شہاب پر لکھیں گئی دو کتابیں جن میں سے ایک کا نام شہاب بے نقاب اور شہاب نامہ کی حقیقت ہے ، اُنہیں بھی نہایت کراہت کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کی ہے سمجھ میں نہیں آتا کہ ان دونوں کتابوں کے مصنفین نے شہاب کی شخصیت پر کیچڑ اچھا لنے کی یہ بے نتیجہ کوشش کیوں کی ہے ۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ منٹو اور قدرت اللہ شہاب دو ایسے قلم کار ہیں ، جنکے سحر میں ہم گرفتار رہتے ہیں ۔منٹو اپنی زندگی میں بھی شہرت کی بلند یوں پر تھے اور وفات کے بعد بھی وہ مقبول ترین رائٹر ہیں ، چنانچہ اکثر لوگوں نے منٹو کو اپنی شہرت کا زینہ بنانے کی کوشش کی ہے اور اُن کی مقبولیت کو کیش کرنے کے لئے ان پر تجارتی مقاصد کی خاطر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ حال ہی میں ہماری نظر سے ڈاکٹر خالد اشرف کی ایک کتاب منٹو کے افسانے اور پھر بیان اپنا پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ یہ ایک بہترین تحقیقی کاوش ہے اور منٹو پر لکھی گئی اب تک کی کتابوں میں ایک الگ ذائقے کی مختلف کتاب ہے ۔ منٹو کو سمجھنے کے لئے ، یہ کتاب ایک بنیادی دستاویز کا درجہ رکھتی ہے۔ پروفیسر محمد حسن نے اور پھر بیان میں اپنا منٹو پر اطلاق تنقید کا آغاز کے عنوان سے اپنی دو صفحاتی تحریر میں بجا طو ر پر لکھا ہے کہ منٹو ادب کی تاریخ بن چکے ہیں اور اُن کی اہمیت کا ادراک بغیر مصلحتوںسنسنی خیزی کے نئی ادبی نسل پر فرض ہے ہم اُن کے اس جملوں میں یہ اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ نئی نسل کی اپنی مشاہیر کے بارے میں معلومات صرف امتحانی نوٹس تک محدود ہوتے ہیں اور اُن کی یادداشت کا آغاز اُس جگہ سے ہوتا ہے ، جس روز وہ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں ۔ ایک مثال دینا چاہوں گا ، اردو آزاد نظم کے معروف شاعر ن۔م راشد چالیس کی دھائی کے آخری دو ایک سال پشاور ریڈیو کے اسسٹنٹ ریجنل ڈائریکٹر رہے ۔ تمام ڈاکٹروں کے نام سٹیشن کی دوسری منزل کے کاریڈ ور میں لگے ایک بورڈ پر لکھے ہیں۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان ناموں میں یعقوب بنگش جیسے ادب دشمن کا نام بھی درج ہے جس نے چنگیز خانی حکم دے کر ریڈیو کا تمام پرانا ریکارڈ نذر آتش کر دیا تھا ہم کہنا یہ چاہتے تھے کہ ایک دن ہم نے ریڈیو کے تازہ بتازہ پروڈیوسر سے بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا ۔ ن ۔ م راشد کو جانتے ہو۔ کونسا راشد؟ یہاں پشاور ریڈیو کے ڈائریکٹر تھے ۔ کاندھے اُچکا تے ہوئے بڑی شان بے نیازی سے بولے واللہ نہ ئے پیژنم ، نہیں جانتا ، ایسی نسل سے ادبی مشاہیر کے ادراک کی کیا توقع کی جا سکتی ہے ۔ پروفیسر محمد حسن کی یہ رائے تو درست ہے کہ منٹو سے مزا لینے والے تو بہت ہیں لیکن اُن پر سنجید گی سے بہت کم لوگوں نے بات کی ہے ۔ لیکن ڈاکٹر خالد اشرف نے افسانے منٹو کے اور پھر بیان اپنا میں ، منٹو شناسی کے نئے امکانات کی راہیں متعین کی ہیں۔ اُن کی شخصیت اور تحریروں کے بعض ایسے پہلوئو ں کی نشاندہی کی ہے ، جو منٹو یات کے سلسلے کی دوسری تحریروں میں ہمیں نہیں ملتیں ۔ ڈاکٹر خالد اشرف کی یہ تحقیقی کاوش حق رکھتی ہے کہ ملک کی تمام جامعات میں اردوادبیات کے اعلیٰ درجات کی کلاسوں کے نصاب میں منٹو شناسی کے لئے شامل کیا جائے ۔ 520صفحات کی ضخیم کتاب کا تجربہ ایک مختصر کالم میں ممکن نہیں محقق نے زندگی ، ایک ٹیڑھی لکیر کے عنوان سے سعادت حسن منٹو کی 43سال کی مختصر زندگی لمحہ بہ لمحہ کہانی کو جس خبر رسی سے بیان کیا ہے ۔ اردو کے اس عظیم افسانہ نگار کی زندگی کا مکمل احاطہ کرتی ہے ۔فن کے مختلف پہلو اور نظر یہ کے عنوان سے منٹو کے ذہنی رجحانات کی تشکیل اور ان کے نظریات پر بھر پور تحقیق ہے ۔ اور اُن کے تیس شہکار افسانوں کے کردار ، پلاٹ اور کہانی کو سمجھنے کے لئے کچھ ایسے حقائق سامنے لائے گئے ہیں جن پر اس سے پہلے کسی کی نظر نہیں پڑی ۔ منٹو کو اپنی ذہنی صلاحیتوں اور فن کی صداقت پر حددرجے اعتماد تھا ۔ اس لئے تو انہوں نے اپنی وفات سے چند ماہ پہلے اپنی قبر کا یہ کتبہ تجویز کیا تھا ۔ یہاں سعادت حسن منٹو دفن ہے وہ اب بھی منو ں مٹی کے نیچے یہ سوچ رہا ہے کہ وہ بڑا افسانہ نگار ہے یا خدا بے شک خدا عظیم تخلیق کار ہے ۔جبھی تو اس نے منٹو کی صورت میں دنیا کوایک عظیم افسانہ نگا ر عطاکیا ۔ 

اداریہ