Daily Mashriq


ہم خواب فروش سے کوئی خواب خریدے

ہم خواب فروش سے کوئی خواب خریدے

پیمرا نے ایک ہی جست میںتاریخ کا پہیہ الٹا کرہمیں ماضی میں جا پٹخ دیا ہے ، جب ملک میں صرف ایک ٹی وی چینل اور واحد ریڈیو پاکستان کا ادارہ دن رات حکومتی پروپیگنڈہ کرتے ہوئے عوام تک صرف وہ خبر یں پہنچا نے پر مامور تھے جو حکمرانوں کی من مرضی ہوتی تھی ، یہ وہ دور تھا جب لوگ بہ امر مجبوری بی بی سی ، ریڈیو ڈوئچے ویلے وائس آف جرمنی اور یہاں تک کہ آل انڈیا ریڈ یو تک کی خبریں سن کر اپنے ملک کے حالات سے باخبر ہوتے تھے ۔یہی صورتحال اخبارات کی ہوتی تھی ، دوچار اخبارات کو چھوڑ کر باقی کے تمام اخبارات حکومت کی سر پرستی میں قائم ادارے پریس ٹرسٹ کی ملکیت تھے اور ان میں بھی حکومتی کارناموں کی بھر مار ہوتی تھی۔ جو دوچار اخبار بچ گئے تھے ان کو بھی اشتہارات کی بندش یا کمی اور کاغذ کے کوٹے کی عدم فراہمی سے ’’ اپنی اوقات ‘‘ میں رکھنے کی کوششیں ہوتی تھیں ، اگر پھر بھی کوئی اخبار ’’سیدھی راہ ‘‘ پر نہیں آتا تھا تو اس کا ڈکلریشن منسوخ کر کے سبق سکھا دیا جاتا تھا۔اس صورتحال میں اگرچہ بی بی سی تو عالمی سطح پر غیر جانبداری کے حوالے سے مشہور ضرور تھا جبکہ آل انڈیا ریڈ یو کے بارے میں تو ہر کوئی جانتا تھا کہ پاکستان کے حوالے سے وہ ایک خاص اینگل (زاویہ نگاہ ) کے تحت خبروں میں منفی تاثر پیدا کرنے سے باز نہیں آتا تھا ، تاہم لوگ وہاں سے بھی خبریں سن کر اس میں سے کھوٹ کو چھان پھٹک کر علیحدہ کر دیتے ۔ کچھ ایسی ہی صورتحال بی بی سی کی بھی ہوتی تھی جس کا جنوبی ایشیاء کیلئے نمائندہ پاکستان اور بھارت کے مابین مسلسل سفر میں رہتے ہوئے کبھی دہلی اور کبھی اسلام آباد اور کراچی میں قیام کرتا ، خبریں اور تبصرے فائل کرتا مگر لوگ جلد ہی جان گئے کہ موصوف کا جھکائو کسی حد تک بھارت کی جانب تھا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ بی بی سی سے ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے بھارت ہی میں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی ۔ نام تھا اس کا مارک ٹیلی۔ اس زمانے میں اس کا بہت چرچا رہتا تھا،خاصی مدت بعد عالمی دبائو پر پہلے پاکستان میں ایک دو پرائیویٹ ٹی وی چینل سامنے آئے اور پھر مشرف نے نجی ٹی وی چینلز کی بھرمار کردی۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے مابین ریٹنگ کی دوڑ چل پڑی اور بریکنگ نیوز‘ سب سے پہلے عوام تک خبر پہنچانے کے دعوئوں نے ایک اور مسئلے سے قوم کو دوچار کردیا۔ رہی سہی کسر مختلف لیڈروں کے جلسوں‘ پریس کانفرنسوں اور دیگر تقاریب کی لائیو کوریج نے پوری کردی جبکہ اب ہر طبقہ یہ توقع لگائے رکھتا ہے کہ انہیں بھی لائیو کوریج دی جائے بصورت دیگر دھمکیوں او نازیبا الفاظ سے ان چینلز کی ’’تواضع‘‘ کی جاتی ہے۔ اس طویل تمہید کا مقصد ان حالات پر تبصرہ کرنا مقصود ہے جس کا آج ان سطور کی تحریر کے وقت قوم و ملک کو سامنا ہے جبکہ پیمرا نے اسلام آباد‘ راولپنڈی دھرنے کی لائیو کوریج کے نتیجے میں صورتحال کے تقاضوں کے پیش نظر مبینہ طور پر وزیر اعظم کے حکم پر پورے ملک میں نجی ٹی وی چینلز کی نشریات کو عارضی طور پر بند کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرکے عوام کو خبروں سے محروم کردیا ہے۔ اس صورتحال پر الیکٹرانک میڈیا نے سخت تنقید کرتے ہوئے اس کیمضمرات سے حکومت کو باخبر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس پر یقینا غور کرنے کی ضرورت تو ہے تاہم نجی چینلز کی انتظامیہ کوبھی صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر اور پیمرا کے ساتھ مل کر ایک ایسا لائحہ عمل بنانے پر ضرور غور کرنا چاہئے جس کے نتیجے کے طور پر آئندہ ایسے حالات پیدا نہ ہوسکیں۔ میں اس سلسلے میں یہ تجویز ضرور پیش کروں گا کہ یہ جو سیاسی رہنمائوں اور دیگر طبقوں کی سرگرمیوں کو لائیو کوریج دی جاتی ہے ا س پر نظر ثانی کرتے ہوئے جلسوں‘ پریس کانفرنسوں وغیرہ کو ریکارڈ کرکے مناسب ایڈیٹنگ کے بعد خبروں کے بلیٹن کا حصہ بنایا جائے۔ اسی طرح جو ٹاک شوز شام سے ر ات گئے تک نشر کئے جاتے ہیں ان کو بھی پہلے ریکارڈ کرکے نشر کیا جائے۔ اس حوالے سے حکومت بلکہ وفاقی کے ساتھ صوبائی حکومتوں پر بھی ایک فرض عائد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ مختلف طبقات بشمول سیاسی دینی جماعتوں وغیرہ کو اپنے مطابات کے حوالے سے احتجاج کے لئے ہر بڑے شہر میں مخصوص مقامات کا پہلے سے تعین کرکے صرف تحریری اجازت نامے کے ذریعے متعلقہ حلقوں کو احتجاج کی اجازت دی جائے۔ اس سے جہاں عام لوگوں کو مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا وہیں ان سرگرمیوں کی لائیو کوریج پر بھی پابندی عائد کی جائے تاکہ ملک کے اندر افراتفری کی صورتحال پیدا نہ ہوسکے۔

اب آتے ہیں موجودہ صورتحال کی جانب یعنی ملک کے تمام ٹی وی چینلز پر عارضی طور پر بندش عائد کرنے کے فیصلے کی تو یقینا یہ ایک غلط سوچ ہے اور اس سے نہ صرف ملک کے اندر افواہوں کا بازار گرم ہوگا بلکہ اس کے انتہائی منفی نتائج پیدا ہونے کا بھی احتمال ہے۔ اس صورتحال سے پاکستان کی دشمن قوتوں کے لئے ملکی سلامتی کے خلاف اور خصوصاً فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لئے منفی پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملے گا جو کسی بھی حوالے سے ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر مادر پدر آزاد پروپیگنڈہ سر چڑھ کر بولے گا۔ بد قسمتی سے سوشل میڈیا پر پہلے ہی ملکی اداروں کے خلاف ایک طوفان بد تمیزی برپا ہونے کے ساتھ ساتھ لسانی اور فرقہ پرستی کے حوالے سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی مذموم کوششیں جاری ہیں۔ اس صورتحال سے نجات حاصل کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ٹی وی چینلز کی نشریات پر پابندی کا خاتمہ کیا جائے تاہم نشریات کو کسی قاعدے قانون کا پابند ضرور بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بقول حسن نثار

کچھ اور نہیں وعدہ تعبیر کے بدلے

ہم خواب فروشوں سے کوئی خواب خریدے

متعلقہ خبریں