Daily Mashriq

اپنی جنگ اور اپنا میدان

اپنی جنگ اور اپنا میدان

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقبل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے وادی نیلم میں بھارتی فوج کی طرف سے مسافر بس کو نشانے بنانے کا معاملہ عالمی ایوان میں اُٹھاتے ہوئے کہاہے کہ کنٹرول لائن پر پیدا ہونے والی کشیدگی کسی بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل جان الیسن اور چیف ڈی کیبنٹ ایڈمینڈ مولے سے ہنگامی ملاقات کرکے انہیں وادی نیلم میں مسافر بس کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنانے کی شکایت کی ۔ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے حکام پر زور دیا کہ مظفر آباد اور سر ی نگر میں تعینات فوجی مبصرین کو متحرک کرتے ہوئے کنٹرول لائن کی موثر نگرانی کی جائے ۔ وادی نیلم کے واقعے نے انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمے کے لئے پاکستان کو بہت سا مواداور ثبوت فراہم کیا ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کو بتایا جائے کہ یورپ اور امریکہ میں انسان دوستی اور امن کا ماسک پہن کر چوکڑیاں بھرنے والا بھارت درحقیقت اپنی ہمسائیگی میں انسانیت کے خلاف بدترین جرائم میں ملوث ہے ۔گو کہ دنیا کی آنکھوں پر اس وقت مفادات اور تجارت کی پٹی چڑھی ہوئی ہے ۔امریکہ نے دو عشروں سے ''دہشت گردی کے خلاف جنگ '' کے نام پر جو بیانیہ دنیا کو رٹانے اور ازبر کرانے کی کوشش کی ہے اس میں پاکستان کا امیج ایک ولن اور بھارت ایک ہیرو جیسا ہے مگر اس کے باوجود دنیا میں آزاد ضمیر انسانوں اور اداروں کی کمی نہیں جو دنیا کو امریکی اسٹیبلشمنٹ کی اس عینک سے نہیں دیکھ رہی جس میں ایشیاکی حدود میں دور تک بھارت ہی بھارت دکھائی دیتا ہے ۔مغرب میں انسانوں کی بڑی آبادی اس حقیقت سے باخبر ہے کہ ایشیا میں واحد طاقت بھارت نہیں بلکہ اس سے ہٹ کر چین اور پاکستان بھی ایک زمینی حقیقت کے طور پر موجود ہیں ۔ پہلے تو ایٹم بم کی صورت میں پاکستان کے پاس دنیا کے لئے محض چھڑی تھی مگر اب سی پیک کی صورت میں پاکستان کے ہاتھ میںگاجر بھی آگئی ہے ۔یہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی سرگرمی کی کلید ہے ۔جو اس کا حصہ بنے گا وہ مستقبل کی معاشی دنیا میں ایک مضبوط اور نمایاں مقام کا حامل ہوگا اور جو اس سے کٹ کر رہے گا تنہائی اس کا مقدر ہوگی ۔اسی حقیقت کو پالینے کے بعد امریکہ اور بھارت کے ساتھ دوستی نبھانے والے بہت سے یورپی اور مغربی مماملک بھی سی پیک کو دیکھ کو رال ٹپکانے لگے ہیں ۔سی پیک کی گاجر اب انہیں پوری طرح پاکستان کی جانب نہیں لا رہی تو بھی وہ''کعبہ میرے آگے ہے کلیسا میرے پیچھے'' کے انداز میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تذبذب کا شکار ہونے لگے ہیں۔بھارت نے وادی نیلم کو پاکستان کا ''نرم پیٹ '' سمجھ لیا ہے ۔وہ اس وادی میں پاکستان کی کمزوریوں کو اپنی طاقت بنا رہا ہے وہ کمزور ی سٹریٹجک نہیں بلکہ حالات کا نتیجہ ہے ۔وادی نیلم میں کنٹرول لائن کچھ اس انداز سے کشمیر کو تقسیم کررہی ہے کہ بھارت کا ایک فوجی شاہراہ نیلم کو بند کرکے لاکھوں آباد ی اور دوسو کلومیٹر وادی کو محصو ر بنا سکتا ہے۔اسی وادی میں کنٹرول لائن کے دونوں جانب مسلمان اور کشمیر ی آبادی کی موجودگی کسی بڑی کارروائی کے لئے پاک فوج کے پیروں کی زنجیر بن جاتی ہے ۔خون سری نگر میں بہے یا نیلم میں بھارت کے لئے اجنبی اور دشمن لہو ہے ۔اس کے برعکس خون کنٹرول لائن کے کسی جانب بہے پاکستان کا اپنا لہو ہے۔بھارت ان فطری مجبوریوں اور کمزوریوں کا فائدہ اُٹھا کر شیر بن رہا ہے۔بھارت کنٹرول لائن کو گرم کرکے کن مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے؟ یہ ایک بحث طلب موضوع ہے ۔سردست بھارت کئی مقاصد کا حصول چاہتا ہے جن میں پہلا مقصد سری نگر کی گلیوں میں اُٹھائی جانے والی ذلت کا انتقام ہے یہ ذلت کسی فوجی مہم جوئی کا نتیجہ نہیں ہے عوامی طاقت کا شاخسانہ ہے۔کشمیر کی یہ صورت حال پاکستان کا سیاسی اور سٹریٹجک لیوریج ہے ۔اس کا اشارہ برسوں پہلے من موہن سنگھ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر امن کی راہوں پر رواں دواں جنرل مشرف نے بھارت کے ہی ٹی وی چینل سے انٹرویو میں دیا تھا کہ پاکستان جب چاہے کشمیر کی صورت حال کو بھارت کے لئے مشکلات پیدا کرنے کے لئے استعمال کر سکتا ہے امید ہے اب بھارت اس کی نوبت نہیں آنے دے گا۔کشمیر کی صورت حال سے کچھ عسکری گروپو ں کی سرگرمیاں بھی جڑی ہیں۔بھارت نے دوبار کشمیر کو ہڑپ کر نے کی کوشش کی مگر ہر بار وادی کشمیر ''گرم آلو ''کی طرح منہ جلانے کا باعث بنی۔ان میں پہلا قدم 1975میں اندرا عبداللہ ایکارڈ تھا جس میں بھارت نے پاکستان کو الگ کرتے ہوئے کشمیر کی مقبول قیادت کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کی مگر کشمیر میں کئی نئے سیاسی پاور سینٹر اُبھر کر استخلاص وطن کی تحریک کو آگے بڑھانے لگے ۔دوسری بار یہ کوشش 2000کی دہائی میں کنٹرول لائن پر آہنی باڑ کی تعمیر سے ہوئی ۔جس کے بعد بھارت نے کشمیر کو اپنے تئیں محفوظ کر لیا تھا مگر یہ تدبیر بھی کارگر نہ ہو سکی ۔کنٹرول لائن پر کشیدگی کو ہوا دینے کی دوسری وجہ پاکستان کو اپنی پسند کے میدان جنگ کی طرف کھینچ لانا بھی ہو سکتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ امریکہ میں کسی انتہا پسند لابی نے بھارتیوں کو یہ اشارہ دیا ہو کہ کھلی جنگ کے بعد پاکستان کی جانب سے چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد بین الاقوامی چھتر چھائے میں پاکستان کی مُشکیں کسنے اور ایٹمی ہتھیاروں سے محروم کرنے کا کھیل شروع کرنا آسان ہوجائے گا۔ایسی صورت میں سی پیک کا منصوبہ بھی عالمی پابندیوں کی زد میں آسکتا ہے ۔اس صورت حال میں پاکستان کو بھارت کی پِچ پر کھیلنے کی بجائے اپنی جنگ کے لئے اپنی پسنداور سہولت کا میدان اوراپنی پِچ منتخب کرنی چاہئے ۔وادی نیلم تو سراسر بھارت کی پسند کا میدان اور محاذ ہے۔

اداریہ