Daily Mashriq


بیماریاں اور ہمارے رویے

بیماریاں اور ہمارے رویے

انسانی مزاج بھی بڑے مزے کی چیز ہے ہر بندے کا اپنا ماحول اور مزاج ہوتا ہے کسی کے سر میں درد ہو تو وہ آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے اور کسی کو دو ہارٹ اٹیک ہوچکے ہوں تو وہ پھر بھی ہنسی خوشی زندگی گزارتا چلا جاتا ہے اگر اس حوالے سے کوئی بات ہو تو کہتا ہے کہ یار موت کا ایک دن معین جب وقت پورا ہوجائے گا تو بوریا بستر سمیٹ کر رخصت ہوجائیں گے اب ٹینشن لینے کا کیا فائدہ! آج کل شوگر بلڈ پریشرعام سی بیماریاں ہوتی چلی جارہی ہیں۔ ہر دوسرا بندہ ان امراض کا شکار ہے۔ اگر کسی وقت کوئی یہ کہے کہ اسے شوگر نہیں ہے تو لوگ بڑے عجیب سے انداز میں اس کی طرف دیکھتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں بھائی صاحب ضرور دال میں کچھ کالا ہے آپ اپنا چیک اپ کروائیے۔ ہمارے ایک بہت ہی پیارے دوست شوگر کے مریض ہیں ایک دن ہمیں کہنے لگے کہ آپ بھی ہماری طرح خوش خوراک ہیں انشاء اللہ آپ کو بھی شوگر ہو ہی جائے گی۔ ہمیں بھی زندگی سے پیار ہے اس لیے ہمیں آج تک ان کا یہ جملہ نہیں بھولا۔لیکن اتنی احتیاط ضرور کی ہے کہ چائے اور قہوے میں چینی کا استعمال چھوڑ دیا ہے یہ اور بات ہے کہ حلوہ ، گلاب جامن ، کھیر ،اور طرح طرح کی مٹھائیاںہمارا من بھاتا کھاجا ہیں اور ان پر ہاتھ صاف کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اگر کسی نے حیران ہوکر پوچھ لیا کہ جناب چینی سے پرہیز اور چینی سے بنی ہوئی چیزوںکا صفایا؟تو ایسے نازک موقعوں کے لیے ہم نے ایک سکہ بند قسم کا جملہ رٹ رکھا ہے کہ جناب یہ چیزیں تو کبھی کبھی سامنے آتی ہیں جبکہ چائے اور قہوہ تو ہر وقت کا رونا ہے اس لیے پرہیز بہت ضروری ہے۔ دو دن پہلے ہمارے ایک مہربان اپنے بلڈ پریشر کے حوالے سے کہہ رہے تھے کہ یار اس کی مثال تو سانپ جیسی ہے جس کے پھن پر ہروقت پائوں رکھنا پڑتا ہے اگر ٹیبلٹ لینے میں ناغہ ہوجائے تو یہ سانپ پائوں کے نیچے سے نکل کر حملہ کردیتا ہے پھر کہنے لگے بس یوں سمجھیے کہ بلڈ پریشراور ہارٹ اٹیک لازم و ملزوم ہیں۔ ہمارے پہلو میں بیٹھے ایک بلڈ پریشر کے مریض ان کا دل دہلا دینے والا جملہ سن کر ہم سے پوچھنے لگے یہ صاحب صحیح کہہ رہے ہیں ؟ہم نے ایک بڑا سا قہقہہ لگاتے ہوئے ان سے کہا یار لوگ برسوں سے بلڈ پریشر کے مریض ہیںتم ٹینشن نہ لویقین کیجیے وہ قہقہہ ہم نے ان کی حوصلہ افزائی کے لیے لگایا تھا اس وقت یقینا ہم بھی خوفزدہ ہوگئے تھے ۔کچھ لوگ ہر وقت اپنی خرابی صحت کا رونا روتے نظر آتے ہیں آج تو ساری رات جاگتا رہا ہوں بس کیا بتائوں اگر آپ میری طرح ایک رات گزاریں تو آپ کو دن میں تارے نظر آجائیں گے۔مخلوق کی ایک قسم وہ بھی ہے جو آپ کو اپنی بیماری کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتاتی۔لیکن ایسے لوگ آپ سے ضرور پوچھیں گے کہ طبیعت کیسی ہے اگر آپ ان سے کہیں کہ الحمد للہ ٹھیک ہوں تو انھیں بڑی مایوسی ہوتی ہے۔اور اگر آپ نے کہہ دیا کہ ان دنوں طبیعت ٹھیک نہیں ہے سر میں ہلکا ہلکا سا درد بھی رہتا ہے ۔ تو بس پھر اللہ دے اور بندہ لے یقین کیجیے وہ آپ کے سر درد کے ڈانڈے ایسی ایسی خطرناک بیماریوں سے ملا دیں گے کہ آپ مرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے ۔بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہمارے ایک کرم فرما نے ہمیں ایک دن بڑا اچھا مشور ہ دیا۔مختلف امراض کے حوالے سے بات چیت ہو رہی تھی اچانک ہمیں کہنے لگے کہ اپنی بیماری کا کسی کو بھی کبھی نہ بتا نا۔ جب آپ لوگوں کو اپنی بیماری کا بتاتے ہو تو وہ آپ سے کرید کرید کر پوچھتے ہیں مختلف قسم کے سوالات کی بوچھاڑ کردیتے ہیں اس وقت ان کی خوشی دیدنی ہوتی ہے بہر حال یہ بات ہم قارئین کی اپنی صوابدید پر چھوڑتے ہیں کہ وہ اس بات سے کتنا اتفاق کرتے ہیں۔کچھ لوگ اپنی صحت کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں بازاری کھانے نہیں کھاتے۔ دوائیوں کا بے تحاشہ استعمال کرتے ہیں۔ جہاں کسی نے کسی ڈاکٹر کی تعریف کردی یہ وہاں اپنا چیک اپ کروانے پہنچ جاتے ہیں مزے کی بات تو یہ ہے کہ انہیں کوئی بیماری بھی لاحق نہیں ہوتی ۔ سیانے کہتے ہیں کہ یہ بھی بڑی خطرناک بیماری ہے کہ آپ تندرست ہوں لیکن حفظ ما تقدم کے طور پر ڈاکٹروں کے پاس جائیں۔ ایسے لوگ ڈاکٹروں کے لیے بھی باعث پریشانی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے برعکس ایک قسم ان لوگوں کی بھی ہے جو نشانیوں سے جان لیتے ہیں کہ انہیں دو چار امراض لاحق ہوچکے ہیں۔ لیکن وہ کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے ان کی پوری پوری کوشش ہوتی ہے کہ انہیں ڈاکٹر کے ہاتھ نہ لگیں۔ اسی طرح کے ایک بزرگ سے ہم نے کہا کہ چیک اپ کرو ا لینے میں آخر کیا حرج ہے۔ وقت پر علاج ہو جائے تو اچھی بات ہے۔انہوں نے ہماری بات سن کر اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری کرتے ہوئے کہا کہ جس مشین کو مستری کے ہاتھ لگ جاتے ہیںبس پھر اس کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہے ۔ہمیں ان کی بات سن کر ہنسی تو بہت آئی لیکن پھر ہم سوچنے لگے کہ شاید یہ ٹھیک ہی کہتے ہوں۔ اب تو ایسے بہت سے واقعات ہوچکے ہیں کہ مریض ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے گیا اور ڈاکٹر نے اس کا گردہ ہی نکال لیا۔

متعلقہ خبریں