Daily Mashriq

تو نہ ہوتا تو یہاں صرف مسلمان ہوتے

تو نہ ہوتا تو یہاں صرف مسلمان ہوتے

اب ان دس بارہ دنوں میں ایسا کیا ہوگیا ہے کہ لگتا ہے وزارت مذہبی امور کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے ۔ حالانکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے نجی رویت ہلال کمیٹیوں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے سرکاری طور پر قائم مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے برعکس کسی بھی ایسی کمیٹی کی جانب سے رمضان یا عید کے چاند کی رویت کا اعلان کرنے پر ذمہ دار افراد کو ایک سال قید اور دو سے پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دینے کا فیصلہ کیا تھا ، لیکن تازہ صورتحال یہ ہے کہ وزارت مذہبی امور کے حکام نے ملک بھر میں ایک ہی روز رمضان کا اعلان کرنے کیلئے کوششیں شروع کردیں وفاقی وزارت نے خیبر پختونخوا کے ڈی جی مذہبی امور کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر اتفاق رائے کیلئے مسجد قاسم علی خان پشاور سے بھی رابطہ کیا جائے اور انہیں اس حوالے سے قائل کرنے کی کوشش کی جائے جبکہ چیف خطیب خیبر پختونخوا کو بھی اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے درخواست کی گئی ہے ۔ جہاں تک سینیٹ کی محولہ کمیٹی کا تعلق ہے اس نے جہاں نجی کمیٹیوں کے خلاف تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا تھا وہیں اس کمیٹی نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کی جائے اور سربراہی کی مدت تین سال ہو جبکہ سربراہی روٹیشن کے تحت ہر صوبے کو دی جائے مگر اتنے دن گزرنے کے باوجو د سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی ہدایات پر حکومتی سطح پر کوئی عمل ہوتا نظر نہیں آیا اور ابھی تک رویت ہلال کمیٹی کا سربراہ وہی سدا بہار شخصیت ہیں جو گزشتہ بارہ برس سے صدارتی کرسی پر براجمان ہیں ۔ اس لیے اگر سینیٹ کمیٹی کی بات پر وزارت مذہبی امور نے کوئی توجہ نہیں دی تو محولہ کمیٹی کم از کم یہ تو کہہ سکتی ہے بقول شعیب بن عزیز 

اب آنکھ لگے یا نہ لگے اپنی بلا سے
اک خواب ضروری تھا سووہ دیکھ لیا ہے
وزارت مذہبی امور نے اگر سینیٹ کمیٹی کے فیصلے کے باوجود جس میں نجی کمیٹیوں کے افراد کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ سامنے آیا تھا اور جس کی باز گشت ابھی فضا میں گونج رہی ہے ایسا کونسا خوف پال لیا ہے کہ اس کے حکام نے ایک ہی دن رمضان کے آغاز پر اتفا ق رائے پیدا کرنے کی کو ششیں شروع کرتے ہوئے پشاور کی مسجد قاسم علی خان کی رویت ہلال کمیٹی کے ساتھ رابطہ آغاز کرنے کیلئے نہ صرف ڈی جی مذہبی امور بلکہ خیبر پختونخوا کے چیف خطیب کو بھی اس کام پر لگا دیا تاکہ یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے ، اصولاً تویہ ایک اچھا اقدام ہے اور اس کی حمایت کی جانی چاہیئے ، لیکن سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے فیصلے کے بعد وفاقی وزارت مذہبی امور کو ایسا کیا خوف دامن گھیر ہے کہ اس نے یہ ہدایات جاری کیں ، کیا مسجد قاسم علی خان کے ذمہ داران کی جانب سے کوئی دھمکی دی گئی ہے کہ وہ نہ سینیٹ کے حکم کو مانتے ہیں نہ ہی وہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے پابند ہوں گے ۔ کم از کم اب تک مسجد قاسم علی خان کی جانب سے کسی بھی فورم پر ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا تو پھر بال وفاقی وزارت مذہبی امور کے کورٹ میں ہے اور وزارت نے سینیٹ کمیٹی کے فیصلے کے حوالے سے اب تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا یعنی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کیلئے اتنے دن گزر جانے کے باوجودوزارت مذہبی امور کی سطح پر عملی اقدام نظر نہیں آیا ۔
اس پر وہ لطیفہ یاد آگیا جب گائو ں کے کنویں میں ایک بکری گر گئی تو لوگ گائوں کے ایک سمجھدار شخص کے پاس گئے کہ کنویں سے کتنے بوقے پانی کے نکال لیے جائیں تاکہ پینے کے قابل ہو سکے ، اس شریف آدمی نے تعداد بتادی ، لوگوں نے اتنے بوقے پانی کے کنویں سے نکال کر بہا دیئے مگر پانی سے بد بو خم نہیں ہو سکی ۔ لوگ پھر اسی شخص کے پاس گئے کہ پانی سے بد بو کا خاتمہ نہیں ہو رہا ، اس نے کہا بکری کی لاش نکالی تھی یا نہیں ، لوگوں نے کہا آپ نے پہلے تو یہ نہیں کہا تھا ، اس نے غصہ ہوتے ہوئے کہا ، کم بختو ، پہلے بکری کی لاش تو نکالو ، اس کے بعد تین سو بوقے پانی کے بہا دو تب کنواں صا ف ہوگا ۔
واعظ شہر تری چرب زبانی کی قسم
تو نہ ہوتا تو یہاں صرف مسلمان ہوتے
وزارت مذہبی امور کا اگر یہ خیال ہے کہ وہ معاملات کوجوں کا توں رکھ کر چلاتے رہیں گے اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے فیصلے کو اسی طرح طاق نسیاں کی زینت بنا کر رویت ہلال کے مسئلے کو حل کر سکیں گے ، ہماری دعا تو یہی ہے کہ ایسا ہو جائے اور ملک میں رویت ہلال کے حوالے سے اتفاق رائے نہ صرف پیدا ہو جائے بلکہ یہ اسی طرح قائم و دائم رہے مگر جس سربراہ رویت ہلال کو وہ اسی طرح عوام کے سروں پر مسلط رکھنا چاہتے ہیں جو دراصل رویت ہلال کے مسئلے پر عدم اتفاق کی بنیاد ی وجہ ہے ، تو یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہو سکے گا ۔ یہ مذہبی معاملہ ہے اور اسے کسی کی ذاتی انا کی بھینٹ نہیں چڑھا یا جا سکتا ، پوری پختون قوم کی رائے کو رد کرتے صرف اپنی رائے پورے پاکستان پر تھوپنے واے شخص کو عوام کب تک برداشت کر سکیں گے۔ وزارت مذہبی امور یا تو مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو گزشتہ برس کی طرح ہربار رمضان و عید ین کے چاند کی رویت کے موقع پر عمرے پر بھیج دیا کرے ، تب شاید اس کا مقصد پورا ہو سکے گا ، یا پھر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو بھی صاف کیا جائے اور سینیٹ کمیٹی کے فیصلے پر عمل کیا جائے بصورت دیگر مسئلہ مستقل طور پر حل ہونے کے امکانات روشن نہیں ہوسکتے ۔

اداریہ