Daily Mashriq


یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

انگلستان کو جمہوریت کی ماں اور بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اگر قرار دیا جاتا ہے تو کچھ ایسا غلط بھی نہیں۔ جمہوری نظام کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں جن کی روشنی میں اگر ہم اپنے ملک کی جمہوریت کو پرکھیں تو شرمندگی سی ہوتی ہے کیونکہ جمہوریت اور شخصیت پرستی میں کوئی قدر مشترک نہیں ہوتی مگر اسے ہماری سیاست میں قدم قدم پر تلاش کرنے میں دقت بھی نہیں ہوتی۔ آج کی دو تازہ خبریں ایسی ہیں جن کے بارے میں سوچتے اور لکھتے ہوئے اصولی جمہوریت پر ایمان پختہ ہوجاتا ہے اور دونوں کا تعلق محولہ بالا دونوں ملکوں کیساتھ ہے یعنی برطانیہ کی وزیراعظم تھریسامے نے بریگزٹ ڈیل میں ناکامی پر مستعفی ہونے کا جو اعلان کیا تھا اس کے بعد وہاں ایسا کوئی بھی بھونچال آیا نہ جمہوریت کو نقصان پہنچنے کے نعرے لگائے جا رہے ہیں، بس وزارت عظمیٰ کے چار اُمیدوار سامنے آگئے ہیں جو برطانوی جمہوریت میں معمول کی کارروائی ہے۔ تھریسامے ایک عرصے سے بریگزٹ کے معاملے پر اتفاق رائے کیلئے کوشاں تھیں مگر اپنے مقصد میں ناکامی کے بعد نہایت ایماندارانہ انداز سے شکست تسلیم کرتے ہوئے منظر سے ہٹ جانے کا مشکل ترین فیصلہ انتہائی آسانی کیساتھ کرکے دوسروں کیلئے میدان خالی کرنے پر تیار ہوگئیں۔ ادھر بھارت میں بی جے پی کے ہاتھوں لوگ سبھا کے حالیہ انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست پر کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے جماعت کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی صدارت سے استعفیٰ دیدیا تاہم اجلاس میں موجود اہم پارٹی رہنماؤں سونیا گاندھی‘ من موہن سنگھ‘ امریندر سنگھ‘ غلام نبی آزاد‘ شیلا ڈکشٹ سمیت تمام اراکین نے راہول گاندھی کے فیصلے کو مسترد کردیا‘ ان دو واقعات کو دیکھ کر جمہوریت پر یقین اور بھی پختہ ہو جاتا ہے اور راہول گاندھی کے فیصلے کو مسترد کرکے کانگریس کے سینئر رہنماؤں نے اسے جہاں تقویت پہنچائی ہے وہاں وہ ایک نئے عزم وحوصلے سے کھڑا ہو کر بی جے پی حکومت کو لوک سبھا میں ٹف ٹائم دینے میں زیادہ قوت کا مظاہرہ بھی کریگا اور اسے یہ سوچنے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ

تنہا کھڑا ہوں میں بھی سر کربلائے عصر

اور سوچتا ہوں میرے طرفدار کیا ہوئے

اس صورتحال کے برعکس جب ہم اپنی جمہوریت پر نظر ڈالتے ہیں تو جمہوریت کے نام پر شخصی بلکہ خاندانی آمریت کے نظارے ہر سو دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا خمیر ہی جس مٹی سے گوندھا گیا اس میں باقی سب کچھ موجود ہے مگر جمہوریت نظر نہیں آتی، ہر جانب شخصیت پرستی اور ذاتی وخاندانی بلکہ موروثی اقدار سے گندھے ہوئے خمیر کو آمرانہ سوچ کی بھٹی میں دہکانے کے بعد جس جمہوریت کے برتن سیاسی منڈی میں فروخت کیلئے لاکر رکھے گئے ہیں ان کی باس تعفن زدہ جمہوریت کی نشاندہی کرتی ہوئی زور زبردستی ہمارے مسام جاں کو ’’معطر‘‘ کرنے کا باعث بن رہی ہے کہ جو لوگ دن رات جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے ان کے بارے میں حبیب جالب عرصہ پہلے کہہ گئے ہیں کہ

یہ لوگ اس کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیں

کہ اقتدار رہے ان کے جانشینوں میں

جمہوریت کے نام پر جمہوری اقدار سے کھلواڑ کرنے والوں نے خود اپنی جماعتوں میں جمہوریت کو رائج ہونے سے روکنے کی وہ کونسی تدبیر ہے جو اختیار نہیں کر رکھی‘ موروثیت پر یقین رکھنے والے اپنے بعد صرف اپنی اولاد ہی کو پارٹی قیادت کیلئے نہ صرف موزوں سمجھتی ہے بلکہ اس کیلئے انہیں تیار بھی کرتی رہتی ہے۔ بھارت میں آج تک جمہوریت پر شب خون مارنے کی نوبت صرف اس لئے نہیں آئی کہ وہاں جمہوریت کی بیخ کنی کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں نے کبھی کوئی کوشش نہیں کی۔ آزادی کے بعد اگرچہ وہاں جواہر لعل نہرو طویل عرصے تک برسر اقتدار رہے مگر ان کے گزرنے کے بعد خود کانگریس کے اندر اہم تبدیلیاں ہوتی رہیں اور دوسرے لوگ حکمرانی کرتے رہے۔ اگرچہ اندرا گاندھی جواہر لعل نہرو کی بیٹی ضرور تھی لیکن ایک تو آزادی کے حوالے سے اس کی سیاسی سرگرمیاں بھی اس کے کریڈٹ پر تاریخ کا حصہ ہے اور پھر اس کا خاندان (شوہر سے رشتے کے حوالے سے) تبدیل ہوگیا جبکہ ان کے بعد راجیو گاندھی تک آتے آتے اقتدار نہرو خاندان سے گاندھی (اندرا کے شوہر‘ جس کا مہاتما گاندھی سے کوئی تعلق نہیں تھا) خاندان کے پاس آگیا اور اس مقصد کیلئے اندرا گاندھی کے بعد ان کے کسی مبینہ وصیت کا سہارا نہیں لیا گیا جبکہ راجیو گاندھی نے ڈیلیور بھی کیا اور اب راہول گاندھی تک پارٹی قیادت بھی دیگر کانگریس رہنماؤں سے ہوتے ہوئے پہنچی ہے جبکہ ہمارے ہاں جو نئی نسل سامنے آئی ہے یا لائی جا رہی ہے ان کی سیاسی خدمات کیا ہیں؟ اس کے بارے میں ضرور سوچنا چاہئے۔ راہول گاندھی نے جمہوریت کے تقاضوں کے عین مطابق استعفیٰ دیکر جو مثال قائم کی ہے وہ ہمارے ہاں کی نام نہاد جمہوریت (مسلط کردہ) قیادت کیلئے لمحۂ فکریہ ہونی چاہئے کیونکہ بھارت میں پارٹی قیادت کا استعفیٰ نامنظور کیا جاتا ہے جبکہ یہاں مسلط کردہ مستقبل کی قیادت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جس قسم کے خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے اور جس طرز کے جملے الارے جاتے ہیں ان کو پڑھ کر تو خود اس مسلط کردہ نام نہاد موروثی سیاستدانوں کو شرم سے ہی خود کو سیاست سے الگ کر دینا چاہئے بلکہ عبرت کا مقام تو یہ ہے کہ بڑے بڑے سینئر اور جغادری رہنماء بھی اس بہ دست بچگان قسم کی قیادت کے آگے بچھے بچھے جاتے ہیں تو وہ لمحے دیکھنے کے ہوتے ہیں

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

متعلقہ خبریں