گرمی کے روزے

گرمی کے روزے

ہمیں ہمیشہ سے سردیوں کی پر اسرار راتیں اور گرمیوں کی طویل دوپہریں اچھی لگتی ہیں۔سردی کی طویل رات کے کسی پہر آنکھ کھل بھی جائے تو وقت دیکھ کر دل ایک عجیب سی خوشی سے سرشار ہوجاتا ہے کہ ابھی تو بڑی رات پڑی ہے گرم کمبل کو اپنے ساتھ مزید لپیٹ کر خواب خرگوش کے مزے لینے کا عمل پھر سے جاری ہوجاتا ہے وہ جو کہتے ہیں کبھی کے دن اور کبھی کی راتیں بڑی یعنی وقت ایک سا نہیں رہتا۔ حالات بدلتے رہتے ہیں گرمی کی رات بھی کتنی بے مایہ ہوتی ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ابھی پوری طرح آنکھ بھی نہیں لگی تھی کہ رات کے اختتام کا بلاوا آگیا ۔موذن کی خوش الحان صدا کان میں پڑتے ہی بستر چھوڑنا پڑتا ہے مگر قدرت کے کام بھی کتنے پیارے ہیں ۔چار بجے اٹھ کر نماز ادا کرنے کے بعد نمازیوں کے پاس نیند پوری کرنے کا بہت سا وقت ہوتا ہے۔ پونے تین گھنٹے کی نیند آپ کو پھر سے تروتازہ کردیتی ہے اب گرمی کی دوپہر کی طرف آئیے تو آپ کا واسطہ ایک طویل اور تھکا دینے والی دوپہر سے پڑتا ہے۔ جی چاہے تو اس طویل دوپہر کو سو کر بھی گزارا جاسکتا ہے اور کسی تعمیری کام میں بھی صرف کیا جاسکتا ہے جو لوگ گرمی کی چھوٹی رات کا رونا روتے رہتے ہیں وہ گرمی کی طویل صبح اور دوپہر کو کیوں بھول جاتے ہیں؟شاید ہم پریشانیاں گننے کے عادی ہیں۔ نعمتوں کو بہت جلد بھلا دیتے ہیںگرمی کی شدت کا رونا ہر کوئی روتا ہے لیکن ٹھنڈی لسی کو کوئی بھی یاد نہیں کرتا۔ مجھے بتائیے کہ قیمے میں کریلے پکے ہوئے ہوں اور دو چار لقموں کے بعد لسی کا ٹھنڈا گلاس بھی راحت جان کے لیے موجود ہو تو کیا کہنے !یہ ایک نعمت خداداد ہے جس کا ذکر نہ کرنا یقینا کفران نعمت کے زمرے میں شامل ہے یا پھر دوپہر کے کھانے کے بعد ٹھنڈے یخ آم جو بقول غالب میٹھے بھی ہوں اور بہت بھی ہوں تو کیا اس سے بڑھ کر کوئی نعمت ہے ؟آج کل تو مشین کا زمانہ ہے۔ آم ٹھنڈے کرنے والی مشین جسے فریج کہتے ہیں آم نکالیے اور نوش جاں کیجیے لیکن ایک وقت وہ بھی تھا جب اس مشین کی پیدائش نہیں ہوئی تھی ایک کھلے منہ والے برتن میں پانی ڈال کراس میں برف کے دو چار بڑے بڑے ڈلے ڈال دیے جاتے تھے اور اس ٹھنڈے پانی میں میٹھے آم مرغابیوں کی طرح چھوڑ دیے جاتے تھے۔ آپ کھانا کھا رہے ہیں سامنے ٹھنڈے پانی میں تیرتے آموں پر نظر پڑتی ہے تو خوشی کا ایک احساس دل و دماغ کو گھیر لیتا ہے کہ بس کھانے سے فارغ ہوکر ان آموں کو نو ش جان کرنا ہے۔ ہمارا تو یہ خیال ہے کہ آم کھانے سے زیادہ آم کھانے کا خیال خوش کن ہوتا ہے۔ بات گرمیوں کی ہو اور ٹھنڈے پانی کا ذکر نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے؟ اور ٹھنڈے پانی کا خیال آتے ہی ذہن میں گرمی کے روزے بھی آگئے ہیں کہتے ہیں رمضان المبارک کی ہر افطار عید ہوتی ہے روزہ دار اس عید کا لطف روزانہ لیتے ہیں۔ لوٹ مار کا مہینہ ہے بس اپنے اپنے قرینے اور سوچ کی بات ہے کچھ تو گرمی کی شدت میں روزہ رکھ کر ثواب لوٹتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے بہن بھائیوں کو لوٹتے ہیں ان کا لوٹنا بھی کیا لوٹنا ہوتا ہے یہ بزرجمہر وہ ہیں جنہوں نے دسمبر کے مہینے سے روح افزاء کا سٹاک کر رکھا ہے ان کے نزدیک ذخیرہ اندوزی کرکے اشیاء کی زیادہ سے زیادہ قیمتیں وصول کرنا بہت بڑی کامیابی ہے۔کالم کا آغاز کسی اور موضوع کو ذہن میں رکھ کر کیا تھا لیکن درمیان میں بی گرمی آٹپکی اور گرمی کا ذکر ہو تو گرمی کے روزوں کا ذکر تو ناگزیر ہوجاتا ہے روزوں کاتذکرہ ان مہربانوںکے ذکر کے بغیر نامکمل ہوتا ہے جو اپنے مسلمان بھائیوں کی خوب خبر لیتے ہیں۔کل درزی کو کپڑے سلائی کے لیے دیے تو اس نیک بخت نے ساڑھے آٹھ سو کے بجائے ساڑھے نو سو کی رسید تھمادی ہم نے ان سے گلہ کرتے ہوئے کہا جنا ب ہم تو آپ کے پرانے گاہک ہیں تو وہ خوش خصال مسکراتے ہوئے کہنے لگا جنا ب کاری گر بہت مہنگا ہوگیا ہے اور پھر رمضان المبارک میں خرچہ بھی بہت بڑھ جاتا ہے درزی کی بات سن کر ہم سوچ رہے تھے کہ درزی نے رمضان کا خرچہ تو گاہکوں پر ڈال دیا تنخواہ دار طبقہ بیچارا کیا کرے گا۔ مزدور کی تو دیہاڑی ہوتی ہے وہ کیا کرے گا دیہاڑی لگ گئی تو روزی ورنہ روزہ! سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے رمضان المبارک میں ان لوگوں کا ہاتھ پکڑنا ہے جو ہماری مدد کے مستحق ہیں اور یہ ان پر احسان نہیں ہوتا ہمیں ان کا ممنون ہونا چاہیے کہ ان کے طفیل اللہ پاک ہمیں یہ سعادت عطا کرتا ہے کہ ہم اس کے احکامات کے مطابق صدقہ و خیرات اور زکواةادا کرتے ہیں ! ذکر گرمیوں کی دوپہر کا تھاگرمیوں کی طویل اور اداس دوپہر میں کوئی اچھی سی کتاب ہاتھ لگ جائے تو ساری دوپہر کتاب پڑھتے ہوئے گزاری جاسکتی ہے لیکن کبھی کبھی یو ں ہوتا ہے کہ ایک بے نام سی اداسی دامن کے ساتھ لپٹ جاتی ہے۔ آپ اس سے پیچھا چھڑانے کی ہزار کوشش کریں وہ کسی بد روح کی طرح آپ کے ساتھ چمٹ جاتی ہے۔ کل ہمارے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا کتاب ایک طرف رکھ کر بے نام سی اداسی کے ساتھ محو کلام ہوگئے بے چینی بڑھی تو کالم لکھنا شروع کردیا جسے آپ ابھی ابھی پڑھ کر فارغ ہوئے ہیں۔

اداریہ