Daily Mashriq


حکومت کا معاشی مؤقف

حکومت کا معاشی مؤقف

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی تشکیل دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکی شہر بریٹن ووڈ میں ہوئی تھی۔ ان اداروں کی تشکیل کا مقصد عالمی اقتصادی نظام پر امریکی کنٹرول تھا۔ اس مقصد کیلئے ڈالر کو عالمی کرنسی کا معیار قرار دیا گیا تاکہ کوئی بھی معیشت آزادانہ کردار ادا نہ کرسکے۔ ان اداروں کی اصل حیثیت اقتصادی غارت گر کی ہے، عالمی اقتصادی نظام سیکولر تہذیبِ مغرب کا اقتصادی اور معاشی چہرہ ہے اسلئے یہ جانتے بوجھتے کروڑوں انسانوں کو فاقہ کشی اور افلاس کے گڑھے میں گرا دیتے ہیں۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول کا معاہدہ طے پاگیا ہے، معاہدے کے مطابق 39مہینوں پر محیط اس پروگرام کے ذریعے پاکستان کو 6ارب ڈالر کا قرضہ ملے گا اور عالمی بینک کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک بھی چھ ارب ڈالر کے نئے قرضے فراہم کریں گے۔ اس معاہدے کی تفصیلات مانگی جارہی ہیں، اپوزیشن چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ میں معاہدے پر بحث ہو لیکن حکومت اور آئی ایم ایف دونوں اس معاہدے سے متعلق خاموشی اختیار کرنا چاہتے ہیں کیونکہ معاہدے میں آئی ایم ایف کی تمام شرائط تسلیم کی گئی ہیں۔ حکومت نے کوشش کی تھی کہ آئی ایم ایف شرائط میں نرمی لائے، لیکن وہ اس کیلئے تیار نہیں ہوا، اسی لئے معاہدے کا اعلان خاموش اعلامئے کے ذریعے کیا گیا۔ مالیاتی ادارے کیساتھ معاہدے کے تحت اگلے 3سال میں پاکستانی روپے کی قدر میں 20فیصد کمی ہوگی، ڈالر کی قیمت 200روپے کی سطح تک بھی جا سکتی ہے۔ آئی ایم ایف معاہدے کے تحت پاکستان میں ڈالر کی قیمت 180روپے کی سطح تک جانے کا امکان ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کے باعث اس وقت ملک میں بیرونی قرضوں کا حجم 105ارب 84کروڑ ڈالر تک جاپہنچا ہے۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ قرضے 92ارب 29کروڑ ڈالر تھے۔ تین ماہ میں 13ارب 55کروڑ ڈالر کے قرض کا اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے قرضے جی ڈی پی کا تقریباً 75فیصد ہوگئے ہیں اور رواں سال دسمبر تک 5ارب 72کروڑ ڈالر کے قرضے واپس کرنا ہیں اور اگلے ماہ کے آخر تک 1ارب 27کروڑ ڈالر جبکہ جولائی سے دسمبر تک 4ارب 44کروڑ ڈالر واپس کرنا ہیں۔

ایک رائے یہ بھی دی جارہی ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد حکومت کو کرنا ہے اور یہی بنیادی شرط ہے جسے چھپایا جارہا ہے، اسی لئے وہ مافیا متحرک ہوا کہ حکومت اصل معاہدے کی تفصیلات بتائے۔ اس پس منظر میں اسٹاک مارکیٹ مزید گرکر تین سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ سب سے بڑا مرحلہ بجٹ کا اعلان ہوگا۔ سات سو سے آٹھ سو ارب روپے کے ٹیکس عائد کئے جائیں گے اور بہت سارے اخراجات میں کٹوتی کردی جائے گی تاکہ بجٹ خسارہ محدود کیا جاسکے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جائے گا لیکن یہاں بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکار کے دعوے کے مطابق 90ارب ڈالر قرضہ لیکر کھایا جا چکاہے، اس سب کے باوجود ٹیکس ایمنسٹی اسکیم لائی گئی ہے جس سے تین چار سوارب ملنے کی امید ہے۔ دنیا بھر میں اسکیمیں آتی ہیں لیکن ٹیکس پورا وصول کیا جاتا ہے لیکن یہاں 6فیصد دینے کا کہہ کرکہا جارہا ہے کہ سارے اثاثے باہر ہی رکھو۔ یہ اسکیم تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر لائے ہیں اور اگر اس کے نتائج نہ ملے تو ناکامی کے ذمہ دار تنہا عمران خان نہیں ہوں گے۔ حفیظ شیخ، رضاباقر اور شبر زیدی پر مشتمل معاشی ٹیم عمران خان کی نہیں، اگر یہ معاشی ٹیم ناکام ہوجاتی ہے تو ذمہ دار کون ہوگا؟ یہاں حکومت کے سامنے دو راستے ہیں، پہلا یہ کہ وہ وہی کچھ کہتی اور کرتی رہے جو اب تک کہہ رہی ہے، دوسرا راستہ اب خود کچھ کرکے دکھانے کا ہے۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ اب اپنا نیا بیانیہ لیکر چلے، گزشتہ حکومتوں کیخلاف بیانیہ اب نہیں چلے گا، ورنہ یہ حکومت جلد فارغ ہوجائے گی۔

آئندہ بجٹ میں ترقیاتی فنڈ کیلئے 800ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔ یہ قلیل رقم ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت نہیں ہوگی۔ آئی ایم ایف نے رپورٹ لکھی ہے کہ پاکستان کی معیشت 2.27 کی رفتار سے ترقی کرے گی۔ جب معیشت اتنی آہستہ ہو جائے گی تو نوکریاں کہاں سے نکلیں گی؟ بہت عرصے تک لوگ بیروزگار رہنے سے غربت کی لکیر سے نیچے چلے جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام مصر میں دیا گیا اور جب یہ پروگرام نومبر 2016 میں شروع ہوا تو وہاں صرف 35 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے تھے لیکن آج 2019ء میں وہاں 55فیصد سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ غربت تیزی سے بڑھی ہے۔ اس پروگرام کا ڈیزائن ہی ایسا ہے جس میں معیشت کا سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے اور صورتحال یہ ہے کہ لوگ روزانہ کی بنیاد پر فاقہ کشی، علاج اور بیروزگاری کے باعث مر رہے ہیں اور جن کی زندگی کی سانسیں چل بھی رہی ہیں تو وہ مشکل سے سانس لے پا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے زیرسایہ معیشت غریب اور متوسط طبقے کیلئے ایک پھندا ہے۔ اس نظام میں بدحالی کی کیفیت کو تبدیل کرکے پیش کیا جاتا ہے۔ اعداد وشمار توڑمروڑ کر پیش کئے جاتے ہیں۔ حکمرانوں کی نااہلی اور بدنیتی پر مبنی پالیسی کا بوجھ عام آدمی پر پڑتا ہے اور وہ ہر گزرتے دن کیساتھ زبوں حالی کا شکار ہورہا ہے۔ یہ جھوٹ، فریب اور استحصالی نظام کے تحت چلنے والی معیشت کبھی عوام اور عام آدمی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں