Daily Mashriq


راحیل شریف…تاریخ ساز جرنیل

راحیل شریف…تاریخ ساز جرنیل

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف' اب اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ دس ماہ قبل اعلان کے مطابق آج کل میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کی عرصہ ملازمت میں توسیع حاصل کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ اس اعلان میں جہاں ان کی ذاتی اصول پسندی نظر آئی وہاں اس شاندار ادارے کی اہلیت اور صلاحیت پر اعتماد کا اظہار بھی ہے جس کی تین سال تک انہوں نے کمان کی اور جس کی پیشہ ورانہ اہلیت کو آگے بڑھانے کے لیے دن رات محنت کی۔ بطور کمانڈر بے مثال کارکردگی ' ان کے حسن انتظام، فرائض کے تقاضوں اور چیلنجز سے عہدہ برآء ہونے کی انتہائی قابل قدر صلاحیت کے باعث پوری قوم ان سے محبت کرنے لگی ہے۔ جنرل راحیل شریف نے تاریخی فیصلے کیے ہیں۔ وقت نے ثابت کیا کہ ان کا ضرب عضب شروع کرنے کا فیصلہ ہی صائب فیصلہ تھا کیونکہ تحریک طالبان پاکستان ایسے بے مہار اور سفاک عنصر کے ساتھ مذاکرات لاحاصل ہی ہو سکتے تھے۔ پھر جس چابکدستی سے اُنہوں نے انٹیلی جنس ' برسرزمین فوج اور فضائی قوت کی اعانت کا استعمال کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ورنہ بڑے بڑے نامی انگریز جرنیل فاٹا میں فوجی کارروائی کی کامیابی کو ناممکن قرار دے چکے تھے۔ فاٹا میں تحریک طالبان کی شورش دو عشروں سے جاری تھی ان کے خلاف جس طرح عسکری کارروائی اور مذاکراتی عمل کے امتزاج سے کام لیا جا رہا تھا وہ کامیاب نہیں ہو سکا تھا بلکہ تحریک طالبان کے حملے شدید تر اور سفاک تر ہو رہے تھے۔ لیکن جنرل راحیل شریف کے زیر کمان دو سال میں وہ وقت آ گیا جب اس علاقے سے عارضی طور پر بے دخل ہونے والے پاکستانی دوبارہ اپنے گھروں کو جا رہے ہیں۔ اس آپریشن کے دوران جنرل راحیل شریف کئی بار اگلے محاذوں پر بھی گئے۔ آج ساری دنیا معترف ہے کہ ضرب عضب پاکستان کی عظیم کامیابی ہے۔ 

کراچی آپریشن ضرب عضب کی نسبت مختلف نوعیت کا تھا۔ اور زیادہ ضبط و تحمل کا متقاضی تھا۔ ایک طرف ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین (چیلنج کے انداز میں) کہہ رہے تھے کہ کراچی کو فوج کے حوالے کر دیا جائے۔ دوسری طرف سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت آپریشن پر میڈیا میں اعتراضات کر رہی تھی اور رینجرز کے اختیارات کی توسیع کشاں کشاں کر رہی تھی۔ لیکن کراچی آپریشن مسلسل لگن اور کسی ردِعمل کے رویے کی بجائے نظم و ضبط اور تحمل کا متقاضی تھا۔ سب سے پہلے ٹارگٹ کلرز ' بھتہ خوروں' اغواء برائے تاوان اور دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا اور ان کے محرکین کو ان کے آپریشنل کارگزاروں سے محروم کر دیا گیا۔ انہیں ان کے اسلحہ کے ذخائر سے محروم کیا گیا ۔ کراچی آپریشن کی یہ کامیابی تاریخی کامیابی ہے اور برسرزمین جس طرح کامیابی حاصل کی گئی ہے وہ اپنی جگہ ایک کمال ہے۔

ایک بڑے فیصلے کا اعلان انہوں نے چند ماہ پہلے اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں کیا اور کہا کہ وہ مدت ملازمت میں توسیع کے خواہاں نہیں ہیں۔ یہ اعلان بروقت تھا۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب مختلف لوگ اس حوالے سے اندازے بازی کر رہے تھے۔جنرل راحیل شریف کو ان کے کارہائے نمایاں پر ساری دنیا خراج تحسین پیش کر رہی ہے۔ لیکن وہ خود اس کا کریڈٹ نہیں لے رہے یہی ان کے شایان شان ہے۔ جنرل راحیل شریف نے پاکستان کے امن و استحکام کے لیے جو فیصلے کیے جو آغاز کار کیا اس کی حیثیت بنیادی ہے اور اس لحاظ سے نہایت اہم ہے۔ ضرب عضب کی کامیابی کے بعد اس کامیابی کے تحفظ کی ضرورت ابھی باقی ہے۔ جنرل راحیل شریف نے پاک افغان سرحد کی بارڈر مینجمنٹ کا آغاز کیا۔ طورخم سرحد پر آج افغانوں اور پاکستانیوں سب کے لیے سفری دستاویزات ضروری ہیں۔ لیکن کئی سو میل لمبی پاک افغان سرحد کی حفاظت مشکل کام ہے جب کہ آج کی صورت حال میں افغانستان کی حکومت بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے اس راہ میں حائل ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ موثر بارڈر مینجمنٹ نہ ہوسکی تو دیر تک یہ احتمال رہے گا کہ تحریک طالبان پاکستان کے وہ عناصر جو ضرب عضب کے باعث فرار ہو کر افغانستان میں پناہ گزیں ہوئے کسی وقت واپسی کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اگر چہ اب سرحدی علاقوں میں طالبان کی حمایت باقی نہیں تاہم وہ کوشش کر سکتے ہیں۔ جنرل صاحب کے بعد آنے والے چیف آف آرمی سٹاف کو عارضی طور پر بے گھر ہونے والوں کی بحالی اور پاک افغان بارڈر مینجمنٹ کا مشکل چیلنج درپیش ہوگا۔ کراچی آپریشن کے بارے میں جنرل راحیل شریف نے ایک الوداعی تقریب میں کہا ہے کہ یہ جاری رہے گا۔ اس کے جاری رہنے کی ضرورت ہے۔ کراچی میں امن و استحکام ضروری ہے۔ اگرچہ جنرل صاحب کے دورِ قیادت میں رینجرز نے بہت سے شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے تاہم یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے ملک کے دیگر حصوں میں پناہ گیر ہوئے اور کتنے بیرون ملک گئے۔ یہ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ کراچی کے کتنے ٹھکانوں میں اسلحے کے مزید کتنے ذخائر پوشیدہ ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے کراچی کی روشنیاں بحال کرنے کے لیے جو قوی ابتداء کی ہے نئے آنے والے آرمی چیف یقینا اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ جنرل راحیل شریف کے مختصر دور میں ملک بھر میں خاص طور پر پنجاب میں دہشت گردوں کے مالی معاونوں اور سہولت کاروں کی تلاش کے لیے کومبنگ آپریشن مکمل نہیں ہو سکا۔ ان کے جانشین کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کومبنگ آپریشن کو جاری رکھیں بلکہ اسے جلد منطقی انجام تک پہنچائیں۔ جنرل راحیل شریف نے جو تاریخی اقدام کیے وہ فوج کی اعلیٰ کمان کی مشاورت سے کیے۔ فوج میں یہ روایت مثالی ہے۔ اس لیے جو جرنیل بھی جرنل راحیل کی جگہ لیں گے وہ پاک فوج کے سربراہ ہوں گے اور فوج کی شاندار روایات کو آگے بڑھائیں گے۔ قوم کو ان پر بھرپور اعتماد ہوگا۔

متعلقہ خبریں