Daily Mashriq

پولیس اور جرائم؟

پولیس اور جرائم؟

حکمران طبقہ اور اشرافیہ تو اس بات سے انکاری ہے کہ پاکستان میں انقلاب نہیں آسکتا۔ وہ اس بات کی بھی وکالت کر تے ہیں کہ پاکستان کے حالات اُس نہج پر نہیں پہنچے جس سے ہم یہ اندازہ کر سکیں کہ یہاں بھی کوئی تبدیلی یا انقلاب آئے گا۔ مگر میری نا قص رائے میں پاکستان میں بھوک، افلاس، بے روزگاری، مہنگائی ، سماجی اور اقتصادی بے انصافی امیر اور غر یب کے درمیان حد سے زیادہ تفاوت اور لاقانونیت کی وجہ سے حالات اگر انقلاب کی طر ف نہیں جا رہے ہیں ،تو کم از کم سول واریعنی خانہ جنگی کی طرف ضرور جا رہے ہیں ۔ اب توغریب بھی آپس میں دست و گریبان ہیں، مگر وہ وقت دور نہیں جب مہنگائی بے روز گاری اور لاقانونیت کی چکی میں پسے ہوئے لوگوں کی توپ کامُنہ امراء اور صاحب ثروت لوگوں کی طرف ہو جائے گا۔اس قسم کے واقعات صرف پنڈی اسلام آبادمیں رونما نہیں ہوتے بلکہ ملک کے دوسرے شہروں کی حالت اس سے زیادہ خطرناک ہے۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار کا کہنا ہے کہ اگر 2 ڈالر فی کس یو میہ اُجرت لگاتے ہیں تو پاکستان کی آدھی آبادی یعنی 10 کروڑ لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیںجبکہ عالمی بینک اور دوسرے بین الا قومی مالیاتی اداروں کے مطابق یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔

میرے خیال میں جس حالات کی پیشن گوئی میں اپنے کالموں میں کرتاتھا ،اُسکا آغاز ہو چکا ہے۔اگر ہم گزشتہ چار برسوں میں مختلف جرائم کے اعداد و شمارپر نظر ڈالیں تو اس عر صے میں کل یعنی مجمو عی جرائم کے اعداد و شمار تقریباً32لاکھ تھی ۔ ان 32 لاکھ جرائم میں پنجاب میں جرائم کی تعداد 20 لاکھ، کے پی کے میں 6لاکھ ، سندھ میں ساڑھے چار لاکھ، بلو چستان میں 45 ہزار، گلگت بلتستان میں ساڑھے سات ہزار اور وفاقی صدر مقام اسلام آباد میں جرائمکی تعداد32ہزار تھی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسی دوران 100 ارب روپے کی 2 لاکھ گا ڑیاں چوری ہوئیں۔ جہاں تک سٹریٹ کرائم کا تعلق ہے تو انکی تعداد 7 لاکھ کے قریب تھی۔ کراچی میں سٹریٹ کرائم کی شرح روزانہ 300ہے۔ یہ وہ جرائم ہیں جنکی مختلف تھانوں میں رپورٹ درج کی جاتی ہے ان میں وہ جرائم شامل نہیں جنکی تھانوں میں رپو رٹ درج نہیں کی جاتی۔ اگر ہم اُن جرائم کو جنکی رپو رٹ تھانوں میں درج نہیں ہو تی اس میں شامل کریں تو میرے خیال میں تمام جرائم کی تعداد 90 لاکھ کے قریب ہو گی۔ مہنگائی، لاقانونیت بے روز گاری کی وجہ سے ا س میں مزید اضا فہ ہوگا۔ بعض تجزیہ نگا روں کا خیال ہے کہ پولیس کی تعدادبڑھانے اور انکی تنخواہ میں اضافہ کرنے سے پولیس کی استعداد کار اورجرائم میں کمی آئے گی مگر پولیس کی تنخواہیں بڑھانے سے جرائم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جہاں تک پولیس کی نفری بڑھانے کا تعلق ہے تو اقوام متحدہ کے مطابق ایک لاکھ آبادی کے لئے 222 پولیس اہل کاروں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ پاکستان جس کے وسائل تھوڑے ہیں اسکے با وجود بھی پولیس والوں کی تعداد ایک لاکھ آبادی کے لئے 207ہے ، جبکہ اسکے بر عکس کینیڈا میں ایک لاکھ آبادی کے لئے پولیس کی تعداد 202، چین میں 120، بھارت میں 130، ایران میں ایک لاکھ آبادی کے لئے 80اور بنگلہ دیش میں اتنی ہی آبادی کے لئے 83 پولیس اہلکار ہیں۔اگر مندرجہ بالا اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پاکستان میں نہ تو پولیس کی تنخواہ کم ہے اورنہ تعداد ۔ بلکہ انکی مناسب ٹریننگ اور تربیت کی کمی ہے۔ بر طانیہ کے ایک سکالر کہتے ہیں کہ بر طانیہ میں اقتصادی مشکلات، بڑھتی ہوئی مہنگائی بے روز گاری اور دیگر مسائل کے علاوہ جرائم کی شرح میں کمی ہوئی اور یہ پولیس کی بہتر کا رکر دگی اور تربیت کی وجہ سے ممکن ہوا۔ امریکہ اور بر طانیہ کے 8 تحقیقی مقالوں کے مطابق سٹریٹ لائٹس جرائم میں کمی میں نمایاں کر دار ادا کر تی ہیں۔ لہٰذاء حکومت کو چاہئے کہ وہ سٹریٹ لائٹس کو درست رکھیں۔پنجاب سندھ بلو چستان اور کے پی کے کے 60 پولیس سٹیشنوں سے پوچھے گئے سوالات کے مطابق 60 فی صد سٹریٹ کرائمزمیں اور 30 فی صد ٹا رگٹ کلنگ میں مو ٹر سائیکل کا استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے : 1)پاکستان کے چا رصوبوں میں ڈبل سواری پر پابندی لگا دے۔ 2) قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مناسب ٹریننگ اور تربیت ہونی چاہئے اور انکو جدید دور کے آلات دینے چاہئیں۔ 3) غُربت، مہنگائی اور بے روز گاری پر قابو پانے کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔٤) ملک میں فرقہ پرستی اور رُجعت پسندی کے خلاف کریک ڈائون مزید تیز کیا جائے۔5) پولیس ٹرانسفر، تبادلوں اور تقرری میں سیاسی مدا خلت بند ہو نی چاہئے۔ 6) وہ پولیس افسران اور اہل کاران جنکی تقرریاں سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے کی گئیں اُنکو اپنے علاقے سے دور یا کسی اور صوبے میں تبدیل کیا جانا چاہئے۔ 7)پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان خُفیہ روابط اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو فروغ دینا چاہئے۔ 8) پہلے پہل علاقوں میں پولیس والے جو جا سوس اور مُخبری کے لئے اہل کار رکھتے تھے انکو دوبارہ شروع کیا جاناچاہئے۔9) محلے محلے اور گلی گلی جو بچے بچیوں کے لئے ہا سٹل کھولے گئے ہیں وہ بند کئے جائیں، سماجی ماہرین کے مطابق اس قسم کی وارداتوں میں ان ہا سٹل کے لڑکے بھی ملوث ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ گھر سے دور ہوتے ہیں اور ان پر اپنے والدین کا کوئی چیک نہیں ہو تا اوروہ ور غلا پھسلا کر کوئی بھی جُرم کر سکتے ہیں۔

اداریہ