Daily Mashriq


وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے تحفے

وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے تحفے

تحفہ وزیر اعظم شاہد خاقان کا خرچہ حکومت پاکستان کا۔ یہ خرچہ ایک معاصر کی خبر کے مطابق 60ارب روپے ہو گا جو سرکاری خزانے کو ادا کرنے پڑیں گے۔ اور سرکاری خزانے کا جو حال ہے اس کے بارے میں خبروں سے میڈیا کی نشریات بھری پڑی ہیں۔ ایک تحفہ پچھلے دنوں اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں حکومت نے دیا تھا، لیکن وہ حکومت پاکستان کا فیصلہ تھا اکیلے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا نہیں۔ ایک تحفہ کا ذکر سٹیٹ بینک آف پاکستان شرح سود میں اضافہ کر تے ہوئے کہا ہے اور کہا ہے کہ تجارتی خسارہ اور مالیاتی خسارہ کیونکہ بڑھ گیا ہے اس لیے مہنگائی میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ لیکن جس تحفہ کا ذکر مقصود ہے وہ اس سے قبل کے تحائف سے الگ نوعیت کا ہے۔ وہ تحفہ وزیر اعظم کے ان تحفوں میں سے بھی مختلف نوعیت کا ہے جو وہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کی صورت میں آئے روز کرتے رہتے ہیں ۔

پچھلے دنوں انہوں نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا افتتاح کیاجس کے بعد مسافروں کو گوناگوں مشکلات کا سامان کرنا پڑاکیونکہ افتتاح کی خوشی میں سارے انتظامات مکمل نہیں کیے گئے تھے۔ لیکن محض افتتاح کر کے طیاروں کے مسافروںکو تحفہ دینا لازمی تھا۔ آج کل ہی میں انہوں نے مناواں میںگیس سپلائی کے منصوبے کا افتتاح کیا ہے۔ یہ ایک اور تحفہ ہے ۔ لیکن ان میںسے بعض تحفے ایسے ہوتے ہیں جن کا جشن حکومت مناتی ہے کہ آخر ہم نے ایک کام شروع کیا تھا جو مکمل کر لیا ہے۔ اس کا جشن منانے کے لیے کسی مشہور شخصیت کو جو آج کل وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی صورت میں دستیاب ہیں بلاتے ہیں، ایک فیتہ کٹواتے ہیں اور کام شروع ہو جاتا ہے ۔ حالانکہ اگر فیتہ نہ بھی کاٹا جائے تو کام شروع ہو سکتا ہے ۔ تحفوں کی ایک قسم ہے جو مہنگائی یا مشکلات کی شکل میں حکومت کی کارکردگی یا عدم کارکردگی کی صورت میں عوام کی مشکلات اور مصائب کا باعث بنتی ہے۔ مثلاً بھارت نے دریائے نیلم کا پانی اپنی طرف موڑ لیا اور دریائے ستلج اور راوی کا پانی خشک ہوگیا ہے۔ ایسے واقعات کو بھی حکومت کا تحفہ ہی کہا جاتا ہے لیکن ان معاملات میں ساری حکومت کی کارکردگی زیرِ بحث ہوتی ہے۔ جس تحفہ کا ذکر یہاں مقصود ہے وہ حکومت کے ختم ہونے سے چند دن پہلے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا وفاقی حکومت کے افسروں اور اہل کاروں کو تین ماہ کی اضافی تنخواہوں یعنی بونس کی ادائیگی کا اعلان ہے۔ بونس تجارتی کمپنیوں میںدیا جاتا ہے تاکہ ملازموں کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے کمپنی کو جو منافع ہوا ہے اس میں سے ملازمین کو بھی کچھ حصہ دیا جائے تاکہ وہ آئندہ بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہیں۔ اس کے لیے کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں منافع کا اعتراف کرتے ہوئے ملازمین کے بونس کی منظوری دی جاتی ہے۔ لیکن وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جس انعام کا اعلان کیا ہے اس کے جواز کے لیے حکومت پاکستان کو پہنچنے والے کسی مالی فائدے کا ذکر نہیں کیا جا رہا ہے، نہ ہی کوئی ایسا جواز پیش کیاجا رہا ہے کہ وفاقی حکومت کے ملازمین نے مجموعی طور پر کسی ایسی مہارت یا صلاحیت کا مظاہر ہ کیا ہو جو دیگر سرکاری ملازمین نہ کر سکے ہوں۔

وفاقی حکومت کے سرکاری ملازموں نے وفاقی حکومت کے احکام کی بجاآوری کی ہے ۔ حکومت کے فیصلوں نے ملک کے قرضوں میںتیس ملین روپے کا اضافہ کیا ہے ، جو 61بلین روپے سے اب 91بلین روپے تک پہنچ گئے ہیں ۔ حکومت کے فیصلے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا باعث بنے ہیں جن کی مقدار 12ہزار ارب روپے بیان کی جارہی ہے لیکن جاننے والے بتاتے ہیں کہ اس میں بھی آدھے سے زیادہ زرمبادلہ ان قرضوں پر مشتمل ہے جو مختلف بینکوں نے چھوٹی مدت کے قرضوں کی صورت میں حاصل کیے ہیں۔ غور کیاجانا چاہیے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کس بنیادپر وفاقی حکومت کے ملازمین کو اس انعام کا مستحق سمجھا جس کا مظاہرہ صوبائی حکومت کے ملازم نہ کر سکے۔ اور یہ بھی غور کیا جانا چاہیے کہ وزیر اعظم نے 60ارب روپے کا یہ انعام کس کھاتے سے دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جماعت کی حکومت تو آئندہ چند دن میں ختم ہو جائے گی ، اس اعلان کا بوجھ نگران حکومت یا آئندہ قائم ہونے والی حکومت کو اٹھانا پڑے گا ۔ لیکن لوگ شاہد خاقان عباسی کے گُن گایا کریں گے وفاقی حکومت کے ملازمین کو اس انعام کا مستحق سمجھنے کی وجہ محض یہ ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے ملازم تھے ۔ ان میں سے کتنے ملازمین کی کارکردگی کیسی رہی ، کتنے محض حاضری لگانے دفتر آیا کرتے تھے، اور کتنے گھر بیٹھے تنخواہ لینے کو ترجیح دیتے تھے ۔کتنوں نے دفترمیں محض وقت گزاری کی اور کتنا کام کیا ان اوصاف کو نظر اندازکرتے ہوئے سب کو ایک آنکھ سے دیکھتے ہوئے نوازنے کا فیصلہ صادر کر دیاگیا ہے اور باقی کو کسی اور کا ملازم سمجھتے ہوئے نظر انداز کردیاگیا ہے۔

ایک ایسا ہی فیصلہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بھی کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی حکومت کے چند محکموں کے ملازمین کو دو ماہ کی تنخواہ کے برابر اعزازیہ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ ان محکموںمیں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ بھی شامل ہے۔ ممکن ہے کہ قانون میں کسی وزیر اعظم کا ، وزیر اعلیٰ کے صوابدیدی اختیارات میںکہیں ایسی گنجائش ہو۔ لیکن صوابدیدی اختیارات مطلق العنانی کے اختیارات نہیںہوتے۔ یہ اختیارات قانون کی روح کے مطابق ہوتے ہیں اور ایسی صورت میں استعمال کیے جاتے ہیں جہاں قانون موجود نہ ہو۔ امیدہے کوئی عدالت سرکاری ملازمین سے اس امتیازی سلوک کا ضرور نوٹس لے گی۔

متعلقہ خبریں