Daily Mashriq

تاریخ ساز دوستی ومو دت

تاریخ ساز دوستی ومو دت

ویسے تو پاکستان کے بہت سارے دوست ہیں مگر دنیا میں تین ایسے ممالک ہیں جن کے ساتھ کی دوستی اخلاص ومودت کا درجہ رکھتی ہے۔ ان میں ایک چین ، دوم سعودی عرب اور سو م سری لنکا ۔ان سب ممالک کی دوستی پاکستان کے ساتھ حکومتی بنیا د و ںپر نہیںہے بلکہ عوامی بنیا د پر ہے چنا نچہ ان ممالک کو اس امر سے کوئی غر ض نہیں کہ پاکستان میں کس کی حکومت ہے یا کس کی حکومت ہو نی چاہیے یا نہیں ہو نی چاہیے یا کس طر ز کی حکومت درکا ر ہے ، بلکہ یہ ممالک حکومت کے دوست نہیں بلکہ عوام کے دوست ہیں اور عوام کے مفادات کے لیے ہی دوستی نبھا تے ہیں ۔ امریکا کی طرح نہیں جس کو عوام سے کوئی غرض وغایت نہیں بلکہ وہ حکومت کی سطح پر حتیٰ کے اس سے بھی ہٹ کر تعلقات کو ترجیح دیتا ہے ۔گو پاکستان او رمملکت سعودی عرب کے ما بین دیرینہ تعلقات قائم تھے مگر باقاعدہ تعلقات کی بنیا د 1951ء میں رکھی گئی جب اے ایچ اصفہا نی کی قیادت میں ایک پاکستانی وفد نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور دونوں ممالک میں دوستی و تعاون کا معاہدہ ہو ا۔ سعودی عرب کے ایک فرما ن روا شاہ سعود نے 1954ء میں پاکستان کا دورہ کیا جہا ں ان کا والہانہ استقبا ل کیا گیا شاہ سعود مر حوم پاکستان میں اپنے اس خیر مقدم سے بے حد متا ثر ہو ئے تھے۔ اس مو قع پر انہوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ پاکستان ان کا گھر ہے اور پاکستانی جھنڈے کی جا نب اشارہ کر تے ہوئے کہا کہ یہ جھنڈا میر ا ہے میر ے ملک کا ہے۔ جب 1954ء برطانیہ کے ساتھ سعودی عرب کانخلستان برامی کا تنا زعہ اٹھ کھڑا ہو ا تھا تو جو ثالثی کمیٹی تشکیل پائی تھی۔ سعودی عرب نے اس ثالثی کمیٹی کا پاکستان کو بھی ممبر نا مزد کیا تھا۔ پاکستان کی طر ف سے اس کے نما ئند ے محمو د حسین نے سعودی حکومت کا موقف پیش کیا تھا جس پر سعودی عرب نے بھر پو ر اعتماد کا اظہا ر کیا تھا جو ایک عمدہ مثال تھی ۔ سعودی عرب نے 1965اور 1971ء کی جنگو ں میں پاکستان کا سیا سی اخلاقی سفارتی ، اقتصادی اور فوجی ساتھ دیا تھا۔ اسی طرح 1948ء اور 1966ء میں جنر ل اسمبلی کے اجلا سو ں میں کشمیر کے بارے میں پاکستان کی بھر پو ر تائید کی تھی۔ سقوط مشرقی پاکستان کی خبر سنتے ہی شاہ فیصل کی آنکھو ں سے آنسو رواں ہو گئے تھے اور سعودی اسلا می دنیا کا واحد ملک ہے جس نے پاکستان کی جانب سے بھی مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش تسلیم کرنے کے باوجود تسلیم نہیںکیا تھا اور سب سے آخر میں تسلیم کیا وہ سقوط ڈھاکہ کو اسلا می دنیا کے خلا ف سازش قرار دیتے تھے ۔ پاکستان میں اسلا می اقدا ر کے فروغ کے لیے انہوں نے مالی امداد کی جس سے شاہ فیصل جیسی عظیم الشان مسجد اور اسلا می یونیو رسٹی تعمیر ہوئی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیا ن تجا رتی تعلقات بھی مستحکم ہیں پا کستان ایف17ء تھنڈر طیا رے بھی فروخت کر ے گا ، پاکستان اور سعودی مملکت میں خارجی تعلقات میں بھی ہم آہنگی پائی جا تی ہے۔ خاص طورپر افغانستان کے مسئلے پر دونو ں ممالک کے ما بین مکمل ہم آہنگی پائی جا تی ہے ۔ سعودی عرب نے پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کے سلسلے میںپاکستان کے ساتھ تعاون کا عندیہ دیا ہے ۔ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ایڈمرل نواف احمد المالکی نے اس منصوبے کے بارے میںکہا ہے کہ اس سے خطے میں خوشحالی کو فروغ ملے گا اور ترقی کی نئی راہیں کھلیںگی ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جو اسلا می فوجی اتحاد بنایا گیا ہے اس کی قیا دت پاکستان کے سابق آرمی چیف کو سونپ کر سعودی عرب کی حکومت نے پاکستان کی صلا حیتوں پر بھر پور اعتما د کا اظہا ر کیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سعودی عرب کا دورہ کر نے والے ہیں جس سے دونوں ممالک میں اقتصادی ، سماجی ، ثقافتی ، معاشی ، ٹیکنا لو جی اور دیگر شعبوں کے تعاون میں مزید اضافہ ہو گا۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اسٹیل اور فوڈپر وسسنگ کے پر اجیکٹ میں مشتر کہ کا وشو ں کے مواقع موجود ہیں۔اس وقت ایک اندازے کے مطابق چھبیس لا کھ پاکستانی سعودی عرب میںموجود ہیں جن کی نہ صرف معاشی ضرورت پوری ہو رہی ہے بلکہ وہ سعودی عرب کی تر قی میں بھی اہم کر دار ادا کر رہے ہیں،جب کہ سعودی عرب ان پاکستانیو ں کی وجہ سے پاکستان کے لیے زرمبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔ پاکستان کی ہر حکومت نے ہمیشہ اس امر کا اعلا ن کیا ہے کہ اگر سعودی عرب اور مقدس مقامات کو جب بھی خطرہ درپیش ہو گا پاکستان اس کی حفاظت کے لیے اپنا بھر پور کر دارادا کرے گا ، گزشتہ سال سعودی عرب میں رعدالشمال کے نا م سے بیس ملکو ں کی جو فوجی مشقیں ہوئی تھیں پاکستان نے اس میںشرکت کی تھی۔ اس موقع پر پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پاکستان اور سعود ی عرب دفاعی شعبے میں کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں جس میں مشقوں کے علا وہ تربیت کا عنصر بھی شامل ہے ۔پاکستان اس وقت نا زک دور سے گزر رہا ہے اس کو نہ صرف بیر ونی خطر ات کا سامنا ہے بلکہ اندورنی طور پر بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مختلف فتنے اٹھ رہے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کی معیشت ، اقتصادیات ، تجارت کو دھچکا لگ رہا ہے بلکہ پاکستان کو سیا سی استحکام سے دوچار کرنے کی ساز ش بھی جا ری ہے۔ ایسے حالا ت میںلا زمی ہے کہ پا کستان کا بیرونی دنیا سے رشتہ مضبوط بنیا د و ں پر قائم ہو تا کہ سازشوں کے دروازے بند رکھے جا سکیں۔ تعلقات وہی پائیدار ہو تے ہیں جو عوام کی سطح پر ہو ں تاہم اس کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ جو ملک تعلقات کو عوامی سطح سے ہٹ کر سوچتا ہے اس کے ساتھ یا تو تعلقا ت میں بگاڑ ہے یا پھر دونوں کی راہیںیکسر جدا ہیں اورآپس میں ایک دوسرے سے غرض وغایت نہیں ہو نا چا ہیے۔ دنیا میں کوئی تنہا زندگی بسر نہیںکر سکتا یہ انسانی شرف کے منا فی ہے جس طرح پاکستان کے سری لنکا چین اور سعودی عرب سے لا زوال رشتے قائم ہیں اسی طر ح دیگر ممالک سے بھی ناتے جو ڑے رکھنے کی ضرورت ہے ۔

اداریہ