Daily Mashriq


قومی وسائل کے ضیاع کا درد

قومی وسائل کے ضیاع کا درد

یہ شاید علاقے ، والدین ، اساتذہ ، ماحول وغیرہ کا اثر ہے کہ میں فطری طور پر کفایت شعار واقع ہوا ہوں ۔ اور جب سے شعور سنبھالا ہے اُس وقت سے تو باقاعدہ مینجمنٹ کر کے ذاتی ، گھر اور خاندان کے معاشی معاملات چلانے کی کوشش کرتا ہوں ، ان امور کو سلجھانے میں نبی اکرم ۖ کی تعلیمات مبارکہ اور سیرت پاک سے اخذواستفادے کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔ قرآن حکیم میں بھی اللہ تعالیٰ نے رحمن کے بندوں کی ایک اہم صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ اسراف نہیں کرتے ۔ یہا ں بھی عرض کردوں کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں خرچ کرنا اسراف اور اللہ کی اطاعت میں خرچ نہ کرنا بخیلی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اپنے خاندان و اقرباء کے نفسیات واجبہ اور مباحات میں بھی حد اعتدال سے تجاوزاسراف میں آسکتا ہے ۔ میں جب اپنے ملک کی پتلی معاشی حالت ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک اور امریکہ کے قرضوں کو سنتا پڑھتا ہوں اور پھر ایوان صدر اور وزیراعظم سے لیکر نیچے ایک تحصیلدار اور ایس ایچ او کے دفاتر اور معاملات و معمولات پر نظر دوڑاتا ہوں تو دو باتیں سامنے آتی ہیں ۔ ایک یہ کہ یا تو ہم واقعی معاشیات کے بنیادی اصولوں سے ناواقف ایک ایسی قوم ہیں جو اپنے نفع و ضرر ونقصان کے معاملات سے ناواقف ہے یا پھر سب کچھ جانتے بوجھتے غالب کے نقش قدم پر رواں دواں قرض کی مے پیتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہماری یہ فاقہ کشی کی مے کشی ایک نہ ایک دن رنگ ضرور لائے گی ۔اور مجھے دوسری بات زیادہ صائب لگتی ہے اس لئے کہ ہمارے سرکاری دفاتر میں فرنیچر ، بجلی ، گاڑیوں عمارتوں کے استعمال اور دیکھ بھال سے پتہ چلتا ہے کہ ہر آدمی بس حجرے ''میں رات گزارنا چاہتا ہے اور حجرے سے دیگر معاملات میں کوئی سروکار رکھنے کا قائل نہیں ۔ پاکستان میں بجلی کی کمی اور ضرورت سے کون واقف نہیں ، لیکن شاید آپ اس بات کے خود بھی گواہ ہونگے کہ ہمارے بڑے شہروں کی سٹریٹ لائٹس بعض اوقات صبح سات بجے بھی جلتی رہتی ہیں ۔ اور سرکاری دفاتر میں تو بلب ، پنکھے اور ایئر کنڈیشنوں کا چھٹی کے بعد بھولے سے چالو رہ کر پوری پوری رات سرکاری بجلی اور آلات کا ستیا ناس کرتے ہوئے دوسری صبح کو دیکھ کر چپڑاسیوں کو یاد آجاتے ہیں یہی حال پانی جیسے نعمت عظمیٰ کا ہے ۔ ہم زندگی کیلئے اس ناگزیر نعمت کو جس طرح ضائع کرتے ہیں اور اس بات کی پرواہ ہی نہیں کرتے کہ ہم بہت بڑا قومی نقصان کر رہے ہیں وہ یقینا ہمیں بحیثیت قوم کفران نعمت میں مبتلا کر کے ناشکری کی سزا کے طور پر اس نعمت سے محروم بھی کرسکتا ہے ۔ مشرق وسطیٰ میںپیٹرو ڈالر کی فراوانی کے باوجود اس نعمت کی قدر کا پوچھا جا سکتا ہے ۔ وہاں حکومتی سطح پر پانی ضائع نہ کرنے کی گرمیوں میں میڈیا پر مہم چلائی جاتی ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے دریائو ں سے نواز اتھا لیکن ہم اس نعمت کی قدر دانی میں ناکام رہے ۔ بھارت ہم پر مسلط ہو کر ڈیم پرڈیم بنا کر دریائوں کے رخ موڑ کر ہمیں اس کی ایک ایک بوند کو ترسانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور ہم آپس میں دست و گریباں ہو کر سیاست سیاست کھیل رہے ہیں ۔ اس کالم کی یہ سطور لکھنے کے لئے جس جذبہ نے تحریک دی ، وہ یہ ہے کہ میں واک کے لئے جس راہ پر نکلتا ہوں وہ زرعی یونیورسٹی پشاور کے کھیتوں میں سے ہو کر نکلتا ہے ۔ پچھلے دنوں ایک کھیت میں گندم کے گٹھے پڑے ہوئے دیکھے جو بارشوں کی وجہ سے سیاہ پڑ کر خراب ہوچکے تھے ۔ میں اپنے ورک کے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ گندم (غلہ ) کتنی بڑی نعمت ہے ۔ خمار گندم نے تو آدم کو جنت سے نکلوایا تھا ، لیکن ہمارے ہاں ایک طرف لوگ ایک ایک روٹی کے لئے ترستے ہوئے شام سے پہلے تنوروں کے قریب بیٹھ کر کسی مخیر کی خیرات کا انتظار کررہے ہوتے ہیں اوردوسری طرف تیار گندم ہماری کوتاہیوں کے سبب ضائع ہوتی ہے ۔جی ایم خٹک جیسی شخصیت نے کمال دور اندیشی سے زرعی یونیورسٹی کی وسیع و عریض زمین حاصل کی تھی کہ یہاں مختلف فصلوں ، سبزیوں اور پھلوں پر تحقیق ہوگی اور پختونخواکے زمین داروں کو یہاں نئی نئی اقسام ملیں گی ۔۔لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔آج ہمارے سرکاری اداروں میں الا ماشاء اللہ بہت کم ایسی شخصیات بطور سربراہ ادارہ ہونگی جو اپنے ادارے کو ''اپنا '' یعنی اپنے گھر اور ملکیت کی طرح سمجھتے ہوئے اون کرتے ہوں ۔ مغرب کی ترقی کا ایک راز یہی بھی ہے کہ وہاں ہر سربراہ ادارہ اپنے ادارے کا ہر لحاظ سے نگران ، ذمہ دار اور مالک ہوتا ہے اس سے باز پرس بھی ہوتی ہے اور وہ اپنے آپ کو قوم و ملک کے لئے جوابدہ بھی سمجھتا ہے ۔ ہمارے ہاں کیا بری لت پڑی ہے کہ کوئی ''پاگل ''ایسا پیدا بھی ہوجائے تو یار لوگ اُسے مطعون کرتے ہوئے کہتے ہیں یار ! تم سرکاری چیزوں کو خواہ مخواہ پر سنل کیوں لیتے ہو ؟ ۔ یعنی جانے دو ، اپنا وقت پاس کرو ، اپنی تنخواہ ، انکریمنٹس ، مراعات اور آخرمیں پنشن لے کر آرام سے زندگی گزارو۔ سرکاراور سرکاری اشیاء کا اللہ حافظ و نگہبان ہو ۔ اب شاید وقت آیا ہے اور اشد ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم خواہ مخواہ کی خشما شیاں ترک کر کے اپنی اوقات اور وقعت پہچان لیں ۔امریکہ کی آنکھیں بہت سرخ ہیں ۔ پابندیوں کے خطرات اور گرے لسٹ وغیرہ سر پر منڈلا رہے ہیں ۔ لہٰذا آئیں ہم بحیثیت قوم وملت سرکار دو عالم ۖ رحمت اللعالمین کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر ''وہ شخص کہیں محتاج نہ ہوا جس نے کفایت شعاری اختیار کی ''۔سرخروں ہوں ۔

متعلقہ خبریں