Daily Mashriq


فاقہ مستیاں اور قومی خزانے کی بندر بانٹ

فاقہ مستیاں اور قومی خزانے کی بندر بانٹ

فاقہ مستی میں دنیا بھر میں نہ ہمارا کوئی مدمقابل ہوسکتا ہے نہ ہی کوئی ثانی۔ اسی لئے یہ افتخار بھی مرزا غالب کو حاصل ہے کہ انہوں نے اس قوم کی انہی عادتوں کی بالکل صحیح تصویر کشی کرتے ہوئے کہا تھا

قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

ایک خبر کے مطابق صدر مملکت کی تنخواہ میں اچانک ہی 958 فیصد اضافہ کرتے ہوئے ان کی تنخواہ میں 7لاکھ 66ہزار 550 روپے بڑھا دئیے گئے۔ یوں اب صدر مملکت کی تنخواہ چیف جسٹس کی تنخواہ سے صرف ایک روپے زیادہ ہو گئی ہے۔ اصولی طور پر تو کسی ملک کے سربراہ کا ''محنتانہ'' یقیناً ملک میں کسی بھی دوسرے سرکاری شخصیت سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہی ہونی چاہئے اسلئے اگر چیف جسٹس صدر مملکت سے زیادہ تنخواہ وصول کرتے رہے ہیں تو اس پر غور کرنا لازمی تھا کیونکہ اس سے پہلے صدر پاکستان کی تنخواہ صرف 80ہزار روپے تھی یوں دونوں محترم شخصیات کی تنخواہوں میں تفاوت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے بلکہ اس پر حیرت کا اظہار بھی کیا جا سکتا ہے کہ فرق اور وہ بھی اس قدر اب یقیناً صدر مملکت صورتحال پر اظہار اطمینان کرنے کے قابل ہوگئے ہیں، البتہ اس صورتحال پر جب ہم اسلام کے ابتدائی ایام کے عظیم کرداروں کی زندگیوں کی روشنی میں غور کرتے ہیں جنہوں نے اپنے گھر کیلئے بیت المال سے جانے والے آٹے میں سے ایک مٹھی برابر آٹا بچاتے ہوئے ان کے اہل خانہ نے حلوہ بنا کر سامنے رکھ دیا تھا تو اگلے روز بیت المال کے مہتمم سے کہہ کر اس روزینہ سے ایک مٹھی آٹا کم کرا دیا۔

ملائیشیا کے نومنتخب وزیراعظم مہاتیر محمد نے کابینہ میں شامل وزیروں کی تنخواہوں میں دس فیصد تک کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ کابینہ کے پہلے اجلاس کی سربراہی کرنے کے بعد مہاتیر محمد نے کہا کہ وہ ملک کے ڈھائی سو ارب سے زائد کے قرضوں کو بھی کم کرنے کیلئے راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ وہ شروع کئے جانے والے مہنگے منصوبوں میں کمی بارے بہت جلد فیصلہ کرلیں گے۔ ان منصوبوں میں سنگاپور اور کوالالمپور کے درمیان تیز رفتار ریل کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ ادھر گزشتہ روز ایک خبر آئی تھی جس کے مطابق شاہد خاقان حکومت نے جاتے جاتے خاموشی کیساتھ مالی بل 2018-19ء کے ذریعے موجودہ اور سابق اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں بھی اضافہ کر دیا۔ اخبار کے مطابق اس ضمن میں دستیاب دستاویزات کے مطابق حکومت کے اس اقدام کا فائدہ صرف پارلیمنٹرینز ہی نہیں بلکہ ان کے جیون ساتھیوں کو بھی پہنچے گا۔ محولہ فنانس بل کے دو قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کے قانون (ایکٹ 1974) اور چیئرمین' سپیکر کی تنخواہوں اور مراعات کے ایکٹ 1975 کے مطابق رخصت ہونے والی اسمبلی کے اراکین اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور ان کو ملنے والی مراعات گریڈ22 کے ریٹائرڈ افسران کے برابر ہوں گی۔ اس حوالے سے جو تفصیل خبر میں موجود ہے وہ ہوش اُڑا دینے والی ہے جبکہ وزیراعظم کی جانب سے تمام وفاقی ملازمین کو 3ماہ کی اضافی تنخواہ دینے کے اعلان کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بھی پشاور میں بعض مخصوص محکموں کیلئے دو ماہ کے اعزازئیے کی منظوری دے دی ہے۔ ان میں محکمہ خزانہ' منصوبہ بندی' انتظامیہ اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے ملازمین شامل ہیں۔ وزیراعظم کی سرکاری ملازمین پر نوازشات کی اس بارش سے قومی خزانے کو 60ارب روپے سے زیادہ کا ٹیکہ لگے گا۔ اب دیھکتے ہیں کہ پشتو کے ایک ضرب المثل کے مطابق کہ ایک خاص جانور اپنے بھائی بند سے کسی بھی صورت کم تر ہو تو اس کے کان کاٹنے کے لائق ہوتے ہیں۔ تو اس بھیڑ چال کی تقلید کرتے ہوئے باقی تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبے کے سرکاری ملازمین کیلئے کیا کیا نوازشات طشتری میں رکھ کر پیش کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ تاہم اس ساری کار گزاری میں جو صدر مملکت کی تنخواہ میں اضافے کے حوالے سے سامنے آئی ہے ایک اہم سوال ضرور اُٹھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ صدر مملکت کی چھٹی کے دوران چیئرمین سینیٹ جتنے بھی دن بطور قائمقام صدر مملکت گزار ے گا اس دوران انہیں صرف اپنی ہی مقررہ تنخواہ اور مراعات پر ہی اکتفا کرنا پڑے گی یا پھر انہیں اس عرصے (اپ گریڈیشن یعنی صدر مملکت کیلئے مقررہ) تنخواہ اور مراعات دی جائیں گی؟قومی خزانے کے اس بندر بانٹ سے جو لوگ مستفید ہوں گے ان کی خوشی یقیناً دیدنی ہوگی تاہم یہ جو فاقہ مستیاں کی جا رہی ہیں ان کا اثر قومی معیشت پر کیا ہوگا اس بارے میں کسی نے بھی نہیں سوچا کہ آنیوالے دنوں میں ہم نے اپنے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کرنی ہے۔ یہ تو مغلیہ سلطنت کے بالکل آخری دور کی کہانیاں جنم لے رہی ہیں جب خزانہ خالی تھا اور حکومت ہند' ہندو ساہوکاروں کے قرضوں تلے کراہ رہی تھی اس ساری کہانی میں تو جانے والی حکومت کی جو سوچ کار فرما دکھائی دیتی ہے وہ شاید یہ خدشہ ہے کہ آنے والی حکومت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا اسلئے خزانہ اس قدر خالی کر دیا جائے کہ آنے والی حکومت کو ''اقتدار کے لالے'' پڑ جائیں اور اسے حالات سے نمٹنے کیلئے کوئی راہ ہی سجھائی نہ دے۔ یا پھر جانے والوں کو یہ یقین ہو کہ ملکی معیشت ''مضبوط بنیادوں'' پر استوار ہے اور اس قسم کے اقدامات سے قومی خزانے کو کسی قسم کا فرق نہیں پڑ سکتا۔ بہرحال نتیجہ کیا ہوگا اس کیلئے بقول شاعر انتظار ساغر کھینچ!!

متعلقہ خبریں