Daily Mashriq

 سگریٹ پر پابندی کے قانون کی منظوری میں رکاوٹ

سگریٹ پر پابندی کے قانون کی منظوری میں رکاوٹ

خیبر پختونخوا میں تعلیم مافیا اور سگریٹ مافیا اس قدر طاقتور ہیں کہ ان کے اثرات کے باعث ان دونوں شعبوں میں قانون سازی تک ممکن نہیں۔ ایک غیر ملکی ادارے کی رپورٹ کے مطابقخیبر پختونخوا میں تمباکو کے استعمال، اس کی تجارت اور پیداوار محدود کرنے سے متعلق پیش کردہ قانون کی منظوری التوا کا شکار ہونا اس امر پر دال ہے کہ اس مسودہ قانون کی منظوری کی راہ میں سگریٹ ساز مزاحم ہو سکتے ہیں۔مذکورہ قانونی مسودہ ستمبر2016میں صوبائی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا لیکن اس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔مجوزہ قانون کے مطابق18سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ فروخت کرنے والے دکاندار پر جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ سکول اور کالجوں سے ایک سو میٹر کی حدود میں سگریٹ کی فروخت پر پابندی عائد ہوگی۔ مذکورہ بل کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص پر ایک ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا اور بار بار قانون توڑنے والوں پر10ہزارروپے جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے اور3ماہ قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے،مذکورہ قانون کا دستاویزی مسودہ6ماہ بعد خیبر پختونخوا کی کمیٹی کو بھیجا گیا تھا جس سے متعلق حکام کو خوف ہے کہ موجودہ سیاسی معاملات اور تمباکو کے کاروبار سے وابستہ بااثر افراد کی وجہ سے اس پر غور نہیں کیا گیاان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تمباکو کے کاشت کاروں کو یقین دہانی کروائی تھی کہ بل منظور ہونے سے قبل قانون سے متعلق ان کے تحفظات کو دور کیا جائے گا، خیبرپختونخوا خصوصاً مانسہرہ اور صوابی کے اضلاع میں تمباکو کی سب سے زیادہ تجارت کی جاتی ہے ، یہ علاقہ ملٹی نیشنل سگریٹ کمپنیوں کی توجہ کا مرکز ہے،حکام کا کہنا تھا کہ مذکورہ قانون کے مسودے سے متعلق کمیٹی کے کچھ اراکین تمباکو سے متعلقہ کاروباروں سے وابستہ تھے۔ خیبر پختونخوا میں نسوار پر پابندی اور اس کے استعمال کو محدود کرنے کی بھی باز گشت سنائی دی تھی جس پر عملدرآمد کا مشکل سوال اپنی جگہ جواب طلب ہے۔ صوبے میں تمباکو کی کاشت سے ہزاروں افراد کاروزگار وابستہ ہے اور تمباکو منافع بخش فصل ہے اس کے علاوہ نسوار کا بڑے پیمانے پر استعمال اور سگریٹ سازی اور سگریٹ کی فروخت سے بھی ہزاروں لوگوں کا کاروبار اور روزگار وابستہ ہے لیکن ان افادیات کے مقابلے میں تمبا کو کے استعمال سے پیدا ہونے والی مہلک بیماریاں اور ماحولیاتی آلودگی کے مسائل اتنے سنگین ہیں کہ اسے محدود سے محدود تر کرنے اور رفتہ رفتہ ختم ہی کرنے کی وکالت عوامی مفاد کا تقاضا ہے ۔ اس کاروبار سے وابستہ افراد کا اس قانون کی منظوری کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش حکومت اور قانون ساز ادارے دونوں کیلئے امتحان سے کم نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ افراد خواہ کتنے بھی با اثر کیوں نہ ہوں ریاست و حکومت اور عوام پر غالب نہیں آسکتے توقع کی جانی چاہیئے کہ اس ضمن میں جلد ہی پیشرفت ہوگی اور کسی کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔

غیر قانونی سمز کی فعالیت کا سنگین مسئلہ

خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقوں میں پابندی کے باوجود افغان موبائل سموں کااستعمال اب بھی جاری ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے لمحہ فکریہ اور عوام کیلئے شدید پریشانی کا باعث امر ہے ایک رپورٹ کے مطابق2017 اور سال رواں کے دوران اب تک بھتہ خوری کے لئے 341افغان نمبرز سے شہریوں کوکالز موصول ہو چکی ہیں، رواں سال بھتہ خور سرحدی علاقوں سے 125 افغان نمبروںسے رقم کی وصولی کیلئے کال کرچکے ہیں۔سی ٹی ڈی کی گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق سال 2017 میں مجموعی طورپرافغانستان کے موبائل نیٹ ورکس سے216 کالزبھتہ خوروںکی جانب سے کی گئیں۔افغانستان سے متصل اداروں میں پاک فوج کا مضبوط نیٹ ورک موجود ہے اور پاک فوج کے پاس جدید آلات کی بھی کمی نہیں اس لئے اس ضمن میں ان نمبروں کے حوالے سے اور اس ضمن میں پیش آنے والے واقعات پر پاک فوج سے رابط کرنے اور ان کی مدد کے حصول کی ضرورت ہے علاوہ ازیں ان نمبروں کو تکنیکی طور پر ناکارہ کرنے کے بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان علاقوں میں موبائل نمبروں سے ہونے والی کالوں پر کڑی نظر رکھنے اور مشکوک کالوں اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث افراد کی گرفتاری اور چھان بین کے بعد ضروری کارروائی کا عمل تسلسل سے ہونے کو یقینی بنا کر عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کیخلاف پاک فوج کے آپریشن سے علاقہ مکمل طور پر صاف اور پر امن بن چکا ہے ایسے میں اس قسم کے عناصر کی موجودگی جہاں حیرت کا باعث ہے وہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب دہشتگردوں کیخلاف بھر پور کارروائی سے علاقے کی تطہیر ہو چکی تو ان عناصر کی سرکوبی میںکیا امر مانع ہے ؟۔

متعلقہ خبریں