Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

’’حکومت گرانے کی تڑپ‘‘بیوروکریسی

ہمارے ممدوح اور کھلاڑیوں کے مغضوب سیاستدان قبلہ فضل الرحمن کا تازہ ارشاد یہ سامنے آیا ہے کہ ان کا بس چلے تو وہ پی ٹی آئی کی حکومت ایک دن بھی نہ چلنے دیں سب سے پہلے ہم یہ وضاحت کردیں کہ ہم مولانا خواہ وہ نام کا ہی مولاناکیوں نہ ہو دین سے اس کی نسبت کے باعث احترام لازم سمجھتے ہیں۔ جے یوآئی کے سربراہ کے لبوں سے یہ پھول جھڑتے ہی ہمارے لبوں پر خدا گنجے کو ناخن نہ دے کا محاورہ تو آیا مگر لب نہ ہلے اس لئے کہ بندہ خود گنجا ہو لکھنا دھندا ہو اور تحریکی نہ ہو توخاموش ہی رہے تو اچھا مگر کیا کیجئے جے یو آئی(ف) کے سربراہ کی دکھتی رگ کا پھڑکنا دیکھا نہیں جاتا۔موصوف دوسری مرتبہ شکست کے خوف سے بنوں سے بھی انتخاب لڑنے کی ہمت نہ کرسکے وگرنہ عدم تسلیم شدہ قومی اسمبلی میں بیٹھا ہوتا۔ماہی سیاست کا ہو یا دریا کے پانی سے نکالو تو تڑپ تڑپ کرجاں دے دیتا ہے بس فرق صرف اتنا ہے کہ سیاست کا ماہی تڑپتا رہتا ہے اور دریا کاماہی توے پر آخری بار نظر آتا ہے ۔ یار زندہ صحبت باقی ان کو خاطر جمع رکھنا چاہیئے اقتدار آنی جانی چیز ہے اس نامراد کرسی اقتدار پر کوئی کب تک رہے کوئی دوسرا آئے تو اسے بھی موقع ملنا چاہیئے جیسا کہ ٹرک کے پیچھے لکھا ہوتا ہے۔

’’تپڑ‘‘ ہے تو پاس کر ورنہ’’ برداش‘‘ کر

یہ منظور نہیں تو پھر

کون جیتا ہے تیرے زلف کے سر ہونے تک

پانچ سال بعد نجانے سیاست کا منظر نامہ کیا ہو ہم اپنے ممدوح کی اچھی صحت کیلئے دعا گو ہیں۔

دعاتو بیورو کریسی نے بھی کافی کی ہوگی کہ خیبرپختونخوا میں جے یو آئی کی حکومت آئے پی ٹی آئی کی نہیں مگر کھلاڑی چھا گئے اور اب بیوروکریسی سے ٹھن گئی ہے سچی بات یہ کہ کھلاڑی بیوروکریسی کے سامنے اناڑی ہیں بیورو کریسی بھلے کھل کے نہ کھیلے مگر کرسی توڑتی ہے اور سالوں کرسیاں توڑنے کے بعد ہی کہیں جا کر بیوروکریٹ کی رخصتی کا وقت آتا ہے کھلاڑی ابھی دوسری بار میدان میں اترے ہیں مگر بیوروکریسی کے اڑیل گھوڑے کی باگیں دسترس میں نہ آئیں۔حکومت کو سمجھنا چاہیئے کہ دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر نہیں رکھا جاتاجبکہ بابو بھی زیادہ بابوگری نہ دکھائیں آخر وہ ہیں تو بابونا۔ بابائے مشرقیات کا کہنا ہے کہ اکبر بادشاہ بھی نورتن تھے اور ان سے پوچھ پوچھ کر وہ قدم اٹھانے تھے ان کو دین الٰہی کا مشورہ نہ دیا جاتا یا وہ اسے قبول نہ کرتے تو اکبر بادشاہ تو اکبر بادشاہ تھے۔ وزیر اعلیٰ محمو د خان نورتن رکھتے ہیں کہ دس وزراء اور مشیروں کی فوج بھی رکھیں مگر بیورو کریسی کونہ تو ناراض کریں نہ ڈھیل دیں ان کو ساتھ لیکر چلیں نہیں تو رسہ کشی کا کوئی مقابلہ رکھیں اور بیوروکریسی سے ر سی چھین لیں ایسا ممکن نہیں اور واقعی نہیں تو پھر سیانے کہتے ہیں کہ جس بلا سے خلاصی ممکن نہ ہو اسے گلے سے لگا لوجس کا ہماری طرح ہر صاحب اولاد کو تجربہ ہے۔

متعلقہ خبریں