Daily Mashriq


نیب کو نوجوانوں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا

نیب کو نوجوانوں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا

نیب خیبر پختونخوا نے ٹی ایم ایز کے امتحان میں بے قاعدگیوں کا نوٹس لے کر خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے خلاف تحقیقات کی منظوری دے دی ہے جبکہ مردان میڈیکل کمپلیکس میں بھرتیوں کی بھی تحقیقات کاحکم دے دیاگیا ہے۔ دم رخصت موجودہ حکومت میں سرکاری ملازمتوں کی بندر بانٹ اور اقرباء پروری کے حوالے سے سوشل میڈیا میں بھی خاصا مواد میسر ہے ۔بہرحال اسے وقعت دینے کی ضرورت نہ بھی ہو تو کم از کم ابتدائی معلومات لینے میں حرج نہیں مبادا کہ کوئی ٹھوس ثبوت ہاتھ آجائے او ر نیب کو مضبوط کیس بنانے کا موقع ملے۔ جہاں تک خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن اور این ٹی ایس کے زیر اہتمام بھرتیوں کا تعلق ہے اس ضمن میں ہر ناکام امیدوار کا شاکی ہونا اور کوئی کہانی گھڑ لینا فطری امر ضرور ہے لیکن جس بڑے پیمانے پر شکایات آتی ہیں ان کی تعداد اور جواز دونوں سے اس امر کا یقین خود بخود ہو جاتا ہے کہ ان شکایات میں حقیقت کا کافی سے زیادہ عنصر موجودہے۔ اس امکان کو سنجیدگی سے لینا اور حقیقت کا کھوج لگانا نیب کی ذمہ داری بھی ہے فریضہ بھی اور نیب کو آسانی بھی ہے کہ صوبے میں بھرتیوں میں گھپلوں کی تحقیقات کے لئے راستہ ہموار بھی ہے اور تحقیقات کے نتیجہ خیز ہونے اور ٹھوس شواہد ملنے کا امکان بھی کافی سے زیادہ ہے۔ اسی صفحے پر ایک ہفتہ وار کالم میں گزشتہ چار پانچ ماہ سے (جب سے یہ سلسلہ شروع کیاگیا ہے) تسلسل کے ساتھ محولہ دو اداروں کے خلاف شکایات کی اشاعت اور بہت بڑے پیمانے پر شکایات کی وصولی از خود اس امر کی دلیل ہے کہ درون خانہ کیا کچھ ہوتا رہا ہے جسے بے نقاب کرکے ان کرداروں کی ملی بھگت اور بدعنوانی کو بے نقاب کرنا نیب خیبر پختونخوا کی ذمہ داری ہے ایسا کرکے ہی یہ ادارہ نوجوان نسل کی نظروں میں حاص طور پر با وقار اور قابل اعتماد ادارہ بن سکتا ہے۔ پبلک سروس کمیشن اور این ٹی ایس کو جس طرح منافع بخش ادارہ بنانے کے لئے بے روز گار امیدوارں سے رقم بٹوری گئی اس رقم کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے اور اس رقم کی وصولی کاخاتمہ کرکے بیروزگار نوجوانوں کو ایک اضافی بوجھ سے نجات دلانے کا بھی کوئی طریقہ کار وضع کیاجانا چاہئے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو رقم واجبی رکھی جائے جو محض اخراجات کے بقدر ہی ہو۔

متعلقہ خبریں