Daily Mashriq

چھوٹے بڑے واقعات کے اثرات

چھوٹے بڑے واقعات کے اثرات

کئی ایک ایسی خبریں اور باتیںمیڈیا کے ذریعے سامنے آتی ہیں جن میں سے بعض پر تفصیلی رائے، بعض پرتبصرہ اور بعض پر دھواں دھار لیکچر دینے کو جی چاہنے لگتا ہے، اور بعض ایسے موضوعات بھی ہوتے ہیں جن پر نہ پورا کالم لکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔مثلاًکراچی میں پاکستان کے گہرے دوست چین کے قونصل خانے پر دہشتگردوں نے حملہ کیا۔ وزیراعظم نے فرمایا کہ چین کے کامیاب دورے کے بعد’’کچھ ہونے‘‘ کا خطرہ تھا ۔اللہ کے بندے جب آپ کی سیاسی دانش اور چھٹی حس خطرے کی بو سونگھ رہی تھی تو کم از کم چین کے سفارت خانے، قونصل خانے اور دیگر متعلقہ افراد ومعاملات کی سیکورٹی معمول سے ہٹ کر کروانے کی ضرورت تھی۔ شکرہے کہ چینی قونصل خانے کے سفارتکار محفوظ رہے ۔ لیکن مستقبل میں اس حوالے سے ضرورت سے بھی زیادہ الرٹ اور حساس رہنے کی ضرورت ہے۔ قونصل خانے کے گیٹ پر مامور محافظ اور پولیس والوں نے کمال فرض شناسی کا مظاہرہ کرکے جو قربانی پیش کی، اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے، لیکن حکومت کو چاہیئے کہ جہاں کہیں بھی ایسا واقعہ ہو جس میں غریب خاندانوں کے افراد شہید ہو جائیں، فوری طور پر اُن کے بال بچوں کیلئے شہید پیکج پہنچنا چاہیے تاکہ اُن کے ضعیف والدین اورچھوٹے بچے کسی مالی تکلیف کا سامنا نہ کریں۔ کم از کم ماہوار تنخواہ تو بغیر کسی رکاوٹ کے ملتی رہنی چاہیئے۔ اس کے علاوہ ایسے شہداء کو میڈیا پر مناسب تعارف اور داد بھی ملنی چاہیئے۔اسی طرح ہمارے میڈیا کے وہ لوگ ’’جو مسنگ پرسنز‘‘کا کبھی کبھی بہت واویلا کرتے ہیں، اب اس موضوع پر بھی کوئی تحقیقی کام یا فلم وغیرہ بنوا کر سامنے لے آئیں کہ چینی قونصل خانے پر حملہ کرنے والوں میں مسنگ پرسنز کہاں سے آموجود ہوئے۔ اور اسلم اچھوبھارتی ہسپتالوں میں کیا کر رہا ہے۔بلوچستان کے حقوق کے بارے میںبات کرنے اور کروانے والے اب اس کا بھی کوئی جواب دیںکہ بی ایل اے والے کس کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ یہ واویلا بہت کیا جاتا ہے کہ صحافت کا گلہ گھونٹا جارہا ہے۔ لیکن جس طرح پاکستان بذات خود ہمارے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ اس طرح پاکستان میں سیاسی،صحافتی ، ادبی اور معاشی آزادی بھی بہت بڑی نعمت ہے ورنہ پاکستان کے ارد گرد بڑے بڑے ممالک روس، چین، مشرق وسطیٰ، بھارت، ترکی اور بنگلہ دیش کا حال معلوم کرلیں تو پاکستان کے حالات پر الحمدللہ کہنا ہی پڑے گا۔لیکن آزادیٔ صحافت یا اظہار رائے کا مطلب اگر کوئی یہ لینا چاہتا ہے کہ ملک کی سا لمیت کے اداروں پر بھی منہ پھاڑ کر بات کی جائے تو ایسی آزادی نہ مل سکتی ہے اور نہ ملنی چاہیئے اور نہ ہی دنیا کے کسی ملک میں ہے ۔ ہر باشعور کومعلوم ہوتا ہے کہ میرے والدصاحب ، میری والدہ صاحبہ کے شوہر ہی ہیں، لیکن کوئی آدمی حتیٰ کہ مغرب کے آزاد پسند بھی اپنے والد کو ماں کا شوہر پکار کر مخاطب نہیں کرتے۔ بلکہ دنیا کے ہر ملک میں ادب واحترام کیساتھ باپ کو ابو، اور ڈیڈیاکسی اور مئودب لفظ سے پکارا جاتا ہے، ہر مذہب ریاست، ادارے اور حکومتوں میں ریڈ زون ہوتے ہیں۔ ریڈزون کا خیال رکھنے سے معاملات ٹھیک اور درست طور پر چلتے ہیں ہر کوئی اگر آزادی کے نام پر کسی بھی شعبہ زندگی میں ریڈزون کو کراس کرنا چاہے گا تو معاملات بگڑیں گے اور ریاست کے اندر ریاست کا تصور پروان چڑھے گا جس سے انار کی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔مکرر عرض ہے کہ پاکستان میں مذہبی عناصر کو اپنے اپنے مقام پر معاشرے اور حکومت میں بہت بڑا مقام ووقار حاصل ہے، میری دیدہ ودانستہ رائے ہے کہ مذہبی ادارے اور شخصیات عوام کی تعلیم وتربیت اور کردار سازی میں جتنا زیادہ کام کریں گے، اُتنی ہی اُن کی معاشرے میں عزت واحترام اور گرفت میں اضافہ ہوگا۔ اور عوام میں اپنی جڑیں گہری اور مضبوط بنانے سے ہر حکومت وقت پر ان کا اتنا اخلاقی دبائو رہے گاکہ حکومتی ادارے قرآن وسنت کی صریح خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیںسکیں گے لیکن اگر انہوں نے اس طرح مدارس اور مذہب کوسیاسی امور ومعاملات میں گھسیٹنے کو معمول بنایا اور ساتھ دیگر سیاسی جماعتوں میں سے کسی کے ساتھ مل کر حکومت پر دبائو ڈالنا چاہا تو عوام میں ان کی پذیرائی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔پاکستان میں وہ علماء جو بات بات پر حکومتی معاملات میں ٹانگ نہیں اڑاتے اور اپنے باوقار تعلیمی اداروں میں تحقیق و تعلیم کا کام کررہے ہیں،سواد اعظم کے ہاں قبولیت ومقبولیت کی سند رکھتے ہیں اس حوالے سے عثمانی برادران اس وقت سرفہرست ہیں۔ لیکن مذہبی سیاسی جماعتوں کے سربراہ علماء عوام کی اکثریت میں وہ شہرت نہیں رکھتے جو ایک عالم کو ملنی چاہیئے۔ مفتی منیب الرحمن رویت ہلا ل کے حوالے سے پہلے ہی بہت متنازع ہوگئے تھے ، لیکن اب ٹی ایل پی کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال کر رہی سہی عزت واحترام بھی شاید کھو بیٹھیں۔ حکومتی عہدے پر رہ کر کھل کر سیاسی معاملات میں دخیل ہونا کسی طور پر بھی جائز نہیں۔

ٹی ایل پی کے علماء رہنمائوں سے التماس ہے کہ آئین پاکستان کی روسے سیاسی ومذہبی سرگرمیاں کرنا ہر پاکستانی شہری کا حق ہے لیکن ملک کی سلامتی اور عوام کی جان، مال اور آبرو کی سلامتی کی یقین دہانی اور ضمانت ہر مسلمان اور پاکستانی پر فرض ہے۔ راستے سڑکیں اور شاہراہیں بند کرنا کسی قاعدے قانون میں جائز نہیں ۔ کسی نے کل کیا ہے ، آج کر رہا ہے یا کل کرے گا، سب غلط تھا، ہے اور رہے گا۔

متعلقہ خبریں