قومی زندگی میں مکالمہ کی ضرورت

قومی زندگی میں مکالمہ کی ضرورت

سماجی زندگی میں ہرفرداپنے سماج سے بہت کچھ لے رہا ہوتا ہے تو ساتھ ہی سماج کو کچھ دے بھی رہا ہوتا ہے۔چاہے انسان کا تعلق کسی بھی منفعت پیشے سے کیوں نہ ہو یہ سماجی لین دین پہلی سانس سے لے کر لحد میں اترنے تک جاری رہتا ہے۔ شاعر یا ادیب بھی اسی سماج کاحصہ ہیں۔شاعروادیب بھی سماج ہی میں سانس لیتا ہے ،اسی سماج میں وہ زندگیگزارہا ہوتا ہے اور اسی سماج کو وہ بہت کچھ دے بھی رہاہوتا ہے۔شعر بجائے خود ایک علم ہی ہے۔ اپنی ساخت کے حوالے سے بھی اور اپنی تفہیم کے حوالے سے بھی۔شعر شاعرکی تخلیقی بنت کاری کا ایک شاہکار ہوتا ہے۔شاعر کی فکری سطح سماج کی فکری سطح سے بڑی حد تک بلند ہوتی ہے۔ شاعر کایہی فکری نتیجہ جب شعر کی صورت تخلیقی لبادہ اوڑھ کر سامنے آتا ہے تو سننے یا پڑھنے والے کو دو طریقے سے متاثر کرتا ہے ۔ایک تو اس شعر کی فکری جہت جو عام سطح سے بلند ہوتی ہے اس فکری سطح تک پہنچ کر قاری کو نہ صرف خوشی ہوتی ہے بلکہ اس کے وجدانی سفر کاایک نیا پڑاؤبھی میسر آتا ہے ۔ دوسرا شعر کا تخلیقی حوالہ ہے ۔حرف کی اپنی ایک طاقت ہوتی ہے ۔یہی حروف اگر گالی ،طعنہ ،یا غصے کی صورت میں ادا ہو تو سامع کی سماعتوں اور احساس پر برا اثرڈالتے ہیں لیکن کوئی میٹھی سی بات،محبت کا اظہار،پیاری سی نصیحت یاتعریفی کلمات سامع یا مخاطب کو خوشی اور انبساط سے آشنا کرتے ہیں ۔شاعر اپنافکری مواداپنے ارد گرد سے ہی حاصل کرتا ہے ۔اسی مواد کو اپنے تخلیقی نظام سے گزار کر شعر کی صورت پیش کرتا ہے تو اس شعر کی قدروقیمت بڑھ جاتی ہے ۔اس شعر کے سماج پربہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔شاعر اپنی سماجی قدروں کامحافظ ہوتا ہے ۔ شاعر تمام اعلیٰ سماجی صفات کو اپنے شعر میں توصیف بخشتاہے اور شعر پڑھنے والے کو بھی اس شعری توصیف کی وجہ سے ان اعلیٰ قدروں سے محبت ہوجاتی ہے ۔شاعر کا شعر کسی پھول کی خوشبو جیسا ہی تو ہوتا ہے ۔شعر سماج کے اعلیٰ جمالیاتی احساسات کاتعین کرتا ہے ۔ یہی جمالیاتی احساس انسانی سماج کے ان کھردرے رویوں کو ہموار کرتا ہے ۔یہی کھردرے رویے عوام کے تعصبات کو پروان چڑھاتے ہیں جو ایک وسیع تر سماج کے لیے عدم برداشت کی کیفیت پیدا کردیتے ہیں۔اس کے برعکس شعر قاری کی جمالیاتی تربیت کرتے کرتے اس کے اخلاقی نظام تک رسائی کرتے ہیں۔شعر کا اعجاز ہے کہ وہ قاری کے تعصبات کو کم سے کم سطح پر لے آتا ہے اور قاری انسان دوستی کے فلسفے کو سمجھنے لگتا ہے ۔شاعر کا مقام ہمیشہ سماج میں بلند رہتا ہے مگر جس سماج میں شعر کی قدر نہ رہے وہ سماج تعصبات کاگڑھ بن جاتا ہے ،عدم برداشت ایک عام رویہ بن جاتا ہے یوں وہ سماج جنگ وجدل کا شکار ہوجاتا ہے ۔بات سننا ،سنانا اورسمجھنا متروک ہوجاتا ہے اور صرف بات منوانا ہی دانشوری تصور کیا جاتاہے یہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے ۔ستر کی دھائی تک تخلیق کا رشتہ قاری کے ساتھ قائم تھا مگر پھر نہ جانے کیا ہوا کہ وہ رشتہ ایسا ٹوٹا کہ پھر اس نے جڑنے کا نام نہیں لیا۔تعصبات کا ایسا سلسلہ چلاااللہ کی پناہ۔ انسانیت کو اتنا رگیدہ گیا کہ خود انسانیت بھی شرمندہ ہے ۔بے شمار آوازوں میں کوئی بھی آواز سنائی نہیں دیتی ۔شعر وسخن کی بات کوئی نہیں کرتا ،کوئی بھی نہیں کہتا کہ 

گلوں میں رنگ بھرے،بادِنوبہارچلے
چلے بھی آؤکہ گلشن کا کاروبار چلے
مسئلہ بھی یہی ہے کہ کسی نیمسئلہ کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیںکی۔سکول کالج اپنی جگہ مگر وہ ادارے کون بحال کرے گا جو شعر کی خوشبو سارے سماج کے مشام جان میں پھیلادیتے تھے۔وہ آنہ لائبریریاں کہاں گئیں کہ جن میں علم و آگہی کے خزانے پنہاںتھے۔ادب کی پروموشن کے سرکاری ادارے کسی گلے کے قابل ہی نہیں کہ کچھ بھی نہیں کررہے ،گلہ تو تب ہوتا کہ جب دوسرے سرکاری ادارے کام کررہے ہوتے۔ ادب یوں بھی سرکاری چیز نہیں بلکہ عوامی فینامنا ہے ۔عوام کی تخلیق کار اور عوام ہی قاری۔مگر عوامی سطح پر بھی وہ بھیٹکیں ،چوپالیں ،حجرے باقی نہیں رہے کہ شعر وسخن کی بات ہو۔ملکی سطح پر دیکھا جائے تو ادب ادیب کا ہی مسئلہ رہ گیا ہے ۔ بہت سے اچھے لکھنے والوں کو کوئی نہیں جانتا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کمیونیکیشن کے اس دور میں شاعر ادیب اپنے اپنے علاقوں ہی میں اور اپنے حلقہ احباب ہی میں جانے پہچانے جاتے ہیں جبکہ ماضی میں جب فاصلے اتنے سمٹے نہیں تھے تب خیبرکے فارغ رضا کو پورے ادبی حلقوں میں جانا اور پہچانا جاتا تھا اور ان کا شعر بھی فاصلوں پر حاوی تھا ۔ آج ہم جس دور میں زندہ ہیں اور جو اس کے مسائل ہیں ان مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ عدم برداشت کا ہے ۔ ہر کوئی اپنی بات کو درست تو سمجھتا ہے لیکن کسی کی کوئی بات سننے پر آمادہ نہیں ہے ۔ وجہ یہی ہے کہ مکالمہ نہیں ہورہا ،مکالمہ دلیل سے جنم لیتا ہے اور دلیل ایک بہت بڑی حقیقت ہے ،دلیل کو دلیل ہی سے جھٹلایا جاسکتا ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں دلیل کی بجائے جذبات کا سہارا لے کر ، گالم گلوچ سے ، تعصب سے جواب دینے کا رواج ہے ۔ تعصب دوسرے کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کی دلیل اور اس کی بات کو سن سکتا ہے ۔ آج کے دور کا تقاضا ہے کہ دلیل کو پروان چڑھا یاجائے ، مکالمے کو زندہ کیا جائے اور ایسا اسی وقت ممکن ہے جب ہم حرف کی حرمت کو زندہ کریں گے ۔ حرف کا کاروبار کرنے والے شاعر ادیب کو پھر وہی مقام دینا ہوگا جومیر و غالب سے لے کر فیض وفراز کومیسر تھاتبھی گلشن کا کاروبار چل سکے گا۔

اداریہ