Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

دمشق کے ایک محلہ ’’مہاجرین‘‘ کے مکین بھی ایک دفعہ اپنی اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے مسجد تعمیر کر رہے تھے۔ اس کار خیر میں حصہ لینے کے لئے لوگ دور دور سے عطیات لے کر آرہے تھے۔ عطیہ پیش کرتے وقت یہ فرمان نبویؐ ان کے پیش نظر رہتا تھا:

’’جو کوئی خدا تعالیٰ کے لئے مسجد بنائے گا حق تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ویسا ہی گھر تیار کرے گا۔‘‘

ایک خاتون بھی تعمیر مسجد میں حصہ لینے کے لئے اپنا عطیہ لے کر حاضر ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک تھیلی تھی جس میں سونے کی پچاس اشرفیاں تھیں۔ اہل محلہ میں سے کوئی بھی اسے نہیں جانتا تھا۔ خاتون نے تھیلی مسجد بنانے والوں کے حوالے کی اور جلدی سے واپسی کے لئے چل دی۔ انہوں نے آواز دی: محترمہ! اپنا نام تو بتا دیں تاکہ آپ کے نام کی رسید کاٹی جا سکے مگر خاتون کو نبی کریمؐ کا وہ فرمان یاد تھا ’’ سات قسم کے لوگوں کو خدا تعالیٰ روز قیامت اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔ نبی کریمؐ نے ان لوگوں میں ایسے شخص کا بھی ذکر فرمایا کہ جو خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے کوئی صدقہ کرے اور اسے لوگوں سے اس قدر خفیہ رکھے کہ بائیں ہاتھ تک کو پتہ نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے خدا تعالیٰ کی راہ میں کیا خرچ کیا ہے۔ ’’چنانچہ خاتون نے کہا:میں جس کی خاطر یہ رقم دے رہی ہوں‘ اسے میرا نام اچھی طرح معلوم ہے۔ مجھے کسی رسید کی ضرورت نہیں۔ یہ کہا اور نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ (سنہری کرنیں۔

عبید بن واقدیشی بصریؒ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کے لئے روانہ ہوا تو اتفاقاً میری ایک شخص سے ملاقات ہوگئی جس کے ہمراہ ایک لڑکا تھا جو نہایت خوبصورت تھا اور تیز رفتار بھی تھا۔ میں نے اس شخص سے پوچھا کہ یہ لڑکا کس کاہے؟ اس شخص نے جواب دیا کہ یہ لڑکا میرا ہی ہے اور اس کے متعلق ایک عجیب و غریب واقعہ ہے‘ جو میں آپ کو سناتاہوں۔

وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ میں حج کے لئے گیا۔ میرے ہمراہ میری بیوی یعنی اس لڑکے کی والدہ بھی تھی۔دوران سفر اس کی والدہ کو درد زہ شروع ہوا اور یہ لڑکا پیدا ہوا لیکن اس کی والدہ تکلیف ولادت کی وجہ سے انتقال کرگئی۔ چنانچہ میں اس کی والدہ کی تجہیز و تکفین میں مصروف ہوگیا اور جب تکفین وغیرہ سے فارغ ہوا اور روانگی کا وقت قریب آیا تو میں نے اس لڑکے کو ایک پارچہ میں لپیٹ کر ایک غار میں رکھ دیا اور اس کے اوپر پتھر رکھ دئیے اور یہ خیال کرتا ہوا قافلے کے ساتھ روانہ ہوگیا کہ یہ بچہ کچھ دیر بعد مر جائے گا۔ حج سے فارغ ہو کر جب ہم لوٹے اور اس منزل پر پہنچے تو میرے ہمراہیوں میں سے ایک شخص دوڑ کر فوراً اس غار پر پہنچا اور پتھر ہٹائے تو کیا دیکھتا ہے کہ لڑکا زندہ ہے اور اپنی انگلی چوس رہا ہے اور اس میں سے دودھ جاری ہے۔ چنانچہ میں نے اس کو اٹھا لیا اور اب یہ آپ کے سامنے موجود ہے جس کی حفاظت اللہ کرتا ہے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ (حیات الحیوان ‘ جلد دوم)

متعلقہ خبریں