Daily Mashriq

نئی بھارتی حکومت سے توقعات

نئی بھارتی حکومت سے توقعات

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نئی بھارتی حکومت سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کو خطے میں خوشحالی‘ امن اور تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔ گزشتہ روز ملتان میں ایک افطاری استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان سے ملحقہ ہمسایہ ممالک کا امن افغانستان سے منسلک ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو تاکہ پائیدار علاقائی استحکام کی راہ ہموار ہوسکے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرکے دہشتگردی پر قابو پایا جا سکتاہے۔ بھارت کے حالیہ انتخابات میں موجودہ حکمران جماعت بی جے پی کی جیت کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھارتی جنتا پارٹی کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکباد کا پیغام دیتے ہوئے ان کیساتھ ملکر کام کرنے اور دونوں ملکوں کے مسائل حل کرنے کی تجویز دی تھی جس پر نریندر مودی نے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا اور اب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر بھارت کی نئی حکومت کو تصفیہ طلب مسائل پر مذاکرات کی دعوت دیدی ہے جو اصولی طور پر پاکستان کی نیک خواہشات کا اظہار ہی ہے تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت کی نئی حکومت بھی اس حوالے سے کسی مثبت پیش رفت پر تیار ہوگی، اس سوال کا جواب عالمی مبصرین کے تبصروں میں بھی نظر آتا ہے‘ امریکی میڈیا پر ہونے والے تبصروں سے واضح ہوتا ہے کہ عمران خان کی مبارکباد کے باوجود مودی کی پاکستان پالیسی میں تبدیلی کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔ ادھر سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا مودی اپنی حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم عمران خان کو اسی طرح مدعو کریں گے جس طرح گزشتہ بار انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو دعوت دی تھی؟ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ایسا سوال ہے جس سے بھارت کی نئی حکومت کے موڈ اور پالیسی کا اندازہ کیا جاسکے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مودی جی اپنی کابینہ میں کن کن لوگوں کو شامل کرنے جا رہے ہیں اور ان میں سے کتنی پرانی کابینہ خاص طور پر ہارڈ لائیز ہوں گے اور ان کے پورٹ فولیو کیا ہوسکتے ہیں۔ اگر تو وزارت خارجہ کا قلمدان ایک بار پھر سشما سوراج ہی کے حوالے کیا جاتا ہے (جس کے امکانات بہت زیادہ ہیں) تو پھر نئی بھارتی حکومت سے کسی خیر کی توقع اور مذاکرات کیلئے آمادگی عبث ہوگی کیونکہ سشما شوراج جس طرح پاکستان کیخلاف سخت گیر رویہ رکھتی تھیں اس میں تبدیلی کے امکانات ممکن نہیں ہیں اور دونوں ملکوں کے مابین برف پگھلنے کی توقع فضول ہی ہوگی۔

میزائل پروگرام کی حمایت

روس نے پاکستان کے میزائل پروگرام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان متعلقہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق اپنے میزائل پروگرام کو ترقی دینے کا ہر حق رکھتا ہے، ہفتہ کو روسی خبر رساں ادارے سپتنک نیوز کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی راباوکوف نے اسلام آباد کے حالیہ زمین سے زمین تک مار کرنے والے شاہین ٹو بیلسٹک میزائل تجربے پر کہا کہ اپنے ملکوں کے میزائل کو فروغ دینے والے ممالک کو متعلقہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔ ہم پاکستان کے میزائل پروگرام کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں ایسے اقدامات سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے جس سے خطے میں کشیدگی پیدا ہونے کا احتمال ہو، تاہم اگر پاکستان نے نیوکلیئر ٹیکنالوجی حاصل کی یا اب میزائل ٹیکنالوجی کو آگے بڑھا رہا ہے تو اس کا مقصد کسی کیخلاف جارحیت نہیں نہ ہی پاکستان خطے کو بارود کا ڈھیر بنانے کا آرزو مند ہے تاہم اپنی سلامتی کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا اس کی مجبوری بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ مجبوری اسلئے کہ اسے ابتداء ہی سے ایک ایسے دشمن سے واسطہ ہے جو اس کے وجود ہی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں اور اس مقصد کیلئے اس نے نہ صرف پاکستان پرکئی جنگیں مسلط کیں بلکہ اسے دولخت کرنے کی سازش بھی کی اور اب بھی وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا اور بلوچستان میں اس کے ایجنٹوں نے علیحدگی پسند تحریکیں شروع کی ہیں۔ اس صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے پاکستان کے حفاظت خوداختیاری (ڈیٹرنٹ) کے طور پر نہ صرف ایٹمی پروگرام شروع کیا بلکہ اپنی سلامتی کے تقاضوں کے پیش نظر وہ میزائل ٹیکنالوجی کو صرف اسلئے بہتر بنانے کیلئے تجربات کرتا ہے کہ کوئی دوبارہ اس کے وجود کیلئے خطرہ نہ بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی زمانے میں پاکستان سے معاندانہ رویہ رکھنے والا روس بھی پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے اس کے میزائل تجربات کو جائز سمجھتے ہوئے اس پروگرام کی حمایت کرنے پر مجبور ہوا ہے جو پاکستان کے موقف کی اصولی جیت ہے اسلئے اب دنیا کے کسی بھی ملک کو معترض ہونے کی ضرورت ہے نہ اس کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ پاکستان اس حوالے سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگا ہے اور وہ ان پر مکمل طور پر عمل درآمد بھی کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں