Daily Mashriq


فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے

فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے نواز شریف کو پنجاب میں حکومت بنانے دی، نواز شریف اس وقت بھی ہمارے ساتھ کھیل کھیل رہے تھے اور آج بھی کھیل رہے ہیں، وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں، نواز شریف سچ ماننے کو تیار نہیں تو وہ سچ کیا بولیں گے۔ہم نے پرویز مشرف کو دودھ سے مکھی کی طرح نکالا کیونکہ ایک آمر کو نکالنا میرے لیے بہت ضروری تھا۔آصف زرداری نے کہا کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کیساتھ نہیں پاکستان کیساتھ ہیں ۔اب میاں صاحب بتائیں وہ پاکستان کیساتھ ہیں یا کسی اور طاقت کیساتھ ہیں۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ سیاسی طاقتیں اور جمہوریت ہی دہشت گردی کا علاج ہیں۔عام انتخابات کے حوالے سے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہمیں الیکشن کمیشن کو مضبوط بنانا ہے، امید کرتے ہیں کہ اس مرتبہ این آر او الیکشن نہیں ہوں گے اور الیکشن کمیشن صاف و شفاف انتخابات کراکے عوام کے اعتماد پر پورا اترے گا۔سابق صدر اور پی پی پی کے شریک چیئر مین تواتر کے ساتھ ا سٹیبلشمنٹ سے دوری کا تاثر دے رہے ہیں جبکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف خود اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آنے کے بعد رفتہ رفتہ ان جکڑنوں سے خود کو آزاد کرنے کے کوشش میں لگے رہے اور بالآخر اب انہوں نے ایک ایسی راہ اختیار کرلی ہے کہ ان کے ماضی کے کردار اور حصول اقتدار کے باوجود اب ان سے ا سٹیبلشمنٹ کی نہ صرف چھاپ کا داغ دھل چکا بلکہ اب وہ اینٹی ا سٹیبلشمنٹ کی علامت کے طور پر ابھر چکے ہیں اور ان کا مضبوط بیانیہ مخالفین کے لئے بھی توجہ کامرکز بن گیا ہے۔ نواز شریف ارتقائی سیاست یا حادثاتی طور پر جو بھی وجہ ہو ایک لکیر عبور کرکے واضح اور ٹھوس موقف اور ایک مضبوط بیانیہ لے کر سامنے آئے ہیں۔ مگر دوسری جانب پی پی پی اور پی ٹی آئی سمیت دیگر کسی بھی سیاسی جماعت میںا سٹیبلشمنٹ سے مکمل برأت کا اعلان دکھائی نہیں دیتا ۔سیاسی جماعتوں کو اب بھی ان قوتوں ہی سے تھوڑی بہت زیادہ جو بھی ہو امید اور توقع اقتدار ہے۔ وہ اس امر کا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتے کہ اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیوں کو پھینک کر بھی اقتدا کی لڑائی لڑی جاسکتی ہے۔ اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو اسٹیبلشمنٹ ہر گز قصور وار نہیں وہ قصور وار اس وقت ہوتی جب سیاستدان اس کی کٹھ پتلی نہ بنتے اور حصول اقتدار کے لئے اس کی خوشنودی کے طالب نہ ہوتے ماضی میں کسی بھی بر سر اقتدار سیاسی جماعت کا دامن صاف نہیں اور یہی ان کی مشکلات اور اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی طاقتور نہ ہونے اور حکومتی فیصلوں میں کمزوری کی بنیادی وجہ بھی ہے۔ نواز شریف کو دو تین بار وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہ کر اس کا بخوبی تجربہ ہو چکا ہے۔ شاید اس لئے اب وہ کسی مفاہمت پر تیار نہیں اس تاثر کے باوجود درون خانہ ان کی جماعت ممکنہ مفاہمت اور مفاہمت کی کوششوں سے اب بھی مبرا نہیں ان کو اس میں کامیابی ہوتی ہے یا نہیں اور وہ دوہرے کردار وعمل سے کام لیتے ہیں یا نہیں اس کا فی الوقت امکان خارج از امکا ن نہیں لیکن بہر حال عوامی طور پر وہ ایک ایسا بیانیہ ترتیب دینے میں کامیاب ہوچکے ہیں جو موثر اور عوام کے لئے کشش کاباعث ہے جس کا توڑ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ دیگر عناصر کے لئے بھی تلاش کرنا خاصا مشکل کام ہوگا۔ جہاں تک سیاستدانوں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشی اور کشیدگی کا تعلق ہے پاکستانی سیاست میں تحریک انصاف کی استثنیٰ کے ساتھ اس کی مثال روٹھے ہوئے بھائیوں کے اختلافات کی ہے کہ کسی بھی وقت ناراضگی ختم اور شیر و شکر ہوجائیں۔ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت کے قیام میں مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت میں شمولیت اور اس کی عمدہ مثال ہے اور آئندہ انتخابات میں ان دونوں جماعتوں کی دست گیری کا کوئی اور مظاہرہ عجب نہ ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کا باہم سیاسی اختلاف اور مفاہمت کوئی بدعت نہیں لیکن سہارے سے اقتدار میں آنے کی بدعت سیئہ جب تک مروج ہے تب تک پاکستان میں پارلیمان کے استحکام ' جمہوریت کے مضبوط اور حکمرانوں کے با اختیار اور بالا دست ہونے کاخواب ادھورا اور نامکمل ہی رہے گا۔ فی الوقت کے سیاسی منظر نامے میں گو کہ ابھی معاملات سے پردہ اٹھا نہیں ہے لیکن چلمن سے اندازہ ہوتا ہے کہ سہارے سے اقتدار کے حصول کی کشمکش ابھی بھی جاری ہے اور اگر اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا تو آئندہ کی حکومت گزری ہوئی حکومتوں سے زیادہ کمزور اور مداخلت واضح ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو اس کا ادراک کرتے ہوئے غیر جمہوری قوتوں سے خود کو دور رکھنا ہوگا بصورت دیگر نواز شریف کو ایک اور ہم خیال میسر آئے گا مگر اس قت تک چڑیاں کھیت چگ گئی ہوں گی۔ دیکھا جائے تو یہ صرف ریاست کے اداروں میں طاقت میں عدم توازن کا تنازع ہی نہیں جو اس بے ترتیبی کی وجہ بنی ہے بلکہ سیاسی قیادت بھی اس جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی ذمہ دار ہے۔ پارلیمنٹ تو بس ایک تند و تیز بحث و مباحثہ کرنے والی جگہ بننے تک محدود ہوچکی ہے جہاں قیادت منتخب ایوان کا ادب و احترام ہی نہیں کرتی۔سیاستدانوں کو سوچنا ہوگا کہ آخر اس طرح کب تک کیاجائے۔سیاستدانوں کا بنیادی قصور یہ بھی ہے کہ اراکین سے لے کر بڑے سیاسی رہنمائوں تک تمام ہی اسمبلی کی کارروائیوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اجلاس میں اراکین کی شرکت کی شرح 25 فیصد ہو جاتی ہے کورم پورا نہ ہونے کے باعث اجلاس کو ملتوی کردیا جاتا ہے۔ چند حزبِ اختلاف جماعتیں بھی پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ جن کا طرز عمل پارلیمان کو مضبوط کرنے کی بجائے کمزور کرنے کا باعث بنتا ہے جس کے باعث قانون ساز ادارہ غیر موثر بنتا گیا۔ اس طرح قانون ساز سیاسی اور ادارتی بحرانوں کو حل کرنے کے قابل ہی نہیں رہے، اور اس میں کوئی حیرانی نہیں کہ ملک مضبوط جمہوریت کے لیے مستحکم منتقلی میں ناکام رہا ہے۔ بلا شبہ پاکستان اپنی تاریخ میں بغیر کسی رکاوٹ کے سویلین حکمرانی کے طویل ترین دور میں ہے مگر اس کے باوجود بھی جمہوریت کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے۔ جہاں منتخب حکومتوں اور سیاسی قیادت نے پالیسی حلقوں میں جگہ چھوڑی وہیںمداخل نے بھی اپنے دائرے سے باہر جاکر معاملات میں مداخلت بڑھانے کے مواقع کو جانے نہ دیا۔داخلی پالیسی پر ہم آہنگی کی کمی اور قومی مسائل پر عدم توجہی سے جمہوری عمل مزید کمزور ہوا۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، جہاں2013 میں جمہوریت کا معیار 4برسوں میں اپنی بلند ترین شرح 54فیصد پر تھا، وہیں 2014میں یہ شرح 10 فیصد تک گرتے ہوئے 44فیصد رہ گئی۔ پھر 2015میں یہ صورتحال تھوڑی بہتر ہوئی اور 50فیصد ہوئی لیکن 2016کے آخر تک یہ شرح ایک بار پھر گر کر 46فیصد پر آ گئی۔ گزشتہ 2برسوں میں صورتحال اور بھی خراب ہوچکی ہے۔ پانامہ اسکینڈل جیسے معاملات کو حل کرنے میں پارلیمنٹ کی ناکامی اور قومی سلامتی اور خارجہ پالیسیوں کو ترتیب دینے کے لیے حکومت کے آگے نہ آنے کی وجہ سے سویلین کنٹرول مزید کمزور ہوا۔ عنقریب ہونے والے انتخابات ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے کافی اہم ہیں۔ انتخابات کے بعد ایک نئی پارلیمنٹ اور نئی حکومت کو مضبوط حکمرانی کے لیے ان اہم مسائل کو حل کرنا ہوگا اور انہیں منتخب کرنے والوں کو کچھ کرکے دکھانا ہوگا ۔اگر ہمارے سیاسی قائدین اور مستقبل کے حکمرانوں کو اقتدار اپنی اصل طاقت کے ساتھ مطلوب ہے اور وہ جمہوریت کے استحکام کے لئے کچھ کرنے کے خواہاں ہیں تو ان کو اقتدار خالصتاً عوامی قوت و اکثریت کے بل بوتے پر حاصل کرنا ہوگا اور بیساکھیوں کے استعمال سے پرہیز کرنا ہوگا اور اگر وہ ایساکرنے کی ٹھان لیں اور بیساکھیاں اٹھانے والا کوئی ملے نہ تبھی سویلین حکومت کی بالادستی کا خواب پورا ہوگا بصورت دیگر تاریخ اپنے آپ کو پھر دہرائے گی۔

متعلقہ خبریں