Daily Mashriq


اسرائیل آگ کی لپیٹ میں

اسرائیل آگ کی لپیٹ میں

22نومبر2016ء کو بحیرہ متوسط کے مشرقی ساحل پر واقع اسرائیلی شہر حیفاء کے قریب جنگل میں آگ بھڑکی،جو پھیلتے پھیلتے حیفاء شہراورد یگر شہروں تک آن پہنچی ہے۔حیفا القدس سے158اور تل ابیب سے 110کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اس کی آبادی پونے تین لاکھ کے قریب ہے ،یہ فلسطین کے قدیم شہروں میںسے ایک شہر ہے،جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فتح کیا گیا تھا۔بعدازاں غاصب یہودیوں نے قبضہ کرلیا۔حیفا شہر میں اسرائیلی فوجی بیس اور اسلحے کی بڑی بڑی فیکٹریاں ہیں۔اسرائیل میں لگی یہ آگ چوتھے رو ز میں داخل ہوچکی ہے۔لیکن باوجود دس ملکوں کی شمولیت کے ابھی تک آگ پر قابونہیں پایا جاسکا۔آخری اطلاعات کے مطابق 132سے زائد اسرائیلی زخمی ہوچکے ہیں ،جب کہ 80ہزار سے زائد لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں۔ سینکڑوں مکانا ت تباہ ہوچکے ہیں۔جب کہ دھویں سے اسرائیل بھر میں لوگوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے،کئی لوگ ہسپتال میں داخل ہوچکے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق لوگوں کو سانس لینے میںدشواری پیش آرہی ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے عالمی برادری سے آگ بجھانے میں مدد طلب کی ہے۔ روس، ترکی،مصر،یونان ،کیپرس سمیت کئی ملکوں کے جہاز آگ بجھانے میں مصروف ہیں،جب کہ امریکہ سے سپر ٹینکر جہاز بھی آگ بجھانے کے لیے جمعہ کے روز پہنچ گیا ہے۔اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے مطابق یہ آگ شرپسندوں کی طرف سے لگائی گئی ہے۔یادر ہے اس سے پہلے دسمبر 2010میں بھی اسرائیل میں بڑے پیمانے پر آگ نے تباہی مچائی تھی ،جس میں لگ بھگ 42 لوگ مارے گئے اور کئی ہزار ایکڑ جنگل کا رقبہ جل گیا تھا جبکہہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ آگ 2010سے زیادہ خطرناک ہے۔جنگلوں میں آگ کا لگنا یا زلزلوں کا آنا قدرتی آفات میں شمار ہوتاہے۔جو دنیا بھر میں ہر جگہ آتی ہیں۔کچھ لوگ ان آفات کاسبب سائنسی وجوہات بتاتے ہیں ، اسلام کا نظریہ ہے کہ یہ آفات اللہ تعالیٰ کی مرضی سے آتی ہیں،جن میں خدا کا غضب اور کبھی لوگوں کو آخرت کی یاددہانی کروانا مقصود ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان آفات کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان آفات سے پناہ مانگنا ،اور صحابی رسول ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نماز پڑھناتک ثابت ہے۔بہرحال دنیا یہ بات جانتی ہے کہ اسرائیل نے ظلم وجبر سے فلسطین پر قبضہ کیا ہے۔گزشتہ ستر سالوں سے غاصب اسرائیل فلسطینیوں پرمظالم ڈھارہاہے۔70سالوں میں اسرائیل لاکھوں لوگوں کو قتل کرچکاہے۔روزانہ لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے ۔آئے دن ظلم وجبر کے ہتھکنڈے آزمائے جاتے ہیں۔فلسطینی زمین پر ناجائز آباد کاری کے لیے مہم جوئی کی جاتی ہے۔مسلمانوں کو مذہبی عبادات سے روکنے اوراسلامی شعائر کو مٹانے کے لیے نئے نئے قانون بنائے جاتے ہیں۔ ان قوانین میں سے حالیہ دنوں پارلیمنٹ میں پیش کیا جانے والا مجوزہ قانون بھی ہے، جس میں فلسطین میں مسلمانوں کو لاؤڈ سپیکر پر اذان دینے سے روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔یہ قانون اگر چہ فی الحال منظور نہیں کیا گیا لیکن اسرائیل اس پر غورکررہاہے۔دوسری طرف فلسطینی مسلمانوں نے اس کے خلاف بھر پور مظاہر ہ کیا ہے۔یہاں تک کہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک مسلمان رکن اسمبلی نے یہودیوں کے سامنے اذان دے کر اس اعلان کو چیلنج بھی کیا ہے۔اس کے علاوہ دنیا بھر سے اسلامی ممالک نے بھی اسرائیل کو اس قانون سے با ز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔لیکن بہرحال یہود ی اسلام سے ازلی دشمنی کے سبب کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔قرآن کے بقول یہودی اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔اللہ نے انہیں مغضوب علیہم قراردے کر پوری دنیا میں ان کی رسوائی پر مہر ثبت کی تھی۔اسلام کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی بدعہد ی اور ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ان کو مدینہ منورہ سے نکال دیا تھا،بلکہ آپ نے فرمایا تھا کہ یہودیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دیا جائے۔ یہودیوں کی اسلام اور مسلمانوں سے اس قدر واضح دشمنی کا نتیجہ ہے کہ آج تک مسلمان یہودیوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔اسرائیل میں آگ کی تباہی کے بعد عرب میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا پر مسلسل اسرائیل میں لگی آگ زیر بحث ہے۔ جس میں دنیا بھر سے بہت سے لوگوں نے اسے اللہ تعالیٰ کا عذاب قراردیتے ہوئے کہا کہ چونکہ اسرائیل اللہ کے نام کو بلند ہونے سے روکنا چاہتا تھا ،اس لیے اللہ نے ان کے عزائم کو روکنے کے لیے آگ کا عذاب ان پر مسلط کیا ہے۔بہرحال اس کا حتمی علم تو اللہ ہی کے پاس ہے کہ یہ اذان پر مجوزہ بل کی پابندی کی وجہ سے آگ کا عذاب آیا ہے یا کسی اور وجہ سے۔لیکن قرآن وسنت کی نصوص کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات کا آنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش اور وعید ہوتی ہے۔قرب قیامت اس قسم کی آفات میں اضافے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دی ہے۔اس لیے ان آفات پر خوش ہونے کے بجائے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور ظالموں کو ظلم سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔اس میں مسلمانوں کے لیے بھی عبرت ہے کہ وہ خدا کے حکم کی بالادستی اور مظلوموں کی مددکے لیے ہرقسم کی جدوجہد کریں۔اللہ ہمیں آفات سے محفوظ رکھے۔

متعلقہ خبریں