Daily Mashriq


چائنہ پٹاخے اور ہوائی فائرنگ، عذاب ہیں یا رب

چائنہ پٹاخے اور ہوائی فائرنگ، عذاب ہیں یا رب

حضرت انسان بھی اپنی سہولت کیلئے کیا کیا ایجاد کرتا رہتا ہے، کہیں تو اس نے فون ایجاد کیا تو کہیں پر ٹیلی ویژن، کہیں ہوائی جہاز تو کہیں خوبصورت اور آرام دہ گاڑیاں، ایک طرف کمپیوٹر نے آکر انسانوں کی خدمت کی تو دوسری طرف جان بچانے کی ادویات نے سسکتی ہوئی انسانیت کی خدمت کی۔ ہم خدا ناخواستہ سائنس کی ترقی کیخلاف نہیں اور نہ ہی ہم ان چند نام نہاد مولویوں کی طرح ہیں کہ پہلے ان ایجادات کی مقدور بھر مخالفت کی جائے، انہیں شیطان کی آواز سے تشبیح دی جائے اور پھر دنیا جہاں کا سکون غارت کرنے کیلئے انہی ایجادات کا اتنا استعمال کیا جائے کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔ دن کا سکون اُڑ جائے اور راتوں کی نیند غائب ہو جائے، ہم سائنس کی ان تمام کی تمام سہولیات کو نہ صرف استعمال کرتے ہیں بلکہ ان ایجاد کرنے والوں کے ممنون ومشکور بھی ہیں جس کیلئے ہم بارہا بارگاہ ایزدی میں ان کے درجات کی بلندی کیلئے دعا بھی کرچکے ہیں۔ ان میں ہمارے اور آپ کے محبوب سائنسدان حضرت ڈاکٹر قدیر خان شامل ہیں، مگر ان ساری آسانیوں اور سہولتوں کے بیچوں بیچ ہمارے اپنے ہی بھائی بندوں کی زندگی اجیرن کرنے کیلئے بھی بہت کچھ ایجاد ودریافت کیا ہے، ان میں کلاشنکوف گن اور اب چائنہ پٹاخے بھی آگئے ہیں۔

چائنہ پٹاخوں نے ناک میں دم کر رکھا ہے اور کوئی مائی کا لال ان بچوں کو منع نہیں کر سکتا کہ خدارا یہ پٹاخے نہ چھوڑو، ہمیںآرام، عبادت یا پڑھائی کرنے دو۔

امسال بھی عید الفطر کی آمد کے پیش نظر کھلونا نمااسلحہ سے بڑی مارکیٹیں بھر دی گئی ہیں اور دکانداروں کو سپلائی بلاروک ٹوک جاری بھی ہے، گلی کوچوں کے دکاندارسب سے زیادہ کھلونا نما ہتھیار خریدتے ہیں کیونکہ بچے عید ی ملنے کے بعد ساری رقم انہی دکانوں سے کھلونا نما پستول ،بندوقیں خریدنے پر اڑادیتے ہیں۔ ایک طرف اگر یہ کھلونا نما اسلحہ اور اس کے پلاسٹک ساختہ چھرے بچوں کی آنکھوں کیلئے انتہائی خطر نا ک ہیں تودوسری جانب اس سے بچوں میں تشدد کا عنصر بھی بڑھ رہا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس طرح کا عذاب صرف شہروں میں نہیں بلکہ دیہات میں بھی اس سے لوگ پوری طرح مستفید ہوتے ہیں، آج کل راتوں کو تراویح میں ختم قرآن پاک کیلئے لوگ جوق در جوق مسجدوں میں آتے ہیں لیکن چند شرارتی بچے گلی میں پٹاخے بجا کر سب کچھ غارت کردیتے ہیں۔ رات کو عبادات میں خلل پڑتا ہے اور کوئی طالب علم اپنے سبق کی طرف توجہ نہیں کرسکتا، کوئی خدا ناخواستہ مریض ہے تو آرام نہیں کرسکتا، تلاوت قرآن کریم کرنے بیٹھیں تو یہ پٹاخے درپٹاخے ساری تلاوت کا مزہ کرکرہ کر دیتے ہیں، کوئی رات کو نیند نہیں کرسکتا، کوئی دن کو آرام نہیں کرسکتا۔ اگر ہم اپنے بچوں کو روکیں تو کیونکر کہ باہر گلی میں ہر چند سیکنڈ کے بعد ایک پٹاخہ بجتا ہے، یوں ہمارے بچے بھی بضد رہتے ہیں کہ انہیں تو کوئی نہیں روک رہا آخر یہ ظلم ہم پر ہی کیوں، اس کا جواب ہمارے پاس نہیں۔ خدا ہی ہمیں اس عذاب سے نجات دلائے۔

اب کوئی کہے کہ ان شیطانی ایجادات کی یہ اوقات کہ ان پر پورا کالم لکھ دیا جائے، بات تو درست ہے کہ نہ تو کلاشنکوف کی ایک گولی کی کوئی قیمت ہے اور نہ ہی چائنہ پٹاخوں کی، کلاشنکوف کی ایک گولی کی قیمت چند روپے مگر اس کی گولی پر تو جیسے کسی نہ کسی کی موت یقینی لکھی ہوتی ہے، یہ گولی چاہے کوئی اپنے بچاؤ کیلئے چلائے یا کسی پر رعب ڈالنے کیلئے ہوائی فائرنگ کی جائے، اس چند روپوں کی گولی نے کروڑوں روپوں سے زیادہ قیمتی انسان کی جان ضرور لینی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ آپ کا دشمن ہو بلکہ اکثر اوقات آپ اس کو جانتے ہی نہ ہوںگے۔ ہمارے یہاں پورے صوبہ میں یہ رواج بن گیا ہے کہ ہر خوشی کے موقع پر کلاشنکوف سے فائر ضرور کرنے ہیں، یہ خوشی آپ کے کسی دوست رشتہ دار کی شادی بھی ہوسکتی ہے اور کسی کے ہاں نارینہ بچے کی پیدائش بھی، آپ مقدمہ جیتیں تب بھی کلاشنکوف کے منہ سے آگ نکلے گی اور اگر الیکشن جیتیں تب بھی ہزار ڈیڑھ ہزار راؤنڈ تو فائر کر ہی دئیے جاتے ہیں اور بھئی اگر چاند رات کو کلاشنکوف استعمال نہ کی جائے تو کیا قیامت کے روز استعمال کی جائے گی، چاند نظر آئے نہ آئے کلاشنکوف ضرور چلے گی اور اس کی یہ بے وقعت گولی ایک قیمتی انسانی جان بھی لے کے جائے گی، یہ گولی ہوا میں جانے کے بعد بھی اپنی تباہ کاریاں ضائع نہیں کرتی اور جب واپس زمین پر آتی ہے تو کسی انسان کی جان لیکر ہی رہتی ہے، گویا گولی گولی پے لکھا ہے مرنے والے کا نام۔ اس کی زد میں کبھی کوئی نوجوان آجاتا ہے تو کبھی کوئی بچہ، کبھی اس کا لقمہ کوئی گھریلو عورت ہوتی ہے تو کبھی گھر کے سہن میں سویا ہوا بزرگ، بھرے شہر میں بھی یہ اپنا کام کرجاتی ہے اور نئی رہائشی بستیاں ٹاؤن تو اکثر اس آفت کی زد میں ہوتے ہیں۔ہمارے ایک بزرگ کہتے ہیں کہ خداجانے اس کلاشنکوف ایجاد کرنے والے روسی باشندے کیساتھ قیامت کے دن کیا سلوک کیا جائے گا کیونکہ ہر سخت سے سخت کڑی سے کڑی سزا اس کی اس شیطانی ایجاد کے آگے آٹے میں نمک کے برابر ہے، اس کی اس ایجاد نے جہاں بلواسطہ انسانی جانوں پر ظلم ڈھائے ہیں وہاں بلاواسطہ بھی کئی گھروں کو ویران کیا ہے۔ ہماری نیا پاکستان بنانے والی حکومت سے درخواست ہے کہ جہاں چائنہ پٹاخے بند کئے جائیں وہیں پر ہوائی فائرنگ کا غیراخلاقی وغیر قانونی رواج بھی فی الفور ختم کیا جائے۔

متعلقہ خبریں