Daily Mashriq

دعوے نہیں عمل کر کے دکھائیں

دعوے نہیں عمل کر کے دکھائیں

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی دانست میں مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت کا قیام صوبے میں پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی کاانعام ہے وزیراعلیٰ کے اس بیان سے اتفاق ضروری نہیں البتہ ایک دلچسپ حقیقت یہ ضرور سامنے آئی کہ اس مرتبہ مرکز میں حکومت کے قیام اور حکومت سازی میںخیبر پختونخوا کے عوام کے دیئے گئے مینڈیٹ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا خود خیبر پختونخوا کے برسوں سے تبدیلی پسند فیصلے کی شہرت رکھنے والے عوام نے صوبے کی تاریخ میں دوسری مرتبہ حکمران جماعت کو صرف مینڈیٹ ہی نہیں دیا بلکہ تن تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں لے آئے اور اس جماعت کو خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی میں اکثریت دلانے کیلئے بھر پور حصہ ڈالا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے کے پس پردہ خیبر پختونخوا کی گزشتہ حکومت کی کارکردگی کی بجائے تبدیلی کا وہ نعرہ تھا جو صوبے کے حریت فکر کے مطابق فیصلے کرنے والے کو بھا گیا وگرنہ خیبرپختونخوا کے عوام سے بڑھ کر کسے معلوم ہوگا کہ ان کو اب بھی طبی اداروں میں علاج معالجے اور سہولیات کی عدم موجودگی کے مسائل کا سامناہے وہ اب بھی بچوں کی تعلیم کیلئے بھاری فیسیں دینے پر مجبور ہیں یعنی نہ تو نظام صحت اور نہ ہی نظام تعلیم میں باعث اطمینان تبدیلی اور اقدامات ہوئے ہیں اس کے باوجود ان کا تحریک انصاف پر اعتماد ان وعدوں اور دعوئوں سے امیدوں کی وابستگی اور تبدیلی کی امنگ سے امید وابستہ کرنا ہی ہے۔ ہوسکتا ہے جس کیلئے مرکز اور صوبے کی سطح پر حکومتوں کا پورا اترنا کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔ سابق دور میں خیبر پختونخوا میں کچھ بڑے حکومتی اقدامات سے یکسر انکار کی گنجائش نہیں سنجیدہ مساعی ضرور کی گئی مگر پولیس اصلاحات سے لیکر سونامی ٹری منصوبے تک کئی ایک منصوبے سابق صوبائی حکومت کے کھاتے میں آئے ہیں لیکن یہ سب کچھ وہ بھی نہیں جسے پی ٹی آئی کی قیادت بڑھاچڑھا کرپیش کررہی ہے۔ تحریک انصاف صوبے میں اپنی حکومت کی کارکردگی کو اس قسم کی مثال بنا کر پیش کرنے میں کامیاب ہوئی ہے کہ دوسرے صوبوں کے عوام یہ تاثر لینے پر مجبور ہیں کہ خیبر پختونخوا دیگر صوبوں سے بہت آگے نکل گیا ہے حالانکہ جہاں پولیس اصلاحات ہوئی ہیں وہاں محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا میں ایک ارب اکیس کروڑ روپے کی بے قاعدگیوں کی بھی آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مستند رپورٹ میںنشاندہی سامنے آئی ہے۔ جس میں زیادہ تر محکمہ پولیس سے متعلق ہیںبی آر ٹی منصوبے کی تفصیلات ابھی سامنے آنی ہیں۔ حکومت نے اگر بلین ٹری سونامی کے تحت جنگلات اگانے میں دلچسپی لی ہے تو خودسرکاری رپورٹ میں اس میں بد عنوانیوں کی بھی نشاندہی آڈٹ رپورٹ کا حصہ ہے۔ ایک جانب جنگلات اگانے کا سلسلہ جاری رہا اور دیر کے سیاحتی علاقہ کمراٹ کی سیاحت کو فروغ دینے کی سعی کی گئی تو ساتھ ہی کمراٹ کالام، چترال،کوہستان اور دیگر علاقوں میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کا داغ بھی دامن پر دھبہ ہے جسے بار بار نشاندہی کے باوجود دھونے کی سعی سامنے نہیں آئی۔ سیاسی طور پر ملنے والے مینڈیٹ پر اٹھنے والی انگلیاں بھی کم نہیں اور صوبے اور مرکز میں حکومت ملی نہیں بلکہ دلانے اورالیکشن نہیں سلیکشن تک کے الزامات دہرائے گئے لیکن بہر حال جب تک ان الزامات کو کسی مناسب فورم پر ثابت نہ کی جائے یہ الزامات ہی سمجھے جانے چاہئیں بالکل اسی طرح جس طرح پی ٹی آئی سابق حکومت پر الزامات لگاتی رہی مگر ثابت کچھ نہ ہوا۔موجودہ صوبائی حکومت کے کھاتے میں سودنوں کی تکمیل کے باوجود کوئی قابل ذکر کارکردگی سامنے نہیں آئی اور نہ ہی اچھی حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل میںسخت گیری اختیار کی گئی۔ ہمارے تئیں چونکہ صوبائی حکومت ایک ہی حکومت کا تسلسل ہے اس لئے یہاں کے عوام کا خیبر پختونخوا میں تبدیلی اور بہتری کیلئے زیادہ پر امید ہونا اور مایوسی پر تنقید بھی فطری امر ہوگا۔ گزشتہ حکومتوں میں سونامی ٹری منصوبے اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ میں سامنے آنے والی تفصیلات کوجھٹلانے کی کوشش اس پر پردہ ڈان اور غلطی تسلیم نہ کرنا ہے جو مناسب نہیں یہ حزب اختلاف کا شور شرابہ نہیں سرکاری آڈٹ رپورٹ ہے جسے ٹھکرانے اور جھٹلانے کی بجائے اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور معاملات طشت ازبام کرکے عوام کو احتساب کے عمل کا یقین دلایا جائے اور آئندہ اس قسم کی رپورٹ سے بچنے کی ٹھوس منصوبہ بندی اور سنجیدہ سعی کے ذریعے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اپنی کارکردگی اس حد تک بہتر بنائے گی کہ نہ صرف اس پر بعد میں آنے والی حکومت اور آڈٹ کے سرکاری ادارے انگلیاں نہ اٹھا سکیں بلکہ صوبے کے عوام اُن کی کارکردگی کی بنیاد پر تیسری مرتبہ بھی اُن پر اعتماد کی مہر ثبت کردیں ۔ایساتبھی ممکن ہوگا جب حقیقت پسندانہ پالیسیاںپوری تیاری کے ساتھ تشکیل دی جائیںاور اُن پر صدق دل کیساتھ عمل درآمد کی سعی کی جائے ۔ صوبے کے عوام کی مرکزی اور صوبائی حکومت سے جوتوقعات وابستہ ہیں اُن پر پورا اترنا کسی بڑے امتحان سے کم نہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں