Daily Mashriq


علماء اور سیاست‘ اتحاد و انتشار

علماء اور سیاست‘ اتحاد و انتشار

یہ بات تو شاید پاکستان کے ہر باشعور شہری کو معلوم ہو چکی ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں مذہب کو سیاست سے الگ رکھنا بہت مشکل کام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور پاکستانی قوم بقول اقبالؒ

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ

اور سیاست کو مذہب سے الگ رکھنا بھی نہیں چاہئے کیونکہ یہ مسلمان کی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ آج تک کسی نے (الا ماشاء اللہ) بھی مذہب کو صحیح معنوں میں سیاست میں استعمال نہیں کیا بلکہ جب کبھی ضرورت پڑی تو مذہب کا نعرہ لگایا اور مذہب کو اپنے دفاع‘ مفاد اور دیگر مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ علامہ اقبالؒ نے اس زمانے میں اسی بناء پر فرمایا تھا کہ ’’ اسلام کبھی خطرے میں نہیں ہوتا‘ ہم خطرے میں ہوتے ہیں تو اسلام ہمیں بچا لیتا ہے‘‘۔ اسی تناظر میں آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ’’ اسلام کے لئے کٹ مرنا آسان ہے لیکن زندہ رہ کر اسلام پر عمل پیرا ہوکرز ندگی گزارنا بہت مشکل کام ہے‘‘۔ پاکستان میں 1947ء سے یہ مسئلہ بلکہ کشمکش چلتی رہی ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ اس زمانے میں بڑے علماء و مشائخ بہر حال کچھ نہ کچھ اپنا بھرم رکھ لیتے۔ لیکن بعد میں تو اقتدار و مفادات کے حصول کے لئے ایسی اتھل پتھل ہوئی کہ عوام الناس کا مذہبی سیاست پر سے اعتماد اٹھتا چلا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایم ایم اے جس بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر بکھر گئی اور ما بعد آپس میں ایک دوسرے پر جو الزامات لگائے اس نے عوام کو مذہبی سیاست سے بہت بدظن کیا اور یہ بات اب اتنی عام ہے کہ علماء کو اسلام سے کوئی غرض نہیں۔ وہ سیاست میں مذہب کا استعمال کرتے ہوئے اصل میں اسلام آباد پر نظر رکھتے ہیں اور اسلام آباد میں جگہ بنانے کے لئے انہیں اپنے منشور و دستور کے خلاف بھی کرنا پڑے تو کوئی خاص مضائقہ محسوس نہیں کرتے۔اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں کو اپنے مزاج‘ سیاست اور منشور سے جوہری اختلاف رکھنے والی پارٹیوں کے ساتھ انتخابی اور اقتداری اتحاد قائم کرنے میں ضمیر کی کوئی خلش محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی عوام کی تنقید اور بد ظنی کوئی اہمیت رکھتی ہے اور بعض اوقات تو اتنی دلچسپ صورتحال پیدا ہوجاتی ہے کہ عوام الناس عش عش کر اٹھتے ہیں۔ مثلاً پاکستان کی بڑی مذہبی سیاسی جماعت‘ جمعیت علماء اسلام کو الٹرا بائیں بازو کی جماعت پیپلز پارٹی اور الٹرا دائیں بازو کی جماعت مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد قائم کرکے اقتدار کے مزے لوٹنے میں کوئی مشکل و تکلیف پیش نہیں آتی۔ اس طرح جمعیت علماء اسلام سے زیادہ اسلامی ہونے کی دعویدار جماعت اسلامی مسلم لیگ ن کے خلاف عدالتوں میں بھی پیش پیش ہوتی ہے اور آزاد کشمیر میں اس کو انتخابات میں سپورٹ بھی کرلیتی ہے اور وہ بھی خیبر پختونخوا میں اپنی اتحادی تحریک انصاف کے خلاف۔ یہی چیز عوام نوٹ کرتے ہیں اور پھر حجروں‘ چوپالوں‘ دکانوں‘ بسوں اور میڈیا پر زیر بحث لاتے ہیں کہ ’’ملا‘‘ بس اقتدار ہی کے لئے سیاست کرتے ہیں۔ اب اس وقت ایک دفعہ پھر مذہبی سیاسی جماعتیں عرصہ محشر میں ہیں۔ ایم ایم اے کی بحالی پر طرح طرح کے تبصرے رواں دواں ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اس کو ترپ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں ورنہ ان کو جماعت اسلامی کے ساتھ کوئی بھی اتحاد ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اور یہی حال جماعت اسلامی کا ہے کہ وہ اپنے موجودہ اتحادیوں کو کہنی مار کر اپنی اہمیت جتانا چاہتی ہے ۔ مولانا سمیع الحق نے دن کی روشنی میں میڈیا کے سامنے عمران خان اور پرویز خٹک سے ملاقات کرکے اتحاد کا ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کیا ہے۔ مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے لئے جو چار شرائط پیش کی ہیں وہ بہت معقول ہیں ۔ ہمارے ملک کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں لیکن خود بھول جاتے ہیں کہ میرا کردار کیا ہے۔ اس وقت عمران خان کو طالبان خان کا خطاب اور مولانا سمیع الحق پر صوبائی حکومت سے کروڑوں کے فنڈ کا حصول زبردست طریقے پر ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ ایک زمانے میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے بھی مدرسہ حقانیہ کے اندرہال کی تعمیر کے لئے ایک کروڑ روپیہ دیا تھا۔ اور وہ ہال آج بھی حقانیہ میں موجود ہے۔ اور ان شاء اللہ محترمہ کے لئے صدقہ جاریہ ہوگا۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو ایسی باتوں سے مطعون نہ کریں جو سب کرتے ہیں۔ مدارس کو فنڈ فرا ہم کرنا بہت اچھی بات ہے تاکہ وہ اپنے پائوںپر کھڑے ہو کر بیرونی اثرات سے محفوظ رہیں۔جہاں تک اتحادوں کا تعلق ہے ہر آدمی اور پارٹی آزاد ہے کہ جس کا جس سے دل کرتا ہو اس کے ساتھ اٹھے بیٹھے۔ البتہ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو اتنا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اتحادوں سے ان کے بنیادی منشور اور عوام کے مفادات متاثر و مجروح نہ ہونے پائیں۔ ایک دوسرے پر تنقید سے بھی گریز ہی بہتر ہے کہ آخر اس حمام میں سب ہی ایک ہی طرح ہیں۔

متعلقہ خبریں