Daily Mashriq


سلگتے مسائل کے غیرفطری حل

سلگتے مسائل کے غیرفطری حل

فلسطین کی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے سیاسی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر محمود باز کا ایک اہم بیان دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا کہ حماس نے اوسلو سمجھوتے کو مسترد کرکے جو فیصلہ کیا وہ تاریخی ثابت ہوا ہے۔ حماس نے سمجھوتے کے پہلے روز ہی کہا تھا کہ یہ محض فلسطینیوں کو اندھیرے میں رکھنے اور ان کی تحریک آزادی کو دبانے کا ایک غیرملکی حربہ ہے، اس سے فلسطینیوں کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ فلسطینی مزاحمتی لیڈر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اوسلو معاہدے کو چھبیس برس گزر گئے ہیں اور ارضِ فلسطین پر بدستور دکھوں، مسائل، مصائب، لاشوں، آہوں اور سسکیوں کی فصل اُگ رہی ہے۔ چھبیس سال پہلے جب تنظیم آزادی فلسطین کے قائد یاسرعرفات اور اسرائیلی وزیراعظم اضحاک رابن کے درمیان اوسلو معاہدہ ہو رہا تھا تو اسے فلسطینیوں کیلئے ایک نئی صبح کا آغاز کہا گیا تھا۔ بتایا جا رہا تھا کہ اب درماندہ حال فلسطینیوں کے دکھوں پر مرہم رکھے جائیں گے اور ان کا شمار دنیا کی آزاد اور باوقار قوموں میں ہوگا۔ تنظیم آزادی فلسطین کے قائد یاسرعرفات پیرانہ سالی کا شکار ہو رہے تھے۔ فلسطین کی مزاحمت پر ان کا عملی کنٹرول ختم ہو رہا تھا اور اس کی جگہ پتھر اور فدائی کلچر کے خوگر کئی نئے گروپ منظر پر اُبھر رہے تھے۔ امریکی صدر بل کلنٹن نے دنیا کے تین اہم خطوں کی سیاست اور امن پر اثرانداز ہونے والے تین اہم مسائل کو اپنے انداز سے حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان میں مشرق وسطیٰ کی سیاست میں مدتوں سے ہلچل اور عدم استحکام کا باعث بننے والا مسئلہ فلسطین، برطانیہ اور یورپ کی سیاست پر اثرانداز ہونے والا شمالی آئرلینڈ اور جنوبی ایشیا کی سیاست اور سٹریٹجک معاملات کو اپنے حصار میں لئے رکھنے والا کشمیر کا مسئلہ شامل تھا۔ بل کلنٹن چونکہ خود آئرش نسل سے تعلق رکھتے تھے اسلئے وہ شمالی آئرلینڈ کے تنازعے کو حل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ تینوں مقامات پر یہ بات خاصی اہمیت کی حامل تھی کہ قابض قوت کو ’’اگر مگر‘‘ کیساتھ ایک زمینی حقیقت کے طور پر تسلیم کرائے جانے کو مرکزیت حاصل تھی۔ اوسلو معاہدے سے اس کام کی ابتدا ہوئی، اوسلو معاہدے میں اسرائیل کا مرکزی اور بالادست کردار ایک حقیقت کے طور پر موجود رہا اور فلسطینیوں کو دو ریاستوں کا مبہم سا اشارہ دیا گیا۔ فلسطینی اتھارٹی کو ایک میونسپل کمیٹی کی شکل دی گئی جس کے سربراہ کو میئر کی بجائے صدر کا نام دیا گیا جسے اپنی حدود میں امن وامان قائم کرنے کا فریضہ سونپا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ حماس نے اس منصوبے کو روز اول سے مسترد کیا۔ شمالی آئرلینڈ میں آئرش ری پبلکن آرمی تاج برطانیہ کی حاکمیت کیخلاف اور جمہوریہ آئرلینڈ سے ملنے کی جدوجہد کر رہی تھی۔ شمالی آئرلینڈ اور جمہوریہ آئرلینڈ دونوں میں اکثریت کیتھولک عیسائیوں کی تھی جس نے دونوں کے درمیان تعلق کو مضبوط کر رکھا تھا۔ 1999میں یہاں امریکی کوششوں سے ’’گڈ فرائیڈے‘‘ معاہدہ ہوا جس میں شمالی آئرلینڈ کے عوام کا اصل مطالبہ کہیں دور دور تک دکھائی نہ دیا۔ اس معاہدے میں آئرش ری پبلکن آرمی کو سیاسی عمل کا حصہ بنا کر جنگ بندی کرا دی گئی اور انہیں شمالی آئرلینڈ کی اسمبلی اور انتخاب کا راستہ دکھا دیا۔ بیس سال گزر گئے شمالی آئرلینڈ اب بھی برطانیہ کے کنٹرول میں ہے شاید شمالی آئرلینڈ کے عوام نے بھی حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ نوے کی دہائی میں ہی امریکہ نے کشمیر میں ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے نام پاکستان اور بھارت کے درمیان سمجھوتہ کرانے کی کوششیں شروع کیں۔ میاں نوازشریف پاکستان کی طرف سے ان کوششوں کو آگے بڑھاتے رہے۔ انہی کوششوں کے حصے کے طور پر واجپائی لاہور آئے اور فریقین مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ایک اوسلو طرز کے معاہدے کی طرف بڑھنے لگے۔ کشمیر کا مزاحمتی کیمپ ان کوششوں کو شک کی نگاہوں سے دیکھتا رہا کیونکہ ان میں کشمیر کی سرزمین پر بھارت کے کنٹرول کو ایک نئے انداز کی جوازیت فراہم کی جانی تھی۔ کارگل نے اس حل کو ناکام بنایا بعد میںجنرل مشرف نے بھی اسی مسودے کو جھاڑ پونجھ کر دوبارہ اپنا لیا اور یہ کوشش وکلاء تحریک نے ناکام بنا دی۔ برسوں بعد فلسطین اور شمالی آئرلینڈ کے زمینی حالات بتا رہے ہیں کہ امریکی سکرپٹ اور دباؤ کے تحت کشمیر پر جو سمجھوتہ ہونے جا رہا تھا اس میں کشمیریوں کیلئے اچھے موسموں کی کوئی نوید نہیں تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف اور میاں نوازشریف کی طرف سے بھارت کیساتھ سمجھوتے کے قریب پہنچنے کا کریڈٹ تو لیا جاتا ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس سمجھوتے کے حقیقی خدوخال کیا تھے؟۔ کشمیر پر اب بھی ایک غیرفطری سمجھوتے کیلئے دباؤ موجود ہے اور ملک کے اندر ایک طبقہ اس کیلئے تیار بھی بیٹھا ہے۔ انہیں کسی غیرفطری سمجھوتے کی طرف بڑھنے سے پہلے فلسطینی لیڈر کے بیان کے بین السطور حالات اورمستقبل کا احوال جاننا چاہئے۔ مسائل کا آئیڈیل حل تلاش کرنا ایک مشکل عمل ہے مگر مسائل کا اس انداز سے حل تو نکلنا چاہئے کہ جو کسی حد تک ’’حل‘‘ کی تعریف پر پورا اُتر سکے۔

متعلقہ خبریں