مشرقیات

مشرقیات

عدل نورالدین زنگی کا وہ امتیازی وصف ہے ، جس نے آپ کو خلفائے راشدین کی صف میں کھڑا کر دیا ۔ عدل کو عام کرنے کے لے آپ نے عام عدالتوں کے علاوہ دمشق میں ایک دارالعدل قائم کیا ، جس میں آپ بنفس نفیس تشریف فرما ہوتے ، لوگوں کی شکایات سنتے اور انصاف دیتے ۔ دارالعدل کا کوئی دربان نہیں رکھا گیا ، ہر شخص بلا روک ٹوک اپنی شکایت بشمول امراء کے کسی بھی فرد کے خلاف درج کر اسکتا تھا ۔
کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک صاحب نے حضرت سلطان شہید پر ناجائز دعویٰ کیا ۔ قاضی نے آپ کو عدالت طلب کیا ۔ آپ جب عدالت جانے لگے تو قاضی کے پاس پیغام بھیجا کہ میرے ساتھ کوئی خصوصی معاملہ ہرگز نہ ہو ، ہم دونوں میں برابری کریں ۔ پھر آپ عدالت پہنچے اور ایک عام آدمی کی طرح مدعی کے سامنے بیٹھ گئے ۔ آپ کو کسی قسم کا کوئی خصوصی پروٹوکول نہیں دیا گیا ۔ بہر حال عدالتی کارروائی میں مدعی ثبوت پیش نہ کر سکا اور سلطان پر کچھ بھی ثابت نہ ہوا ۔ فیصلے کے بعد سلطان نے قاضی اور حاضرین سے پوچھا کہ ان کا مجھ پر کوئی حق بنتا ہے ؟ سب نے کہا کہ نہیں ، تو سلطان نے فرمایا کہ مجھے معلوم تھا کہ میں حق پر ہوں ، لیکن اگر میں حاضری نہ دیتا تو انہیں شکایت ہوتی کہ میں نے ان پر ظلم کیا ہے ۔ اب میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں یہ مال ہبہ کردیا ہے ۔ واضح رہے کہ سلطان کی ذاتی زندگی بڑی تنگ دستی سے گزرتی تھی ۔ ایک دفعہ قاضی نے حضرت سلطان شہید کو عدالت میں طلب کیا تو ایک بڑے عہدیدار نے طنز یہ لہجے میں ہنستے ہوئے کہا کہ واہ بھئی قاضی صاحب سلطان کو طلب کر رہے ہیں ، اس پر سلطان سخت ناراض ہوئے اور فوراً فرمایا کہ میرا گھوڑا لائو تاکہ قاضی کے پاس حاضری دوں ، حکم کو سنتا ہوں اور مانتا ہوں اور یہ آیت تلاوت فرماتے ہوئے فوراً تشریف لے گئے ۔ ترجمہ : '' جب مئومنوں کو خدا اور اس کے رسول کے فیصلے کی طرف بلا یا جاتا ہے تو ان کی بات یہی ہوتی ہے کہ ہم نے سن لیا اور جان لیا ''۔ علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں : 855ہجری میں ایک شخص نے سلطان کے پاس آکر کہا کہ آپ کے والد عماد الدین زنگی نے میرا مال ناحق لیا تھا تو حضرت سلطان نے فرمایا کہ بھئی مجھے پتہ نہیں ، اگر آپ کے پاس ثبوت ہے تو حاضر کردیں ، اگر آپ کاحق ثابت ہوگیا تو آپ کے مال کا جو حصہ میرے پاس وراثت میں آیا ہوگا ، وہ میں آپ کو دے دوں گا ۔ آپ کے اسی عدل کی برکت تھی کہ لوگ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر رب تعالیٰ سے آپ کو مانگتے کہ یا الہٰی ! ہمارا علاقہ بھی سلطان کے قبضہ میں آجائے اور کوئی علاقہ جب آپ کے زیر نگیں آتا تو مفتوحہ علاقے کے عوام کی خو شی دیدنی ہوتی ، گویا لوگ آپ کو فرشہ یا ابر رحمت سمجھتے تھے اور تو اور بعض دفعہ عیسائیوں کی بھی خوشی دیدنی ہوتی ، کیونکہ آپ کانظام عدل مسلمانوں اور ذمیوں سب کے لئے یکساں تھا ۔ آپ کے ہاں محمود ایاز میں کوئی فرق نہیں تھا ۔
(القائد المجاہد نورالدین زنگی ،و تاریخ اسلام )

اداریہ