Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

وہیب بن ورد علیہ سے روایت ہے کہ حضرت یحییٰ تین دن تک اپنے والد محترم حضرت زکریا سے گم رہے ۔ آپ ان کی تلاش میں جنگل کی طرف گئے تو دیکھا کہ آپ نے ایک قبر کھود رکھی ہے اور اس میں کھڑے ہو کر آہ وبکا میں مصروف ہیں ۔حضرت زکریا نے فرمایا: بیٹا ! میں تین دن سے تیر ی تلاش میں ہوں اور تو یہاں قبر کھود کر اس میں کھڑا رو رہا ہے ؟ ۔

حضرت یحییٰ نے فرمایا :''اباجان ! آپ ہی نے مجھے بتایا تھا کہ جنت اور جہنم کے درمیان ایک طویل فاصلہ ہے ، جو صرف آنسوئوں کی مدد سے طے ہوسکتا ہے ''۔ آپ نے فرمایا : جی ہاں بیٹا !رولو ''۔ تب دونوں روپڑے ۔

سیدنا ابوبکر صدیق کے عہد خلافت میں ایک شخص فوت ہوا ، جب لوگ اس کاجنازہ پڑھنے کیلئے کھڑے ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ اس کے کفن کے اندر کوئی چیز حرکت کررہی ہے ۔جب کفن کی گرہ کھولی تو دیکھا کہ ایک زہریلا سانپ ہے ، جو اسے ڈس رہا ہے ۔ لوگوںنے اسے مارنا چاہا ۔سانپ نے کلمہ طیبہ پڑھا اورکہا '' اے لوگو! تم مجھے کیوں مارتے ہو ، حالانکہ میں اپنے آپ نہیں آیا ، بلکہ حق تعالیٰ کے حکم سے آیا ہوں اور اسے قیامت تک ڈستا رہوں گا '' ۔

لوگوں نے پوچھا :'' اے سانپ ! یہ بتا کہ ا س کا جرم کیا تھا ، جس کی وجہ سے اسے یہ عذاب دیا گیا ؟''۔ سانپ نے کہا : اس کے تین جرم تھے : (١) یہ اذان سن کر مسجد نہیں آیا کرتا تھا ۔ (٢) مال کی زکوٰة نہیں ادا کیا کرتا تھا ۔ (٣) علمائے کرام کی بات نہیں سنتا تھا ۔

(بحوالہ : نافرمانوں پر عذاب کے عبرتناک واقعات)

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص نے دعوت کی ۔یہ ایک بزرگ تھے ۔ عبداللہ شاہ صاحب نام تھا ۔ ان کا معمول تھا کہ جنگل سے گھاس کاٹ کر لایا کرتے تھے اور دو آنے میں بیچ دیا کرتے تھے ۔ اس میں سے دوپیسے خیرات کردیتے تھے اور چھ پیسے بال بچوں میں خرچ کرتے تھے ۔ انہوں نے ایک دن کہا کہ آپ(علمائے کرام) کی دعوت کرنے کو دل چاہتا ہے ، مگر کھانا پکا کر کھلانا تو ہمارے بس کا ہے نہیں ، دام لے لو اوراپنے گھر میٹھے چاول پکا کر کھا لو اور ہم کئی آدمی تھے ۔ مولانا محمد قاسم بھی تھے اور آپ کے ساتھ چند اور آدمی بھی تھے ، سب نے مل کر مولانا محمد یعقوب کے ذمے اس کا پکوان رکھا ، وہ کھانا مولانا کے گھر پکا اور مولانا نے اس قدر احتیاط کی کہ کوری ہانڈی منگائی اور پکانے والے کو وضو کرایا ۔ جب چاول تیار ہوگئے تو سب نے مل کر دو دو لقمے کھالئے ۔ مولانا فرماتے ہیں کہ جیسے ہی وہ چاول حلق سے اترے ، ایک روحانی لذت اور نور محسوس ہوا اور لطف یہ کہ اس کا اثر مدت تک رہا تو ہم نے کہا کہ ایک بار کے کھانے کا یہ اثر ہے تو اس شخص کی کیا حالت ہوگی ، جو ہمیشہ ایسا ہی کھانا کھاتا ہے اور اس کے سوا دوسرا کوئی کھانا اس کے پیٹ میں جاتا ہی نہیں ۔ یہ حلال کمائی کی برکات کاہی اثر تھا۔

(اربعین مصطفائی ص119، قصص الاکابر)

متعلقہ خبریں