اسلام آباد دھرنا مذاکرات ہی میں حل ہے

اسلام آباد دھرنا مذاکرات ہی میں حل ہے

آٹھ ہزار اہلکاروں ایف سی اور رینجرز کے جوانوں کی بھاری نفری کے ذریعے اسلام آباد راولپنڈی کے درمیان فیض آباد انٹرچینج سے تحریک لبیک کے دھرنے کو ہٹانے کی کوشش میں ناکامی حکومت کی ایک بڑی پسپائی ہے جس کے نتیجے میں فوج کو دعوت دی گئی ہے۔ حکومت کی اس پسپائی کی ایک بڑی وجہ قانون نافذ کرنے والی فورسز کی یہ مجبوری تھی کہ انہیں آتشیں اسلحہ استعمال کرنے کی بجا طورپر ممانعت کر دی گئی تھی ۔ ایک اور وجہ یہ سامنے آئی کہ جب دھرنے والوں پر آنسو گیس کے گولے برسائے گئے تو یہ خیال نہیں رکھا گیا کہ ہوا کا رخ پولیس کی نفری کی طرف تھا اور آنسو گیس کے دھوئیں نے خود پولیس کو متاثر کیا جس کی وجہ سے پولیس کو پیچھے کی طرف ہٹایا گیا۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ دھرنے والوں کو چاروں طرف سے کنٹینر لگا کر محصور کر دیا گیا تھا اور منتشر ہونے والوں کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا گیا تھاجو تھی وجہ یہ تھی کہ کارروائی شروع ہونے کے کچھ دیر بعد عام شہریوں نے پولیس والوں پر عقب سے سنگ باری کرنا شروع کردی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک پولیس اہلکار کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ شہید ہو گیا۔ اسلام آباد کے بڑے ہسپتال پمز میں جو تقریباً ڈیڑھ سو زخمی لائے گئے ان میں 45 پولیس اہلکار، 28 ایف سی کے جوان اور 44 عام شہری تھے۔ آخری اطلاعات یہ ہیں کہ دھرنا کچھ خیموں کے جل جانے اور کچھ کھانے پینے کے سامان ضائع ہو جانے کے باوجود جاری ہے اور پولیس کی نگرانی بھی جاری ہے۔انٹرچینج خالی نہ کیا جاسکا ۔ لوگوں کو آنے جانے کی دشواریاں بھی جوں کی توں ہیں۔ انتظامیہ کو اس حوالے سے داد دی جانی چاہیے کہ اس کی طرف سے بھرپور کوشش کی گئی کہ تشدد نہ کیا جائے اور کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ اسی وجہ سے فہم و فراست والے کہہ رہے ہیں کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے ان میں توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے ۔ لیکن ہفتہ کے روز پولیس کی کارروائی سے نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں اور کراچی اور پشاور میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں کراچی میں فیض آباد کے دھرنے والوں کی حمایت میں ایک دھرنا شروع ہو چکا ہے۔ فیصل آباد، شیخوپورہ میں بھی مظاہرین نے راستے روکے ہیں۔ سیالکوٹ میں مظاہرین نے وزیر قانون زاہد حامد کی رہائش گاہ پر سنگ باری کی جن کے استعفے کا فیض آباد کے مظاہرین مطالبہ کررہے ہیں۔ لاہورمیں شاہدرہ کے مقام پر مظاہرین نے فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے راستے بھی بند کر دئیے ہیں۔ لاہور میں بھی حکومت نے رینجرز کو بلانے کے لیے کارروائی شروع کی ہے۔ حکومت کی غلطیاں واضح ہیں ، دھرنے والوں کو فیض آباد پر جمع ہونے دینا، بیس روز تک دھرنا جاری ہونے دینا اور اس کی تشہیر ، دھرنے والوں کو اشتعال دلانا کہ یہ لوگ لاشیں اٹھانا چاہتے ہیں۔ دھرنے والوں کو اشاروں، کنایوں میں دھمکانا کہ ایک اور سانحہ ماڈل ٹائون برپا ہوسکتا ہے۔ دھرنے والوں کے مطالبہ پر غور کرنے کے لیے کابینہ کا کوئی اجلاس نہ بلانا اور نہ ہی حکمران مسلم لیگ کے کسی اجلاس میں ان پر غور کرنا۔ آپریشن کی تشہیر، دھرنے والوں کی پسپائی کے لیے کے لیے کوئی راستہ نہ چھوڑنا یہ سب دانستہ یا نادانستہ ایسی غلطیاں ہیں جن سے دھرنے والوں کی ضد میں شدت پیدا ہوتی ہے۔ اب کہا جارہا ہے کہ آپریشن عدالت کے اصرار پر مجبوری کے تحت کیا گیا یہ ایک اور غلطی ہے۔ حکومت عدالت سے مزید وقت کی درخواست بھی کر سکتی تھی ۔ اور اسی مہلت کے اندر دھرنے والوں کو مطالبات ماننے کی یقین دہانی بھی کروا سکتی تھی ،یا ان کا بنیادی مطالبہ تسلیم بھی کر سکتی تھی ۔ آخر اب آپریشن کے بعد بھی تو اخبارات میں یہ خبر چل رہی ہے کہ وزیر قانون نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے رابطہ کر کے انہیں استعفیٰ کی پیشکش کر دی ہے۔ وزیر داخلہ جو اس سارے معاملے کو لگتا ہے تنہا حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں یہ کہتے رہے کہ دھرنے والوں کے عزائم سیاسی ہیں ۔ سیاسی عزائم ہونا کوئی گناہ نہیں ہے دھرنے والوں کی ایک سیاسی پارٹی ہے جو ان کے مطالبات پر زور دے رہی ہے اور جس طرح اس معاملے کو طے کرنے کی حکومت نے کوشش کی ہے اس سے نتیجہ یہی نکلا ہے کہ کم از کم پنجاب اور کراچی میں ان سے ہمدردی میں اضافہ ہو ا ہے۔ اب جب حکومت نے فوج کی مدد مانگی ہے فیض آباد انٹرچینج میںکوئی ایسا محاذ نہیں جہاں فوج کی پیشہ ورانہ مداخلت کی ضرورت ہو۔بغیر آتشیں اسلحہ کے پولیس، ایف سی اور رینجرز کا آپریشن بھی کامیاب نہیں ہوا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے موقف کے بارے میں بھی خبر شائع ہو چکی ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کو معاملہ پرامن طورپر طے کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اب بھی دھرنے والوں سے مذاکرات ہی کیے جانے چاہئیں اور ان مذاکرات کا نتیجہ ایسا ہونا چاہیے کہ نہ دھرنے والوں کے لیے سبکی کا باعث ہو اور نہ ہی حکومت کے لیے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ گولڑہ شریف کے پیر صاحب کی درخواست پر آپریشن روک دیا گیا ہے۔ پیر صاحب غلام نظام الدین جامی نے کہا ہے کہ اگر مظاہرین نہیں سنتے تو حکومت ہی سن لے اور ثالثی کا ایک اور موقع دے۔ مذاکرات اور ثالثی دیر طلب کام ہوتا ہے ۔ فریقین کو اپنے اپنے موقف میں لچک پر آمادہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہونا چاہیے اس لیے مذاکرات سے کوئی ایسی توقع نہیں لگائی جاسکتی کہ ان میں جلد کامیابی ہو جائے گی۔ ایک بار پھر مذاکرات شروع ہوں گے تو ایک بار پھر سارا معاملہ سامنے آئے گا۔ حکومت ایک اشتہار کے ذریعے واضح کر چکی ہے کہ گوشوارے میں ترمیم حلفاً اقرار کی بجائے صدق دل سے اقرار کے الفاظ شامل کرنے کی حد تک تھی۔ قوانین انگریزی میں مرتب کیے جاتے ہیں کمپیوٹر بتاتا ہے کہ حلفاً اقرار کی بجائے جو Solmnly affirm کے الفاظ لکھے گئے ہیں ان کا ترجمہ حلفاً اقرار بھی ہے جب اس ترمیم کی نشان دہی ہو گئی تو پارلیمنٹ نے نئے گوشوارے کی جگہ پر انا گوشوارہ قانون میں شامل کر دیا جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن دھرنے والے محض وزیر قانون کو قصور وار ٹھہرارہے ہیں جنہوں نے مسودہ قانون پارلیمنٹ میں پیش کیا حالانکہ مسودہ قانون پہلے 16 رکنی پھر 34 رکنی پارلیمانی کمیٹی نے تیار کیا پھر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اسے منظور کیا۔اس طرح یہ مسودہ مختلف مراحل سے گزر کر پارلیمنٹ میں توثیق کے لیے پیش ہوا اور وہاں سے منظور ہوا لیکن دھرنے والے پارلیمنٹ کے ارکان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا رہے حالانکہ ان کا فرض منصبی ہی مسودہ قانون کے مضمرات اور الفاظ پر غور کرنا ہے۔احتجاج تب کیا جاتا ہے جب متعلقہ ادارے احتجاج کرنے والوں کی شنوائی نہ کر رہے ہوں۔ یہ احتجاج پارلیمنٹ سے کیا جانا چاہیے تھا اور اگر وہاں شنوائی نہ ہوئی تو اس کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتا تھا۔ اب بھی اگر وزیر قانون ہی ذمہ دار ہیں جو بلحاظ عہدہ مسودہ قانون پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے ذمہ دار ہیں تو ملک کے قانون اور آئین کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی طرف رجوع کیا جانا چاہیے۔ دھرنے والے توخود ہی الزام لگا رہے ہیں اور خود ہی سزا سنا رہے ہیں جبکہ ملک میں قانون اور عدالتیں موجود ہیںایک طریقہ کار رائج ہے ۔ جس کے مطابق تنازعات کو حل کیا جانا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں تمام قوانین کو اسلامی شریعت کے مطابق ڈھالنے کی طویل عرصے پر محیط ایک مشق کی گئی تھی اور تمام قوانین کا جائزہ لینے کے بعد انہیں شریعت کے مطابق ڈھالنے کا عمل مکمل کیا گیا تھا۔ اس پر تمام مکاتب فکر نے اتفاق بھی کیا تھا۔ ملک میں اسلامی شریعت کے مطابق قانون کے موجود ہوتے ہوئے عدالتوں سے سوا کسی اور کاسزا سنانے کا اختیار تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ جو آئے دن عدالتوںمیں پنچایتوں اور برادریوں کے بااثر لوگوں کے فیصلے چیلنج ہوتے رہتے ہیں اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ بعض لوگ اپنے آپ کو حاکم مطلق سمجھ بیٹھتے ہیں اور قانون سے روگردانی کرتے ہوئے ایسے فیصلے کرتے ہیں جو کسی مہذب معاشرے میں قبول نہیں کیے جاسکتے۔ اگر فرض کیجئے اس ترمیم کے پہلے پہل منظور ہو جانے کے بارے میں کسی کا خیال ہو کہ اس بارے میں کارروائی کے لیے ایسا قانون نہیں ہے جو اسلامی شریعت کے تقاضے پورے کرتا ہو تو اس کی نشاندہی کی جانی چاہیے۔ کیا تمام مکاتب فکر کے علما کا کوئی ایسا متفقہ فتویٰ ہے جس میں ایسے ارتکاب کی نشاندہی کی گئی ہو جو آئین اور قانون کے دائرہ کار سے باہر ہے ۔اگر ہے تو پارلیمنٹ کو اور عدالت کو اس پر متوجہ کیا جاسکتا ہے۔ کسی ایک مکتبہ فکر کے لیے یہ مناسب نہیں سمجھا جانا چاہیے کہ تمام مکاتب فکر کے اجماع کے بغیر خود ہی فیصلے سنا دے وہ بھی کسی باقاعدہ تحقیق اور تفتیش کے ذریعے جرم اور ملزم کی نشاندہی کے بغیر اور باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بغیر۔ دھرنے والوں کو ان باتوں کی طرف متوجہ کیا جاسکتا ہے۔ دھرنے والوں کا دوسرا بڑا مطالبہ یہ ہے کہ ظفر الحق رپورٹ کو عام کیا جائے۔ انتخابی گوشوارے میں جو ترمیم کی گئی اور واپس لی گئی اس کی سب سے پہلے نشاندہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہبازشریف نے حکمران مسلم لیگ کے بھرے جلسے میں کی تھی ۔سابق وزیراعظم اور حکمران لیگ کے صدر میاں نوازشریف سے راجہ ظفر الحق اوردو وفاقی وزیروں پر مشتمل ایک تحقیقاتی ٹیم قائم کی تھی۔ اور کہا تھا کہ یہ کمیٹی تین دن میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے۔ یہ رپورٹ اخبارات کے مطابق راجہ ظفر الحق نے لندن میں سابق وزیراعظم کو پیش بھی کی تھی۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ رپورٹ مکمل کی جارہی ہے۔ ممکن ہے اس پر کچھ مزید تحقیق درکار ہو۔ تاہم یہ رپورٹ جلد از جلد عام کی جانی چاہیے اور اب پیر صاحب گولڑہ شریف جو ثالثی کے لیے ایک اور موقع دینے کی بات کررہے ہیں ان کی ثالثی کے تحت مذاکرات میں یہ رپورٹ بھی پیش کر دی جانی چاہیے۔ حکومت، فوج اور عدالت سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ تشدد نہیں ہونا چاہیے اور پرامن طور پر معاملات حل کیے جانے چاہیں ۔ اس کا ایک ہی راستہ ہے مذاکرات کیے جائیں خواہ کتنے ہی طول کیوں نہ ہو۔

اداریہ