Daily Mashriq


مریم نواز کا بیانیہ

مریم نواز کا بیانیہ

جن لوگوںکو بیگم کلثوم نواز کی مشرف حکومت کے خلاف تحریک یاد ہے انہیںمریم نواز کی موجودہ سرگرمیاں اس تحریک کا ایکشن ری پلے معلوم ہوں گی۔ 2000ء میں بیگم کلثوم نواز کا ہدف اپنے شوہرنواز شریف اور دیور شہباز شریف کو قیدسے آزادکرانا تھا جب کہ آج مریم نواز اپنے والد نواز شریف کو قید سے آزاد کرانے اور چچاشہباز شریف کی مقدمات سے جان چھڑانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ اگر مریم نواز کا ہدف اس سے مختلف ہوتا تو وہ آٹھ نو ماہ زباںبندی کا مظاہرہ نہ کرتیں ‘ مہینوںپر پھیلی اُن کی خاموشی بتارہی ہے کہ معاملہ کسی اصول یا نظریے کا نہیں بلکہ ردعمل کا ہے۔ مریم نواز اور نواز شریف کی جب ضمانت ہوئی تو یہ دونوں خاموش رہے ‘ نواز شریف کو 6ہفتے علاج کی غرض سے جیل سے رہائی ملی تو وہ تب بھی خاموش تھے اور مریم بی بی نے بھی زبان نہ کھولی لیکن جونہی نوازشریف کی بیرون ملک علاج کی درخواست مسترد ہوئی تومریم نواز پرانا ’’بیانیہ‘‘ لیے گھر سے باہر نکل آئی ہیں ۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ مریم نواز کی جدوجہد ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہے تاکہ نواز شریف‘ شہباز شریف اور خاندان کے دیگر افراد کومقدمات اور سزاؤں سے ریلیف مل سکے۔ مریم نواز کے لہجے کی تلخی بھی بتا رہی ہے کہ اصل دکھ اور تکلیف ذاتی نوعیت کی ہے چنانچہ جیسے ہی خاندانی تکالیف کے مداوے کی صورت نکل آئی تو ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ ہوا ہو جائے گا۔

دسمبر 2000ء کے وہ دن یاد کریں جب ڈکٹیٹر جنرل مشرف کے خلاف بیگم کلثوم نواز کی تحریک یکایک اس وقت ختم ہو گئی تھی جب نواز خاندان اور پرویز مشرف کے درمیان 10سالہ جلاوطنی کا معاہدہ طے پا گیا۔ راتوں رات نوازشریف اور ان کا خاندان ملک چھوڑ گئے۔ شاہد خاقان عباسی کوبرسوں یہ شکوہ رہا کہ ان کے برابر والے سیل میں وہ قید تھے لیکن وہ انہیںملے بغیر ہی چلے گئے۔ مسلم لیگ ن کی باقی قیادت ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئی کیونکہ جلاوطنی اختیار کرنے والے رہنماء نے ان سے مشورہ کیا اور نہ ہی اس حوالے سے انہیں اعتماد میں لیا۔ ایک چٹ پر مخدوم جاوید ہاشمی کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ اگر راجہ ظفر الحق جیسا شخص نہ ہوتا تو مسلم لیگ ن بحیثیت جماعت قصۂ پارینہ بن چکی ہوتی۔ یہ راجہ صاحب تھے جنہوںنے مسلم لیگ ن کو قیادت فراہم کی اور اسے بکھرنے سے بچایا۔ 12اکتوبر 1999ء کو ملٹری ٹیک اوور ہوا تو راجہ ظفر الحق لندن میں تھے۔ ان سے بی بی سی کے نمائندے نے پوچھا کہ آپ کیاکریں گے تو انہوں نے جواب دیاکہ پہلی فلائٹ سے پاکستان جاؤں گا یعنی جن دنوں لیگی قیادت بشمول نواز خاندان پاکستان سے بھاگنے کے چکر میںتھے راجہ ظفر الحق لندن سے پاکستان آ گئے۔ انہیں بعد ازاں وزارت عظمیٰ کی پیش کش بھی کی گئی لیکن انہوں نے نواز شریف کاساتھ نہ چھوڑا اور اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا ۔ یہ اسحق ڈار جیسے لوگ تو دودھ پینے والے مجنوںہیں۔ آج اسحق ڈار کہتے ہیں کہ انہوںنے نواز شریف کے خلاف حدیبیہ پیپر مل کیس میں منی لانڈرنگ کا حلف نامہ دباؤ میںدیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسحق ڈار ان دنوں راجہ ظفر الحق سے اسلام آباد کلب میں ملے تھے اورانہیں نواز شریف کاساتھ چھوڑنے اور جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا حصہ بن جانے کے لیے قائل کر رہے تھے۔ ستم ظریفی مگر یہ ہے کہ اچھا وقت آنے پر اسحق ڈاروں کو ہی نوازا جاتا ہے اور ممنون حسینوں کو صدر پاکستان بنا دیا جاتا ہے۔ آج بھی مسلم لیگ ن کا اصل اثاثہ تو راجہ ظفر الحق جیسے احباب ہیں جو ہر آڑے وقت میں اصولوںکا پرچم بلند کر کے استقامت سے کھڑے رہتے ہیں۔ لیکن قیادت ان کی نیک نامی کو اپنے مفادات کو تحفظ کے لیے استعمال کرتی رہی ہے اور بعد ازاں انہیں فراموش کر دیتی ہے۔ مریم نواز کا بیانیہ اپنے ’’مقاصد‘‘ کو پا گیا تو تاریخ ایک مرتبہ پھر دہرائی جائے گی۔ نواز خاندان ملک سے باہر ہوگا اور یہاں راجہ ظفر الحق جیسے چند اصول پسند ایام پیری میںبھی سڑکوںپر دھکے کھائیں گے اور کسی نام نہاد اصولوں کی علم بردار تحریک کا ایندھن بنیں گے۔

اس بات میں کیا شبہ ہے کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘ ‘کے جعلی بیا نئے کو پاکستان کی عوام 2018ء کے الیکشن میں مسترد کر چکی ہے اور اس کا احساس لیگی قیادت کو بھی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو خواہ مخواہ لتاڑ کر انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا ہے لیکن ان کی مجبوری یہ ہے کہ وہ اس کے علاوہ کیا کہیں؟ وہ اپنی مصیبت کو تقدیر کا لکھا ہوا سمجھ کر قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں چنانچہ اپنے بچاؤ کیلئے کبھی ایک اور کبھی دوسرا سہارا تلاش کرتے ہیں۔ ملکی اسٹیبلشمنٹ کا قصور تاریخ کا طالب علم کبھی لکھے گا تو فقط اس قدر کہ انہوں نے عدالتی مقدمات میں نواز شریف کو بچانے کیلئے کوئی مدد فراہم نہ کی۔ اسٹیبلشمنٹ اپنے اس قصور کی وجہ سے تاریخ میں کیا مجرم قرار پائے گی؟ مسلم لیگ ن کے اندر یہ سوچ موجود ہے کہ ہم نے فوج پر بے جا تنقید کر کے اپنی منزل کو کھوٹا کیا ہے مگر میں دوسری طرح سوچتا ہوں اور وہ یہ سوچ ہے کہ اگر کہیںکسی جگہ پر بالفرض اسٹیبلشمنٹ کا قصور بنتا بھی ہے تو کیا ملکی مفاد کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اپنی ذات سے زیادہ ملک اور قوم کا مفاد مقدم رکھا جائے اور ایسے بیانات‘ گفتگو اور بیانئے کے فروغ سے گریز کیا جائے جس کی وجہ سے ملک کا نقصان ہونے کا خدشہ ہو اور ریاستی اداروں کی عزت پر حرف آئے یہ سوچ مگرکیونکر پیدا ہو گی جب ہماری سیاست کی باگیں ایسے افراد کے ہاتھ میں ہوں گی جو اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور جنہیں اپنے ذاتی مفادات ملکی مفادات سے زیادہ عزیز اور مقدم ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ پاکستان کو ہرانے کی کوشش میں اول تو وہ جیت نہیں پائیں گے لیکن اگر وہ جیت بھی گئے تو ہارے ہوئے پاکستان میںوہ کیا کریں گے؟ کیا مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی نئی ابھرتی ہوئی قیادت نے کبھی اِن خطوط پر بھی سوچا ہے یا وہ اپنے بزرگان کی روایتی مفاداتی سوچ کے اسیر ہی رہیں گے؟۔

متعلقہ خبریں