Daily Mashriq

دہشت گردی اور یاد ِماضی کا عذاب

دہشت گردی اور یاد ِماضی کا عذاب

ملک میں دہشت گردی کو مجموعی طور پچھاڑ دیا گیا ہے مگر دہشت گردی کے پے در پے واقعات کے باعث یوں لگ رہا ہے کہ تنِ مردہ میں جان ابھی باقی ہے ۔ خیبر پختونخوا کے علاقے ہنگو میں دہشت گردی اور بلوچستان میں چینی قونصلیٹ پر حملے نے پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی ابھی پوری طرح ختم نہیں اور اگر اس خطرے سے ذرا بھی نظر چُوک گئی تو یہ ایک بار پھر ریاست کے لئے سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔اس لئے دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملے میں پاکستان کے پاس بطور ریاست اب غلطی اور غفلت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ۔ اس سے پہلے دو ایسے اندھے قتل ہوئے جن میں پاکستان اور اس کے ریاستی اداروں کی صلاحیت او رکارکردگی کے آگے کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔یہ ہیں مولانا سمیع الحق اور ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کے لرزہ خیز واقعات جو کئی ہفتے گزرنے کے باوجود اندھے قتل ہیں۔ریاست کی خاموشی بتا رہی ہے کہ ابھی تک ان چکرا دینے والی وارداتوں نے ماہرین کو چکرمیں ہی ڈال رکھا ہے اور وہ کوئی حتمی نتیجہ اخذکرنے سے قاصر ہیں۔قتل کی دو وارداتوں کا عام آدمی سے کوئی لینا دینا نہیں یہ ہماری ریاست اور اس کے ماہر اداروں کے لئے ایک مستور پیغام تھا ۔پیغام دینے والے کون ہیں ؟یہ انہیں بخوبی معلوم ہوگا کہ جن کے نام یہ پیغام تھا؟ شاید پیچیدہ طریقہ کار تک پہنچنا باقی ہے اور یہی اصل کام ہے۔ملک میں جاری دہشت گردی کے کئی اسباب اور عوامل ہیں۔ان میں کچھ مقامی اور زیادہ تر بیرونی ہیں۔کچھ کا تعلق ماضی میں ریاست کی پالیسیوں ،وقتی ضرورتوں اور مصلحتوں سے ہے ۔تاہم مجموعی طور پر یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان کی ریاست اب دہشت گردی کا خاتمہ ملمع سازی اور مصنوعی انداز سے کرنے کی بجائے اس کو کسی بھی شکل میں قبول کرنے پر تیار نہیں اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف زورآزمائی اور طاقت سے ممکن نہیں۔ابھی تک دیکھا یہ گیا ہے کہ دہشت گردی کے عالمی کرداروں کو خام مال پاکستان سے با آسانی دستیاب ہے۔

چینی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے میں شریک تین افراد اور ان کے سہولت کار پاکستانی شہری تھے ۔ان میں ایک تو باقاعدہ ریاست کا تنخواہ دار ملازم بھی تھا ۔اسی طرح دہشت گردی اور خود کش حملوں کے مرکزی ملزم بھی اکثر پاکستانی شہری ہی ہوتے ہیں ۔اس سے انداز ہ ہورہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لئے جذباتی جواز تلاش کیا جاتا ہے جسے پھر کسی پاکستانی باشندے کے ذہن میں ٹیکے کی طرح اتارا جاتا ہے ۔اسی نشے میں ایک پاکستانی باشندہ اپنی ہی ریاست کے خلاف خودکش جیکٹ پہن کر موت کی راہ پر چل پڑتا ہے ۔یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ کلبھوشن جیسے بیرونی کرداروں کو پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے پاکستانی شہری دستیاب ہو جاتے ہیں۔دہشت گردی کے اس پہلو پر بہت سنجیدگی سے سوچ وبچار کی ضرورت ہے ۔اگر بیرونی ہاتھوں کومقامی انسانی ہتھیار ملنا بند ہوجائیں تو ان کے لئے پاکستان میں اپنا کھیل کھیلنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو کر رہ جائے گا ۔دشمن کے لئے ہمارے اپنے لوگوں کا نرم چارہ اور آسان ہدف بننا لمحہ فکریہ ہے ۔اس کی وجہ ریاست کی پالیسیوں میں بھی تلاش کی جا سکتی ہے ۔بہت سے حلقوں کی جانب سے یہ سوال اُٹھایا جانا قرین انصاف ہے کہ جنرل پرویز مشرف اور ان کے جانشین جس جنگ کو پاکستان کی جنگ قرار دیتے رہے اب عمران خان اسے قطعی’’ ڈس اوون‘‘ کرکے امریکہ کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔گزشتہ دہائی میں جب یہ کھیل زوروں پر تھا اور دہشت گردی کی گردان میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی تواس ملک میں ایک بڑا طبقہ ایسا تھا جو یہ کہہ رہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ درحقیقت امریکہ کی جنگ ہے مگر اس وقت جنرل مشرف ڈمہ ڈولہ کے معصوم بچوں کی امریکی ڈرون میں شہادت کو اپنی فورسز کی کارروائی قرار دے کر امریکہ کا گند بلاوجہ پاکستان کے سر پر منڈھ رہے تھے ۔پرائی آگ میں اپنے ہاتھ اورمنہ جلانے کی اس حکمت عملی نے پاکستان کو دہشت گردی کی دلدل میں دھکیل دیا ۔پاکستانی ریاست کے موقف کے اندر پنہاں تضادات نے دہشت گردی کو تقویت دینے میں بنیادی کردار ادا کیا ۔امریکہ نے جان بوجھ کر پاکستان کے حکمرانوں سے ایسی حماقتیں کرائیں کہ امریکہ کے دشمن مڑ کر پاکستان پر ہی پل پڑے۔ پاکستان جس خطے میں واقع ہے یہاں مدتوں سے ایک ’’بڑا کھیل‘‘ چل رہا ہے ۔ماضی میں یہ علاقہ سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان میدان جنگ تھا اور اب یہاں امریکہ اور چین کے درمیان جنگ زوروں پر ہے اور سوویت یونین کی سکڑی ہوئی شکل یعنی روس اور بھارت بھی اپنا متعین کردار ادا کر رہے ہیں۔پاکستان اس معاملے میں اپنے مقام اور مدار کا تعین کر بیٹھا ہے ۔وہ امریکہ سے تعلقات قائم رکھتے ہوئے چین کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کر چکا ہے مگریہ فیصلہ امریکہ اور بھارت کو قبول نہیں ۔اس لئے وہ پاکستان کو اپنی آزاد روی کی نئی پالیسی کی سزا دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔دہشت گردی کی ایک اہم جہت اور پرت یہی ہے ۔ریاست پاکستان دہشت گردی کی اس شکل سے لڑ رہی ہے مگر جہاں امریکہ اور بھارت جیسے ملکوں کے وسائل اور ذہن ہوں وہاں آسانی سے سو فیصد ہدف حاصل کرنا آسان نہیں۔پاکستان نے دہشت گردی کی ہر شکل کے مقابلے کے لئے اپنی استعداد بڑھائی تو ہے مگران واقعات کو سو فیصد کامیابی سے روکنا مشکل ہے۔جب تک دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے اس سے نمٹنے کے کام سے لمحہ بھر کو غافل نہیں ہوا جا سکتا ۔اس کے لئے ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے اپنا گھر اور ذہن ٹھیک رکھنا از حد ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں