Daily Mashriq


مودی کی آبی دھمکی

مودی کی آبی دھمکی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دھمکی دی ہے کہ پاکستان کی جانب جانے والے پانی کی بوند بوند کو روک دیں گے۔بھارتی وزیراعظم کا کہناتھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان میں بہہ جانے والے پانی پر ہمارے کسانوں کا حق ہے ۔بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی دھمکی کئی لحاظ سے ناقابل عمل ہے۔ اولاً یہ کہ بھارت بین الاقوامی قوانین اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے ہوتے ہوئے ایسا نہیں کرسکتا اور اگر ایسا کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے عالمی تنہائی کاسامنا کرنا پڑے گا جبکہ جوابی طور پر چین بھارت کا پانی روک سکتا ہے۔ پانی کا راستہ روکنا اور پانی کو ایک خاص حد اور مقدار سے زائد روکے رکھنا انسانی وسائل اور قدرت کے اندر ممکن نہیں۔ اگر بھارت نے واقعی اس پاگل پن کی سعی کی تو کیا پاکستان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے گا۔ اس طرح سے تو ہر ملک کے لئے دوسرے ملک کا پانی روکے رکھنے کا جواز ہوگا۔ بھارت افغانستان میں ڈیم تعمیر کرکے ایسا کرنے کی ایک سعی میں بھی ہے لیکن ان کو خدشہ ہے کہ پھر پاکستان جوابی طور پر افغانستان کو آنے والے دریائے چترال کا راستہ موڑ دے گا۔ بھارتی وزیر اعظم پاکستان کے بارے میں اکثر و بیشتر ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں اور ان کی دھمکیاں ڈھول کی آواز جیسی ضرور ہیں لیکن دشمن کی آواز خواہ کتنی بھی نحیف اور کمزور نہ ہو اس کی دھمکی کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جانا چاہئے۔ پاکستان کو 1960ء میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے پر ہر قیمت پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے بھارت کے تمام ممکنہ اقدامات کا مناسب توڑ تلاش کرلینا چاہئے۔ جہاں تک مودی کی بڑھک کا تعلق ہے اسے نریندر مودی کی انتخابی حکمت عملی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جس میں وہ کاشتکاروں کو سبز باغ دکھا رہے ہوتے ہیں۔ نریندر مودی کی آئندہ انتخابات کی تیاری میں کنٹرول لائن پر چھیڑ چھاڑ اور کبھی پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی اور کبھی کوئی اور بڑھک سمجھ سے بالا تر امور ہیں۔ مودی انتخاب بھارت میں لڑنے جا رہے ہیں اور توپوں کا رخ ہمسایوں کی طرف کر رکھا ہے جس کا بھارت کے عوام کو ادراک کرایا جاسکے تو انتہا پسند مودی کی جماعت کبھی بھی کامیاب نہ ہو۔

مہمند ایجنسی میں دہشت گردی

سیکیورٹی فورسز کا مہمند ایجنسی میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کیمپ پر خود کش حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دینا مستعدد اورتیاری کی حالت کو ظاہر کر تا ہے۔ ایف سی کے جوان مستعد نہ ہو تے تو خدا نخواستہ بڑا جانی نقصان ہو سکتا تھا ۔ مہمند ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر غلنئی میں واقع مہمند رائفلز کیمپ پر صبح 6 بجکر 20 منٹ پر شدت پسندوں نے حملہ کیا۔حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان جماعت الحرار نے قبول کرلی۔گزشتہ روز بھی وفاقی منتظم شدہ قبائلی علاقے فاٹاکی مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں نے ایک سرکاری اسکول کو بارودی مواد سے اڑا یا دیا تھا۔عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ خود کش حملہ آوروں کو روکنا ممکن نہیں ہوتا یہ خیال اپنی جگہ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اگر حفاظتی ذمہ داریوں پر مامور عملہ خواہ وہ پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ ز ہوں ، پولیس ہو یا فوجی جوان اگر وہ اس طرح سے تیاری کی حالت میں ہوں اور ان کو ہردم خطرے کا احساس رہے تو دہشت گرد خواہ کتنی بھی تیاری کے ساتھ کیوں نہ آئیں وہ کبھی بھی کامیاب نہیںہوسکتے ۔مہمند ایجنسی واقعے سے یہی ثابت ہو تا ہے دیگر ایجنسیوں کی بہ نسبت مہمند ایجنسی میں اس طرح کے واقعات کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں ایک مرتبہ پھر ایجنسی کی تطہیر کے لئے اقدامات کئے جائیں اور علاقے سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا اس طرح سے صفایا کیا جائے کہ وہ کسی کارروائی کے قابل نہ رہ پائیں ۔ علاقے کے عوام کو اس عمل میں سیکورٹی فورسز کی ہر صورت میں مدد کی جانی چاہئیے تاکہ مل کر دہشت گردوں کا صفایا کیا جا سکے ۔

انستھیزیا ماہرین کی قلت

خیبر پختونخوا میں ویسے تو صحت کے شعبے کے حوالے سے منفی خبریں اکثر و بیشتر آتی رہتی ہیں اور ان کے تدارک کے حوالے سے حکومت کے اختیار کردہ اقدامات کے مثبت نتائج کم ہی سامنے آتے ہیں ، اب تازہ صورتحال یہ ہے کہ صوبے میں انستھیزیا سپیشلسٹ ڈاکٹر ورں کی شدید کمی واقع ہو چکی ہے اور اس وقت 35میں سے 30اسامیاں خالی پڑی ہیں ، حالانکہ مریضوں کے آپریشن کے دوران انستھیزیا کے ماہرین کے عدم موجودگی سے مریضوں کی جان کو لاحق خطرات کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اس وقت کو آپریشنوں کے دوران محولہ ماہرین موجود ہوتے ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں میں ان کی کمی سے کبھی بھی حادثات جنم لے سکتے ہیں۔ صوبائی وزیر صحت اور دیگر متعلقہ حکام کو اس صورتحال کا سنجید گی سے نوٹس لیکر اس کمی کو ختم کرنے پر بھر پور توجہ دینی چاہئیے ۔

متعلقہ خبریں