Daily Mashriq


شاہ اور سچل کے دیس سے ایک خط

شاہ اور سچل کے دیس سے ایک خط

میرا دکھ یہ ہے کہ میرا دکھ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کوئی نہیں کر رہا۔ ریاست' حکومت' سیاسی قائدین' عدالتیں اور وہ بھی جو ہر معاملے کو شریعت کی روشنی سے دیکھتے، کہتے اور ''عمل'' کرتے ہیں۔ زمین زادوں کی بھی عجیب قسمت ہے استحصال دراستحصال صدیوں سے گزرتے جی رہے ہیں۔ وعدوں' نعروں' بیانیوں کے شربتوں سے بہلتے ان زمین زادوں کے نصیب میں محرومیاں ہی محرومیاں ہیں۔ معاف کیجئے ان محرومیوں کو کسی کاتب تقدیر کے لکھے والی ٹافی سے بہلنے والا نہیں ہوں۔ وجہ یہی ہے کہ عادلین کے عادل رب العالمین کو دوش دینے کا جرم میں کیوں کروں۔ طبقے انسانوں نے بنائے' نظام جبر اور استحصالی ہتھکنڈے بھی انسانوں کے تخلیق کردہ ہیں۔ نظام کی بے لگامی کی ذمہ داری بھی نظام بنانے والوں کو قبول کرنی چاہئے۔ تمہید طویل ہوگئی اس کیلئے معذرت۔ اس تمہید کی وجہ مہران وادی (سندھ) سے آیا ایک مکتوب ہے۔ میرے پیارے دوست اور بہت سارے جاننے والوں کے پیارے کبھی کبھی بڑے مان اور محبت سے اپنے دکھوں اور حالات کا نوحہ لکھ بھیجتے ہیں۔ سرمد حسن میرے محبوب ترین مرحوم دوست محمد پرئیل کا بھانجا ہے۔ سندھ یونیورسٹی سے مذاہب عالم اور انگریزی میں ماسٹر کرنے والے سرمد کی دنیا اب ہماری دنیا سے الگ ہے۔ سرمد کئی برسوں سے ہالینڈ میں مقیم ہے۔ سال دو سال بعد مہینہ بھر کیلئے اپنی جنم بھومی میں اُترتا ہے۔ ہمیشہ فون کرتا ہے مگر اس بار اس نے آنے کی خبر نہ دی البتہ جانے سے قبل ایک خط سپرد کر گیا۔ پچھلے دو دن میں پون درجن بار اس خط کو پڑھ چکا، خط ہوتے ہی پڑھنے کیلئے ہیں۔ ہم خط لکھنے اور خطوط کا انتظار کرنے والی نسل کی بچی کھچی نشانیوں میں سے ہیں۔ اب تو سوشل میڈیا کی رابطہ سائٹس ہیں پل بھر میں سارا جہاں اکھیوں کے سامنے پھر بھی خط لکھنے اور پڑھنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ چلیں باتیں پھر کریں گے ابھی سرمد حسن کے خط سے منتخب اقتباس پڑھ لیجئے۔پیارے ماموں! بہت معذرت اس بار آنے سے قبل اطلاع دی، قیام کے دنوں میں رابطہ کیا نہ قدم بوسی کیلئے حاضر ہوا۔ اماں کی برسی (مرحوم محمد پرئیل کی ہمشیرہ محترمہ) پر آیا تھا پھر بیس دن تک سچل اور شاہ کی نگری میں دوستوں سے ملتا ملاتا رہا۔ سندھ بہت بدل گیا ہے' سوگواری چہروں پر لکھی اور سوال آنکھوں میں میرے تین کلاس فیلو امجد ابڑو' گل دین ہوتو اور راجندر لعل لگ بھگ دو برسوں سے عدم پتہ ہیں۔ کون لے گیا اور کیوں لے گیا سوال کرو تو کنگ رام زبانیں کھلتی ہی نہیں۔ سندھ میں کیا ہو رہا ہے، کون یہ سب کچھ کر رہا ہے سوال کس سے کریں۔ ملزم ہوں یا مجرم انسان وہ بہرطور ہوتے ہیں۔ عدالتوں میں پیشی اور عدالتی عمل کا سامنا ان کا حق ہے۔ یہ کیسا ملک ہے جہاں زمین زادوں کے حقوق کا احترام کرنے کا رواج ستر سال بعد بھی چوری ہو جانے والے خوابوں کی طرح ہی ہے۔ ہمارے بزرگ اپنی خوشی سے پاکستان میں شامل ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے حق میں پہلی قرارداد سندھ اسمبلی سے ہی منظور ہوئی تھی۔ اب یہ لگتا ہے کہ سندھی اپنی خوشی سے پاکستان میں شامل نہیں ہوئے بلکہ کسی معرکے میں زیردست ہوئے اور پاکستان کاحصہ بن گئے۔ ایسا نہیں ہے تو پھر عدم تحفظ اور گمشدگیوں کا عذاب کیوں ہے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران سندھی قوم پرستوں پر توڑے جانے والے مظالم پر پیپلز پارٹی خاموش کیوں ہے۔ کیا شہید رانی بینظیر بھٹو کے وارثوں کو یہ احساس نہیں کہ اگر انہوں نے سندھیوں کے سر پر دست شفقت نہ رکھا ان کے دکھوں کا مداوا نہ کیا تو نتائج کیا ہوں گے؟ سندھ حکومت آخر گمشدہ لوگوں اور پراسرار طور پر مرنے والوں بارے زبان کیوں نہیں کھولتی۔ ماموں جان! سوال اور بھی ہیں مگر صرف یہ پوچھ دیجئے کہ پیپلز پارٹی کو سندھیوں کے ووٹوں کی ضرورت ہے یا نہیں۔ ضرورت ہے تو پھر خاموشی کو زبان دے۔ سندھیوں کے سوالوں کا جواب دینے کیساتھ وفاقی حکومت سے بھی پوچھئے کہ کس قاعدے قانون کے تحت سندھی قوم پرست سیاسی کارکن' ادیب' معلم' دانشور اور شاعر غائب کئے جا رہے ہیں۔ پراسرار موت کے حقداروں کو مارنے والا کون ہے اور مرنے والوں کاجرم کیا ہے؟میرے مرحوم دوست کے بھانجے سرمد حسن کے مکتوب سے منتخب اقتباسات آپ نے پڑھ لئے۔ میری دانست میں یہی بہت ہیں۔ بلاشبہ سندھ میں سب اچھا نہیں ہے۔ چند دن قبل کراچی پریس کلب کے باہر گمشدہ افراد کے اہل خانہ کیساتھ پولیس اور رینجرز نے جو مردانہ سلوک کیا ان پر ان سطور میں معروضات عرض کرچکا۔ میرے سندھی دوست اکثر یہ شکوہ کرتے ہیں کہ پنجاب صوبہ کے لوگوں نے پچھلے سال پنجاب سے اٹھائے گئے بلاگرز کیلئے جتنا احتجاج کیا اس سے نوے فیصد کم احتجاج وہ اگر لاپتہ سندھیوں کیلئے کرتے تو مظلوم سندھی خاندانوں کے دکھوں کا مداوا ہوتا۔ سچی بات یہ ہے کہ سندھی دوست درست کہتے ہیں صوبہ پنجاب سے بہت کم آوازیں بلوچستان اور سندھ کے حق میں بلند ہوئیں مگر اصل سوال خود سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی سے بنتا ہے کہ وہ کیوں خاموش ہیں۔ آبلے پڑے ہیں زبان میں یا پھر کوئی مصلحت آڑے ہے؟ اس سوال کا جواب بہرطور پیپلز پارٹی پر قرض ہے۔

متعلقہ خبریں