Daily Mashriq


افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع؟

افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع؟

افغان مہاجرین کے قیام کی مدت کے عیدالفطر کے بعد ختم ہونے اور ان کی وطن واپسی کے حوالے سے کسی بھی حتمی فیصلے کے بارے میں وفاقی حکومت نے اقدام شروع کر دئیے ہیں۔ وفاقی حکومت نے افغان مہاجرین کے قیام میں گزشتہ سال 8ماہ کی توسیع کی تھی اس حوالے سے یہ توسیع نویں بار کی گئی تھی‘ اب یہ آخری توسیع جون میں ختم ہو رہی ہے جس کے بعد ان کے قیام میں مزید توسیع نہ کرنے کے حوالے سے تمام صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے جس کے بعد ہی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ جہاں تک افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع کا تعلق ہے اس حوالے سے صوبائی حکومتیں خاص طور پر خیبر پختونخوا کی حکومت مسلسل اس تجویز کی مخالفت کرتی رہی ہے کیونکہ ایک تو مہاجرین کی سب سے زیادہ تعداد ہمیشہ سے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں قیام پذیر رہی ہے اور ان کی وجہ سے صوبے کا نہ صرف انفراسٹرکچر تباہ وبرباد ہو کر رہ گیا ہے جو لوگ صوبے کے بالائی علاقوں میں قیام پذیر رہے ہیں ان کی وجہ سے وہاں کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے کہ ان لوگوں نے ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کیلئے ان جنگلات کو بیدردی سے کاٹا ہے بلکہ سماجی ڈھانچہ بھی متاثر ہوا ہے اور صوبے کے کاروبار پر ناجائز قبضہ جمانے سے مقامی لوگوں کو بہت نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے پورے صوبے کی مارکیٹوں پر حاوی ہو کر مقامی تاجروں کیلئے بہت سی مشکلات کھڑی کرنے کیساتھ ساتھ پاکستان کے خزانے کو ایک پیسہ ٹیکس تک ادا نہیں کیا جس کی وجہ سے مقامی تاجر بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے ان کے مقابلے کی سکت تک نہیں رکھتے بلکہ دستیاب معلومات کے مطابق یہ لوگ پاکستان بھر کے تاجروں سے اربوں روپے کا مال اعتماد میں لیکر حاصل کرنے کے بعد رفو چکر ہو چکے ہیں اور اب یہ ساری رقم ڈوب چکی ہے۔ اس اقتصادی اور معاشی استحصال کیساتھ ساتھ ان کے منظم گروہ طویل عرصے سے ہر قسم کی غیرقانونی حرکتوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔ چوری چکاری‘ ڈاکہ زنی‘ اغواء برائے تاوان‘ منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ‘ قتل مقاتلے اور ان سب سے بڑھ کر دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ان کے ملوث ہونے کے بارے میں تو دنیا جانتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر سے عموماً اور صوبہ خیبر پختونخوا میں خصوصاً ان کیخلاف احتجاجی مظاہرے ریکارڈ پر ہیں جن میں یہی مطالبات کئے جاتے رہے ہیں کہ ان مہاجرین کو اب اپنے وطن واپس بھجوا دیا جائے اور یہ مطالبات اصولی طور پر درست بھی تھے اور ہیں کیونکہ اب افغانستان میں امن کے قیام میں بہت حد تک پیش رفت ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود بار بار انہیں توسیع دیکر کیوں پاکستانیوں کے سروں پر مسلط رکھا جا رہا ہے؟ جبکہ اب دنیا نے ان کے قیام کے حوالے سے سابقہ کردار کو مزید جاری رکھنے سے بھی انکار کر رکھا ہے یعنی اب ان کو مزید ٹھہرانا پاکستان کی معیشت پر بوجھ ڈالنا ہی ہے کہ پاکستان پہلے ہی اقتصادی مسائل سے دوچار ہے اور اسے اپنے قرضے اتارنے اور کاروبار حکومت چلانے کیلئے نہ چاہتے ہوئے بھی آئی ایم ایف سے رجوع کرنے اور اپنے عوام پر بھاری ٹیکس عائد کرنے‘ بجلی‘ گیس‘ پٹرولیم کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے جس سے عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ ایسی صورت میں لاکھوں مہاجرین کا بوجھ اُٹھانے میں بیرونی امداد کے تعطل کے بعد سارا بوجھ پاکستان پر پڑ رہا ہے جبکہ کچھ عرصے سے ایک بار پھر دہشتگردی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ اور ان انسان دشمن کارروائیوں میں افغان باشندوں کی تلویث کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کے بعد کوئی قانونی اور اخلاقی جواز انہیں مزید قیام کی اجازت دلوانے کا باعث نہیں بن سکتا۔ آخر ہم کب تک ان کی غیرقانونی سرگرمیوں کا شکار ہوتے رہیں گے؟ صوبائی حکومت پہلے بھی افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع کی مخالفت کرتی رہی ہے مگر بدقسمتی سے بعض عاقبت نااندیش سیاسی رہنماؤں نے تو انہیں پاکستان کی شہریت دینے تک کے مطالبات کرکے اپنے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی جس کی کسی بھی طور حمایت نہیں کی جاسکتی۔ اب جبکہ اگلے مہینے ان کے قیام کی توسیع شدہ مدت ختم ہو رہی ہے اور صوبائی حکومتوں سے اس بارے میں تجاویز بھی طلب کی جا رہی ہیں تو معروضی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اور بدامنی‘ دہشتگردی اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے ناتے ان کے قیام میں مزید ایک دن کی بھی توسیع نہ کی جائے بلکہ اب انہیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خدا حافظ کہہ کر ان سے جان چھڑالی جائے اور یو این ایچ سی آر کے متعلقہ حکام کو پیغام دیدیا جائے کہ ان کی واپسی کیلئے ضروری اقدام میں کوئی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے اور اس حوالے سے مزید توسیع کی کوئی درخواست پاکستانی عوام کے حقوق کے استحصال کے مترادف اقدام ہوگا۔

متعلقہ خبریں